Preloader
Restoration of labour laws demanded

اہم نکات (خلاصہ)

  • احتجاجی ریلی: جیکب آباد میں آل رائس مل یونین اور مزدور رہنماؤں کی جانب سے پرانی اناج منڈی سے پریس کلب تک پرامن احتجاجی مارچ۔
  • بنیادی مطالبات: ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں میں اضافہ اور لیبر قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی اپیل۔
  • مزدوروں کے مسائل: بنیادی سہولیات کا فقدان، سوشل سیکیورٹی کا نہ ہونا اور مہنگائی کے باعث روزمرہ زندگی کے اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات۔
  • حکام سے اپیل: اعلیٰ حکام اور محکمۂ محنت سے فوری نوٹس لینے اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ۔

جیکب آباد میں مزدوروں کا سڑکوں پر احتجاج

جیکب آباد (نامہ نگار): ملک بھر میں جاری معاشی بحران، مسلسل بڑھتی ہوئی گرانی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوسربا اضافے کے خلاف آل رائس مل یونین جیکب آباد کی جانب سے ایک پرشکوہ اور پرامن احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ احتجاجی مارچ پرانی اناج منڈی سے شروع ہو کر شہر کی مختلف اہم شاہراہوں سے ہوتا ہوا جیکب آباد پریس کلب پر اختتام پذیر ہوا۔

احتجاجی ریلی کی قیادت مزدور یونین کے ممتاز رہنما حاجی معشوق علی خارانی نے کی۔ ریلی میں چاول کی ملوں میں کام کرنے والے محنت کشوں، دہاڑی دار مزدوروں اور مقامی یونین نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی کے خاتمے، اجرتوں میں اضافے اور لیبر قوانین کے نفاد کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے شہر کے مختلف چوراہوں پر نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

مقررین کا خطاب: “مہنگائی کے اس دور میں دو وقت کی روٹی بھی محال ہوچکی ہے”

پریس کلب کے سامنے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یونین رہنما حاجی معشوق علی خارانی اور دیگر مقررین نے معاشی عدم استحکام اور روز افزوں مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

مقررین کا کہنا تھا:

“آج کے اس کٹھن دور میں جہاں بجلی، گیس، آٹا، دالیں اور ادویات عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، وہاں مزدور کو چند سو روپے کی قلیل اجرت پر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس قلیل آمدنی میں ایک گھرانے کا گزر بسر کرنا اور بچوں کا پیٹ پالنا ناممکن ہو چکا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں موجودہ لیبر قوانین صرف کاغذات کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ حقیقی معنوں میں صنعتی اور تجارتی اداروں میں ان قوانین کی شدید خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مزدوروں کو نہ تو مقررہ کم از کم اجرت دی جا رہی ہے اور نہ ہی انہیں ملازمتی تحفظ حاصل ہے۔

لیبر قوانین کی عدم پاسداری اور مزدور طبقے کی زبوں حالی

پاکستان میں محکمۂ محنت (Labor Department) کی جانب سے ہر سال کم از کم اجرت کا تعین کیا جاتا ہے، تاہم ضلعی سطح پر ان قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جیکب آباد جیسے زرعی و صنعتی خطے میں جہاں چاول کی ملیں اور اناج منڈیاں مقامی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، وہاں کام کرنے والے ہزاروں محنت کش غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔

مزدوروں کو درپیش اہم مسائل:

  1. کم از کم اجرت پر عدم عملدرآمد: حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ اجرت کے برعکس مزدوروں کو بہت کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔
  2. سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی (EOBI) سے محرومی: ملوں اور منڈیوں میں کام کرنے والے اکثریت مزدوروں کا اندراج سوشل سیکیورٹی اداروں میں نہیں ہے، جس کے باعث وہ طبی اور دیگر مراعات سے محروم ہیں۔
  3. غیر محفوظ حالاتِ کار: چاول کی ملوں اور منڈیوں میں حفاظتی تدابیر کے بغیر کام کرنے سے مزدور مختلف سانس اور جلد کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
  4. اوور ٹائم اور دیگر مراعات کی عدم ادائیگی: مقررہ اوقات سے زائد کام کرنے کے باوجود محنت کشوں کو اوور ٹائم کا معاوضہ نہیں دیا جاتا۔

مہنگائی اور معاشی پس منظر

جیکب آباد کا شمار سندھ کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں گرمی کے شدید موسم اور بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ روزگار کے وسائل بھی محدود ہیں۔ چاول کی صنعت اس خطے کے ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ تاہم، پچھلے کچھ عرصے سے بجلی کے بھاری بلوں، ایندھن کی قیمتوں اور پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے جہاں مل مالکان مشکلات کا شکار ہیں، وہیں اس کا سب سے بڑا نزلہ غیر ہنر مند اور دہاڑی دار مزدوروں پر گر رہا ہے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آٹے، چینی، گھی اور چاول جیسی بنیادی اشیاء کے نرخوں میں اضافے سے مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہو چکا ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج معالجہ اب ایک غریب محنت کش کے لیے خواب بن کر رہ گیا ہے۔

اعلیٰ حکام سے مطالبات

احتجاجی ریلی کے اختتام پر آل رائس مل یونین کے رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ حکام کے سامنے درج ذیل مطالبات رکھے:

  • اجرتوں میں فوری اضافہ: ملک میں موجودہ مہنگائی کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے مزدوروں کی ماہانہ اور روزانہ اجرت میں فوری اور معقول اضافہ کیا جائے۔
  • لیبر قوانین کا نفاذ: ضلعی انتظامیہ اور لیبر انسپکٹرز کو پابند کیا جائے کہ وہ تمام چاول کی ملوں اور اناج منڈیوں میں سرکاری نرخوں اور لیبر قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔
  • سوشل سیکیورٹی کارڈز کا اجراء: تمام محنت کشوں کا سوشل سیکیورٹی اور ای او بی آئی میں اندراج یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مفت طبی سہولیات میسر آسکیں۔
  • حفاظتی اقدامات: ملوں میں کام کے دوران مزدوروں کے لیے صحت و سلامتی کے معیارات (Safety Standards) کو نافذ کیا جائے۔

ایڈیٹوریل نوٹ و مستقبل کا لائحہ عمل

مزدور رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پر فوراً توجہ نہ دی گئی اور لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ کرایا گیا تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ان کا آئینی اور قانونی حق ہے اور وہ اپنے حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی حکومت، محکمۂ محنت اور مقامی انتظامیہ اس صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔ تمام فریقین—بشمول مل مالکان اور مزدور نمائندگان—کو ایک میز پر بٹھا کر ایسے منصفانہ حل کی طرف بڑھنا چاہیے جس سے صنعت بھی چلتی رہے اور محنت کشوں کو بھی ان کا جائز حق مل سکے، تاکہ وہ بھی ایک باوقار شہری کی طرح اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔