Preloader
NAB notices Dr. Amjad corruptions

اہم نکات (خلاصہ)

  • آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات: قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی اور ان کے 31 رشتہ داروں کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں اور غیر قانونی اقدامات کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
  • دریائے کابل کی اراضی پر میگا سٹی: نیب تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ نوشہرہ میں میگا سٹی کا منصوبہ دریائے کابل کی زمین پر بنایا گیا، جبکہ ہاؤسنگ اتھارٹی کے پاس اس کا کوئی قانونی انتقال یا قبضہ بھی موجود نہیں ہے۔
  • خاندانی و اقربا پروری کا الزام: صوبائی وزیر کی بیٹی کے نام ہائی رائز فلیٹ الاٹمنٹ سمیت 20 مرد اور 11 خواتین رشتہ داروں کے اثاثوں اور ہاؤسنگ اتھارٹی میں غیر قانونی تعیناتیوں کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا۔
  • سابق افسران کی بے ضابطگیاں: ہاؤسنگ اتھارٹی کے سابق سیکرٹری اور سابق ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے قواعد و ضوابط کے برعکس رہائش گاہیں حاصل کرنے کی بھی تصدیق ہو گئی ہے۔

پشاور (انورزیب خان / خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا میں مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کے نئے کیسز منظر عام پر آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبے کے محکمہ ہاؤسنگ میں اربوں روپے کے ایک اور سنگین مالی و انتظامی سکینڈل نے جنم لیا ہے، جس میں صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی سمیت محکمہ کے سابق اعلیٰ حکام قومی احتساب بیورو (نیب) کی گرفت میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

نیب خیبر پختونخوا نے صوبائی وزیر کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے، عہدے کا ناجائز استعمال کرنے اور اقربا پروری کے الزامات کے تحت تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔

دریائے کابل پر میگا سٹی منصوبے کی سنسنی خیز تفصیلات

نیب کی جاری تحقیقات میں یہ حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے کہ ضلع نوشہرہ میں جو ‘میگا سٹی’ کا منصوبہ تیار کیا گیا، وہ دراصل دریائے کابل کی سرکاری اراضی پر قائم کیا جا رہا ہے۔ سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے پاس اس اربوں روپے کے منصوبے کا نہ تو کوئی قانونی انتقال موجود ہے اور نہ ہی اس اراضی کا باقاعدہ قبضہ اتھارٹی کے پاس ہے۔

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق، قومی احتساب بیورو نے (سابق) ڈائریکٹر عمران وزیر کو جاری کردہ ایک خفیہ نوٹس میں درج ذیل اہم دستاویزات اور ریکارڈ کی فوری فراہمی کی ہدایت کی ہے:

  • پرائیویٹ فرم سے معاہدے: فروری 2022 (15، 16 اور 22 فروری) کے دوران ‘لیڈ پرائیویٹ لمیٹڈ’ کے چیف ایگزیکٹو اور وزیر ہاؤسنگ کے مابین طے پانے والے تمام تحریری معاہدوں کی اصل تفصیلات۔
  • مشترکہ جائزہ کمیٹی: 24 فروری 2022 کو منصوبے کا مشترکہ دورہ کرنے والی سرکاری کمیٹی کے تمام ارکان کے نام، شناختی کارڈ نمبرز، نوٹ شیٹس اور متعلقہ سفارشی دستاویزات۔
  • جوائنٹ ونچر (JV) کا ریکارڈ: جوائنٹ ونچر ریگولیشن 2021 کے تحت ‘لیڈ پرائیویٹ لمیٹڈ’ کو جاری کردہ نوٹسز، سائٹ سروے، تکنیکی اور مالی امور، نیز اراضی کے حصول سے متعلق تمام بنیادی کاغذات۔
  • محکماتی خط و کتابت: محکمہ آبپاشی (ایریگیشن)، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (TMA)، اور محکمہ زراعت کے ساتھ کی گئی تمام باضابطہ خط و کتابت۔

اقربا پروری کے الزامات: صوبائی وزیر کے 31 رشتہ دار نیب کے زیرِ غور

نیب نے تحقیقات کا دائرہ صرف منصوبوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی اور ان کے اہلخانہ و دیگر رشتہ داروں کے اثاثوں کی بھی باریک بینی سے جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ نیب نوٹس کے مطابق، ڈاکٹر امجد کے خاندان کے 31 ارکان (20 مرد اور 11 خواتین) کے ناموں پر خریدی یا فروخت کی گئی تمام رہائشی، تجارتی اور صنعتی اراضی کا مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے۔

بیٹی کے نام فلیٹ کی الاٹمنٹ کا معاملہ

نیب کی دستاویزات کے مطابق ورسک 1 پر قائم ہائی رائز فلیٹس پروجیکٹ میں صوبائی وزیر کی صاحبزادی (مسماۃ ‘ث’) کو تیسری منزل پر فلیٹ نمبر A04 الاٹ کیا گیا۔ اس الاٹمنٹ کو بنیادی نکتہ بناتے ہوئے نیب نے خاندان کے دیگر تمام 31 ارکان کے نام پر قائم منقولہ و غیر منقولہ جائیدادوں کا حساب طلب کیا ہے۔

اس کے علاوہ، ڈاکٹر امجد علی پر یہ بھی سنگین الزام ہے کہ انہوں نے اپنے بااثر عہدے کا استعمال کرتے ہوئے اپنے متعدد رشتہ داروں کو خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی میں خلافِ قواعد اہم عہدوں پر تعینات کروایا۔

سابق سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل کے خلاف بے ضابطگیوں کا ثبوت

محکمہ ہاؤسنگ میں کرپشن اور ضوابط کی خلاف ورزی کا معاملہ صرف صوبائی وزیر تک محدود نہیں بلکہ سابق اعلیٰ بیوروکریسی بھی اس کی زد میں آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق:

  1. خیبرپختونخوا ہاؤسنگ اتھارٹی کے سابق سیکرٹری اور سابق ڈائریکٹر جنرل (DG) نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خلافِ قواعد و ضوابط رہائش گاہیں حاصل کیں۔
  2. اس معاملے پر بنائی گئی اعلیٰ سطحی التحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان اقدامات کو مکمل طور پر غیر قانونی اور سرکاری ضوابط کی شدید خلاف ورزی قرار دیا۔

نیب نوٹس اور تحریری مانگے گئے ریکارڈ کا خلاصہ

شعبہ / موضوعمانگی گئی تفصیلات / دستاویزات
میگا سٹی نوشہرہاصل ریکارڈ، سائٹ سروے، اراضی کی منتقلی، اور خط و کتابت (ایریگیشن، TMA، زراعت)
نجی کمپنی معاہدہلیڈ پرائیویٹ لمیٹڈ اور وزیر ہاؤسنگ کے درمیان فروری 2022 کے تمام معاہدے
خاندانی اثاثےوزیر ہاؤسنگ کے 31 رشتہ داروں (20 مرد، 11 خواتین) کی جائیدادوں کی خریدو فروخت کا ریکارڈ
فلیٹس الاٹمنٹورسک 1 پروجیکٹ کی تیسری منزل پر الاٹ شدہ فلیٹ A04 اور دیگر الاٹمنٹس کا ڈیٹا
انتظامی تحقیقاتسابق سیکرٹری و DG ہاؤسنگ اتھارٹی کے غیر قانونی رہائش گاہیں لینے پر بننے والی کمیٹی رپورٹ

متعلقہ حکام اور نیب کا موقف

اس تمام معاملے پر جب (سابق) ڈائریکٹر عمران وزیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس کیس کی مکمل چھان بین کر رہا ہے اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ چونکہ معاملہ ابھی ابتدائی اور قانونی تحقیقات کے مرحلے میں ہے، اس لیے وہ فی الحال اس پر کوئی رسمی یا حتمی رائے دینے سے قاصر ہیں۔

ایڈیٹوریل تجزیہ و پس منظر

خیبر پختونخوا کے محکمہ ہاؤسنگ میں منظر عام پر آنے والا یہ سکینڈل صوبے میں گڈ گورننس، شفافیت اور احتساب کے دعووں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سرکاری اراضی بالخصوص دریاؤں کی زمینوں کو تحویل میں لیے بغیر منصوبے شروع کرنا نہ صرف خطیر سرکاری رقوم کے ضیاع کا سبب بنتا ہے بلکہ اس سے قانونی پیچیدگیاں بھی جنم لیتی ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر نیب کی تحقیقات میں تمام الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف صوبائی کابینہ اور متعلقہ محکمے کے وقار کو شدید دھچکا لگے گا، بلکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور جوائنٹ ونچر (JV) ریگولیٹری فریم ورک پر بھی عوامی اعتماد متزلزل ہو گا۔ تمام نظریں اب اس بات پر ٹکی ہیں کہ ہاؤسنگ اتھارٹی نیب کو مطلوبہ ریکارڈ کس حد تک فراہم کرتی ہے اور احتساب بیورو اس اہم کیس کو کس منطقی انجام تک پہنچاتا ہے۔