اہم نکات (خلاصہ) اچانک دورہ: اسسٹنٹ کمشنر کوٹری عبدالشکور سولنگی نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور غیر قانونی تجاوزات کی شکایات پر مرکزی روڈ کا تفصیلی معائنہ کیا۔ جرمانے اور سیل: سرکاری نرخ نامے آویزاں نہ کرنے اور قوانین کی خلاف ورزی پر پچاس ہزار روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے جبکہ ایک دکان کو سیل کر دیا گیا۔ تجاوزات کے خلاف وارننگ: عوامی آمدورفت میں رکاوٹ بننے والے دکانداروں کو فوری طور پر تجاوزات ختم کرنے کی سخت تنبیہ کی گئی۔ انتظامی عزم: وزیراعلیٰ سندھ اور ڈپٹی کمشنر جامشورو کی ہدایات پر اس طرح کی کارروائیوں کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مرکزی روڈ پر انتظامی چھاپہ اور کارروائی کا احوال کوٹری (خاص رپورٹ – محمد نصیر ساگر): سندھ کے تاریخی شہر کوٹری میں مہنگائی سے ستائے عوام کے لیے ایک خوش آئند قدم اٹھاتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے حرکت میں آکر ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت گیر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی مصنوعی قیمتوں میں ہوشربا اضافے اور مرکزی راستوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی لاتعداد شکایات موصول ہونے پر اسسٹنٹ کمشنر کوٹری عبدالشکور سولنگی نے کوٹری کے مرکزی روڈ کا ہنگامی اور اچانک دورہ کیا۔ دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر نے سبزی فروشوں، گروسری اسٹورز اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں کا براہِ راست معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ اکثر دکانداروں نے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری نرخ نامے نمایاں جگہوں پر آویزاں نہیں کیے ہوئے تھے، اور اندرونی طور پر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا تھا۔ انتظامیہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی پر پچاس ہزار روپے سے زائد کے مجموعی جرمانے عائد کیے، جبکہ قانون کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر ایک مرکزی دکان کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا۔ تجاوزات کا خاتمہ اور عوامی آمدورفت میں سہولت کوٹری کے مرکزی روڈ پر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کی جانب سے فٹ پاتھوں اور سڑک کے حصوں پر ناجائز تجاوزات قائم کرنے کی وجہ سے راہگیروں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے اس صورتحال کا سخت نوٹس لیتے ہوئے موقع پر موجود تمام افراد کو تنبیہ کی کہ وہ فوری طور پر اپنی تجاوزات کو ازخود ختم کر لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سڑکیں اور فٹ پاتھ عوام کے چلنے کے لیے ہیں، اور تجارتی مفاد کی آڑ میں کسی کو بھی شہریوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی دکاندار یا تاجر مقررہ حد سے تجاوز کرے گا، اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر کوٹری کا دوٹوک موقف اور پالیسی بیان کارروائی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر عبدالشکور سولنگی نے کہا کہ عام شہریوں کو روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء مقررہ اور مناسب سرکاری نرخوں پر فراہم کرنا ضلعی انتظامیہ کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی بھی صورت میں ناجائز منافع خوری اور سرکاری نرخ ناموں کی عدم تعمیل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کارروائیاں کسی ذاتی رنجش کے تحت نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور اعلیٰ انتظامیہ کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا: وزیراعلیٰ سندھ اور ڈپٹی کمشنر جامشورو کی واضح ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ غریب عوام کو مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔ ضلعی سطح پر سرکاری قیمتوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ تجاوزات کے مکمل خاتمے تک اس مہم کو شہر بھر میں وسعت دی جائے گی۔ کارروائی کے دوران شریک انتظامی عملہ اس اچانک چھاپے اور معائنے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر کے ہمراہ محکمہ مال اور بلدیاتی عملے کے دیگر اہم ذمہ داران بھی موجود تھے، جن کی تفصیل درج ذیل جدول میں پیش کی گئی ہے: شمارافسر کا نامعہدہ / محکمہ1عبدالشکور سولنگیاسسٹنٹ کمشنر کوٹری (قیادت)2پرویز کوریجواسسٹنٹ مختیارکار3بلال سولنگیمتعلقہ سرکاری اہلکار4دیگر انتظامی عملہبلدیہ اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندے مہنگائی اور تجاوزات کا پس منظر: کوٹری کے زمینی حقائق کوٹری سندھ کا ایک اہم صنعتی اور تجارتی مرکز ہونے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں مزدوروں، محنت کشوں اور عام شہریوں کی آماجگاہ رہتا ہے۔ یہاں کے بازاروں اور مرکزی روڈز پر پچھلے کچھ عرصے سے مہنگائی کا جن بے قابو ہو چکا تھا، جہاں دکانداروں نے من مانے نرخ مقرر کر رکھے تھے۔ اس کے علاوہ، تجاوزات کے ناسور نے پیدل چلنے والوں بالخصوص خواتین اور بچوں کا جینا محال کر رکھا تھا۔ ماہرینِ معاشیات اور مقامی سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ جب تک انتظامیہ اس طرح کے اچانک اور باقاعدہ دورے جاری نہیں رکھتی، محض کاغذی احکامات سے منافع خوری پر قابو پانا ناممکن ہوتا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے اٹھائے گئے اس اقدام کو عوامی حلقوں کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔ مستقبل کے اثرات اور عوامی توقعات انتظامیہ کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی نے جہاں ایک طرف تاجر برادری میں ہلچل مچا دی ہے، وہیں دوسری طرف عام شہریوں میں امید کی لہر دوڑا دی ہے کہ شاید اب انہیں سرکاری نرخوں پر اشیاء دستیاب ہو سکیں گی۔ عوام کا پرزور مطالبہ ہے کہ اس قسم کے چھاپے صرف ایک دن کی کارروائی تک محدود نہ رہیں بلکہ ہفتہ وار بنیادوں پر کوٹری کے تمام چھوٹے بڑے بازاروں اور محلوں میں مانیٹرنگ کا موثر نظام قائم کیا جائے تاکہ ناجائز منافع خوروں کا مستقل قلع قمع کیا جا سکے۔ Post navigation حیدرآباد: معمولی رقم کا تنازع سنگین صورتحال اختیار کر گیا؛ گھر میں گھس کر تشدد اور فائرنگ کے بعد متاثرہ خاندان کی اعلیٰ حکام سے داد رسی کی اپیل