Preloader
Reality of death sentence for kissing

اہم نکات (خلاصہ)

  • سزائے موت پر عملدرآمد: سعودی وزارت داخلہ کے مطابق مکہ مکرمہ میں ایک مسجد کے تقدس کی پامالی اور منافیٔ اخلاق عمل کے الزام میں دو بنگلہ دیشی شہریوں (نذر الاسلام اور سیتی اختر) کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔
  • سوشل میڈیا کے غیر تصدیق شدہ دعوے: انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی خبروں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ نوبیاہتا جوڑا تھا جسے محض بوسہ لینے پر سزا دی گئی، تاہم سرکاری بیانات میں جرم کی حتمی نوعیت یا ازدواجی تعلق کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی گئی۔
  • وائرل ویڈیو کی حقیقت: سوشل میڈیا پر نشر کی جانے والی سر قلم کرنے کی خونریز ویڈیو کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں؛ فیکٹ چیک کے مطابق وہ ویڈیو 2015ء کی ایک برمی خاتون سے متعلق پرانی ویڈیو ہے۔
  • ڈپلومیٹک صورتحال: بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے مطابق انہیں سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی، جس پر ڈھاکہ نے سعودی حکام سے تفصیلی وضاحت طلب کر لی ہے۔

مکہ مکرمہ / ڈھاکہ (مانیٹرنگ ڈیسک): سعودی عرب کی ریاست مکہ مکرمہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو مسجد کے اندر مبینہ طور پر غیر اخلاقی حرکت اور مقدس مقام کی حرمت پامال کرنے کے جرم میں سزائے موت دیے جانے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک طرف اس واقعے کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی افواہیں اور غیر تصدیق شدہ ویڈیوز گردش کر رہی ہیں، وہیں سعودی عرب اور بنگلہ دیش کے سفارتی حلقوں کے درمیان اس کارروائی کے طریقہ کار اور پیشگی اطلاع کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

واقعے کا پس منظر اور سرکاری موقف

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، بنگلہ دیشی شہری نذر الاسلام عبدالبصیر اور خاتون سیتی (سویٹی) اختر کو مکہ مکرمہ کی حدود میں واقع ایک مسجد کے اندر شدید نوعیت کی غیر اخلاقی پیش رفت اور مذہبی مقام کے تقدس کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

قضیے کی عدالتی سماعت کے بعد تعزیر کے تحت دونوں ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور شرعی عدالت کے فیصلے و شاہی فرمان کے بعد اکتوبر میں سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت مساجد اور مقدس مقامات کی حرمت کی حفاظت، امن و امان کے قیام اور شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے، اور مقدس مقامات میں نازیبا افعال کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت ترین قانونی اقدامات کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے دعوے بمقابلہ حقائق (فیکٹ چیک)

واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر سنسنی خیز اور جذباتی معلومات کا ایک طوفان دیکھنے کو ملا۔ تاہم صحافتی تحقیقات اور فیکٹ چیکنگ اداروں کی جانب سے وائرل مواد کی چھان بین کی گئی تو کئی اہم تضادات سامنے آئے:

موضوع / نکتہسوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوےواقعی و تصدیق شدہ صورتحال
جرم کی نوعیتدعویٰ کہ نوبیاہتا جوڑے نے محض ایک دوسرے کا بوسہ لیا تھا۔غیر تصدیق شدہ: سعودی بیان میں “منافیٔ اخلاق عمل” لکھا گیا ہے، تاہم مخصوص عمل کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ازدواجی تعلقدونوں میاں بیوی تھے اور ہنی مون و عمرہ پر آئے تھے۔ابہم قائم: آزاد ذرائع اور سفارتی رپورٹس میں ان کے آپس میں شادی شدہ ہونے کے دعوے کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی۔
وائرل ویڈیوتلوار سے سر قلم کرنے کی ویڈیو اس واقعے کی بتائی گئی۔جھوٹا/گمراہ کن: تحقیقات کے مطابق وائرل ویڈیو 2015ء کی ہے جو ایک برمی خاتون ليلى بنت عبد المطلب کی سزا کی تھی۔
سزا کا طریقہ کارجلاد کے ذریعے سزائے موت کا ڈرامائی اور تفصیلی آنکھوں دیکھا حال۔غیر تصدیق شدہ: سعودی حکام نے سزا پر عملدرآمد کے طریقہ کار (Beheading یا کسی اور ذریعہ) کی سرکاری تصدیق نہیں کی۔

وائرل ویڈیو کا سچ اور حقائق کا بگاڑ

سوشل میڈیا فورمز (بالخصوص ایکس/ٹویٹر) پر ایک ہولناک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں ایک خاتون کو جلاد کے ذریعے سزائے موت دیتے ہوئے دکھایا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ مکہ میں سزا پانے والی بنگلہ دیشی خاتون کی ویڈیو ہے۔

فیکٹ چیک رپورٹس اور عکسی تحقیقات (Reverse Image Search) نے اس دعوے کو مکمل طور پر باطل ثابت کر دیا ہے:

  • مذکورہ ویڈیو جنوری 2015ء سے انٹرنیٹ پر موجود ہے۔
  • یہ ویڈیو میانمار سے تعلق رکھنے والی خاتون ليلى بنت عبد المطلب کی ہے جسے اپنی سات سالہ سوتیلی بیٹی کے قتل کے جرم میں سزا دی گئی تھی۔
  • اس پرانی ویڈیو کا اکتوبر میں پیش آنے والے اس بنگلہ دیشی شہریوں کے کیس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔

بنگلہ دیش کا سفارتی ردعمل اور تحفظات

اس واقعے کے بعد ڈھاکہ اور ریاض کے درمیان سفارتی سطح پر تحرک دیکھا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ اور جدہ میں واقع بنگلہ دیشی قونصلیٹ جنرل نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد سے قبل بنگلہ دیشی حکام یا سفارت خانے کو مطلع نہیں کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکومت کے ترجمان کے مطابق:

  1. پیشگی اطلاع کا نہ ہونا: بنگلہ دیش کو قانونی و سفارتی تقاضوں کے مطابق اپنے شہریوں کی سزائے موت کی پیشگی خبر نہیں دی گئی۔
  2. سفارتی وضاحت کا مطالبہ: ڈھاکہ نے سعودی حکام سے باقاعدہ مراسلے کے ذریعے واقعے کی مکمل تفصیلی رپورٹ اور شفاف معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
  3. میتیوں کی منتقلی: بنگلہ دیشی حکام سعودی عرب کے ساتھ رابطہ قائم کر کے قانونی عمل اور میتوں کی وطن واپسی یا تدفین کے معاملے پر پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

معروضیت اور صحافتی جائزہ

صحافتی اور ایڈیٹوریل نقطہ نظر سے اس کیس میں سنسنی خیزی کی بجائے حقائق کو ترجیح دینا انتہائی ضروری ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی عرب کی عدالتوں نے مقدس مقام کے تقدس کی پامالی پر تعزیری قانون کے تحت فیصلہ سناتے ہوئے سزا دی، وہاں دوسری طرف غیر تصدیق شدہ کہانیوں اور 2015ء کی پرانی ویڈیوز کو جوڑ کر معصومیت یا قصور وار ہونے کے گرد فرضی تناظر قائم کیا گیا۔

بین الاقوامی ایوی ایشن، قانونی اور سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی ملک کے اندر مقیم غیر ملکیوں کو وہاں کے قوانین اور مذہبی مقامات کے احترام کی پابندی کرنا لازمی ہوتا ہے، تاہم شفاف قانونی عمل اور سفارتی باہمی اطلاعات کا ہونا بھی مساوی اہمیت رکھتا ہے۔ فی الوقت بنگلہ دیش اور سعودی عرب کے متعلقہ دفاتر کے حتمی مشترکہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔