Preloader
Journalist community on full protest

اہم نکات (خلاصہ)

  • گرفتاری پر تشویش: ہری پور پریس کلب کے صدر حنیف اختر کی تھری ایم پی او (3-MPO) کے تحت گرفتاری نے خیبر پختونخوا اور بالخصوص ہزارہ ڈویژن کی صحافتی برادری میں شدید تشویش اور برہمی کی لہر دوڑا دی ہے۔
  • مشترکہ مشاورت: ہری پور پریس کلب کے قائم مقام صدر ابرار تنولی کی قیادت میں نمائندہ وفد نے ایبٹ آباد پریس کلب اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی مرکزی قیادت سے اہم اور تفصیلی ملاقاتیں کیں۔
  • پی ایف یو جے (PFUJ) کا عزم: صحافتی رہنماؤں نے گرفتاری کو آزادیِ صحافت پر قدغن قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو ملک گیر اور صوبائی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھانے کا اعادہ کیا۔
  • متفقہ لائحہ عمل: صوبے کے تمام پریس کلبز کو اعتماد میں لے کر ایک جامع اور مشترکہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

خبر کا پس منظر: خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور صحافتی چیلنجز

خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی و آئینی بحران اور گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امن و امان کی صورتحال اور انتظامی اقدامات میں غیر معمولی سختی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایسے حساس حالات میں، جہاں انتظامیہ تھری ایم پی او (Maintenance of Public Order) جیسے قوانین کا سہارا لے کر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے، وہیں صحافتی برادری کو بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

ہری پور پریس کلب کے صدر اور سینئر صحافی حنیف اختر کی 3-MPO کے تحت اچانک گرفتاری نے اس انتظامی طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ صحافتی تنظیموں کے مطابق، صحافی کا بنیادی کام حقائق کو عوام اور حکام کے سامنے لانا ہے، اور کسی صحافی کے خلاف پبلک آرڈر سے متعلق سخت قوانین کا استعمال براہِ راست آزادیِ اظہارِ رائے کو دبانے کی مترادف کوشش ہے۔

ہری پور پریس کلب کے وفد کی اہم ملاقاتیں

رپورٹ: رازم خان تنولی (ہری پور)

صدر ہری پور پریس کلب حنیف اختر کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر ہری پور پریس کلب کی قائم مقام قیادت نے فوری تحرک کا مظاہرہ کیا۔ ہری پور پریس کلب کے قائم مقام صدر ابرار تنولی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی صحافتی وفد نے ہزارہ ڈویژن کے صحافتی رہنماؤں سے الگ الگ ہنگامی ملاقاتیں کیں۔

وفد میں درج ذیل اہم عہدیداران شامل تھے:

  • یاسر خان (فنانس سیکرٹری، ہری پور پریس کلب)
  • ملک ارشد (جائنٹ سیکرٹری)
  • ڈاکٹر ارشد جمال (انفارمیشن سیکرٹری)
  • راجہ گل رحمان (سینئر صحافی)

وفد نے ایبٹ آباد میں ایبٹ آباد پریس کلب کے صدر سردار نوید عالم، سینئر صحافی سردار شفیق اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری شاہد چوہدری سے تفصیلی مذاکرات کیے۔

آزادیِ صحافت پر حملہ اور PFUJ کا سخت موقف

ان ہنگامی ملاقاتوں کے دوران صحافتی رہنماؤں نے صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور بالخصوص گورنر راج کے تناظر میں پریس کلب کے صدر کی گرفتاری کو آزادیِ صحافت کے خلاف ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا۔

ملاقات کے دوران طے پانے والے بنیادی نقاط درج ذیل ہیں:

  1. آزادیِ صحافت کا تحفظ: حنیف اختر کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کسی صورت قبول نہیں، یہ صحافیوں کی آواز کو بند کرنے کے لیے انتظامی طاقت کا بے جا استعمال ہے۔
  2. PFUJ کا پلیٹ فارم: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) اس معاملے کو صوبائی ہی نہیں بلکہ وفاقی سطح پر بھی اٹھائے گی اور قانونی و صحافتی محاذ پر حنیف اختر کا مکمل دفاع کیا جائے گا۔
  3. گورنر راج کے اثرات: رہنماؤں نے تشویش ظاہر کی کہ گورنر راج کی آڑ میں صحافیوں کو نشانہ بنانا اور ان کی تحریر و تقریر پر پابندیاں لگانا جمہوری قدروں کے منافی ہے۔

3-MPO کے تحت کارروائی اور صحافتی تشویش کا جائزہ

3-MPO (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) کا قانون بنیادی طور پر نقصِ امن کے خدشات کے پیشِ نظر استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم، صحافتی حلقوں میں اس کا اطلاق تشویش کا باعث بنتا رہا ہے۔

قانونی شق / نقطہانتظامیہ کا عمومی نقطہ نظرصحافتی برادری کا اعتراض
3-MPO کا نفاذنقصِ امن اور ہنگامی حالات کو روکنے کے لیے احتیاطی حراست۔بغیر کسی جرم اور ثبوت کے صحافیوں کو ڈرانے کا انتظامی ہتھکنڈہ۔
آزادیِ اظہار (آرٹیکل 19)آئینی حقوق لیکن سیکیورٹی اور امنِ عامہ کے تابع۔صحافتی ذمہ داری کی ادائیگی کو نقصِ امن سے جوڑنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
عدالتی چیلنجمجسٹریٹ/ضلعی انتظامیہ کے احکامات۔ہائی کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے اکثر 3-MPO کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

صوبائی سطح پر مشترکہ احتجاجی لائحہ عمل کا فیصلہ

ایبٹ آباد میں ہونے والی اس اہم مشاورت میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس اہم اور حساس معاملے پر صرف ہری پور یا ہزارہ ڈویژن تک محدود رہنے کے بجائے پورے صوبے کے صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا جائے گا۔

مستقبل کے لائحہ عمل کی حکمتِ عملی درج ذیل بنیادی مراحل پر مشتمل ہوگی:

  • تمام پریس کلبز کو اعتماد میں لینا: پشاور، مردان، سوات، کوہاٹ، بنوں اور دیگر تمام اضلاع کے پریس کلبز کی قیادت سے فوری رابطہ کیا جائے گا تاکہ ایک متفقہ اور مضبوط صوبائی مؤقف سامنے لایا جا سکے۔
  • احتجاجی تحریک کا امکان: اگر حنیف اختر کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا اور ان پر قائم 3-MPO کے احکامات واپس نہ لیے گئے تو صوبائی سطح پر ریلیوں، مظاہروں اور بلیک ڈے (یومِ سیاہ) کے انعقاد کی حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔
  • قانونی محاذ: ہائی کورٹ میں 3-MPO کے احکامات کو چیلنج کرنے اور قانونی جنگ لڑنے کے لیے قانونی ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

سماجی اثرات اور جمہوری قدریں

صحافتی برادری کا کہنا ہے کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، اور اگر صحافی ہی غیر یقینی صورتحال اور گرفتاریوں کے خوف کا شکار ہو جائیں تو عوام تک سچی اور غیر جانبدارانہ معلومات کی فراہمی ناممکن ہو جائے گی۔ صحافتی تنظیموں نے واضح کیا کہ حکام کو اپنے رویے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے اور مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت اور قانون کی بالادستی میں تلاش کرنا چاہیے۔

ایڈیٹوریل نوٹ

صحافتی معروضیت اور صحافتی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے قوانین کے نفاذ کے وقت آئینی حقوق اور آزادیِ صحافت کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

حنیف اختر کی 3-MPO کے تحت گرفتاری کے پیچھے ضلعی انتظامیہ یا حکام کی کیا وجوہات ہیں، ان کا باقاعدہ اور باضابطہ موقف سامنے آنا بھی باقی ہے۔ تاہم، صحافتی برادری کی جانب سے اٹھائی جانے والی تشویش اور احتجاج بالکل بجا ہے کیونکہ صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر سخت قوانین کے تحت حراست میں لینا جمہوریت اور آزادیِ اظہار کے لیے نیک فال نہیں ہے۔