Preloader
The case of kp and Apex committee

اہم نکات (خلاصہ)

  • تاریخی سنگ میل: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایپکس کمیٹی کے حالیہ اجلاس کو صوبے کی تاریخ کا انتہائی اہم اور پیش رفت سے بھرپور دن قرار دیا ہے۔
  • وفاقی مالیاتی تعاون: وفاق کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے ۱۶۰ ارب روپے کی فراہمی کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید فنڈز فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
  • امن و امان اور گورننس: دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے صوبے میں تبادلوں، تعیناتیوں اور بدعنوانی پر عدم برداشت (زیرو ٹالرنس) کی پالیسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
  • عوامی ریلیف اور ترقی: گندم کے مسئلے کا حل، شہداء کے پیکج میں اضافہ اور تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی شروع کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

پشاور: ایک تاریخی اجلاس اور صوبائی مستقبل کا روڈ میپ

پشاور میں صحافیوں اور میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایپکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے اسے صوبے کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم اور سنگ میل کا حامل دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اجلاس کے ذریعے خیبرپختونخوا کے دیرینہ مسائل کو وفاق کے سامنے مضبوط اور موثر انداز میں پیش کیا گیا ہے جس کے مثبت اور دور رس نتائج جلد صوبے کے عوام کے سامنے آئیں گے۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی، جن میں وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وفاقی وزراء اور صوبائی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اجلاس کے دوران صوبے کے چیف سیکرٹری نے خیبرپختونخوا کی مجموعی انتظامی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر تمام شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی، جس کے بعد صوبے کی بہتری کے لیے متعدد اہم اور نفاذ کے قابل فیصلے کیے گئے۔

مالیاتی پیکیج اور وفاقی امداد: ۱۶۰ ارب روپے کی منظوری

گورنر فیصل کریم کنڈی نے صحافیوں کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی معاشی بحالی اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے ۱۶۰ ارب روپے کی خطیر رقم کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس مالیاتی پیکیج سے صوبے کے بنیادی ڈھانچے، سیکیورٹی انتظامات اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ وفاقی حکومت نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر صوبے کو ترقیاتی کاموں یا امن و امان کی بحالی کے لیے مزید فنڈز کی ضرورت پڑی تو وفاق بلا تاخیر اضافی مالی وسائِل بھی فراہم کرے گا۔ گورنر کے مطابق اس اقدام سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے اور انہیں قومی دھارے میں برابر کے ترقیاتی مواقع فراہم کرنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے۔

===============================================================
          خیبرپختونخوا کے لیے اہم وفاقی و صوبائی اعلانات
===============================================================
 ۱. مالیاتی فنڈز:    وفاق کی جانب سے ۱۶۰ ارب روپے کی منظور شدہ رقم۔
 ۲. اضافی فنڈز:      ضرورت پڑنے پر مزید مالی امداد کی مکمل یقین دہانی۔
 ۳. زیرو ٹالرنس:     پوسٹنگ، ٹرانسفر اور کرپشن پر مکمل پابندی اور سختی۔
 ۴. شہداء پیکج:      قربانیاں دینے والے اہلکاروں کے پیکج میں نمایاں اضافہ۔
 ۵. تجاوزات:        صوبہ بھر میں بلاامتیاز کارروائی کا آغاز۔
===============================================================

دہشت گردی کے خلاف جنگ، امن و امان اور معاشی سرمایہ کاری

گورنر کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ خیبرپختونخوا نے ماضی میں دہشت گردی کی خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس خطے میں مکمل امن بحال کیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن و امان کی بحالی کا براہ راست تعلق معاشی ترقی سے ہے۔ جب تک صوبے میں مکمل امن قائم نہیں ہوگا، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار یہاں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں رہیں گے۔ صوبے میں امن قائم کر کے ہم سرمایہ کاروں کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کریں گے تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور معیشت مستحکم ہو سکے۔

اس سلسلے میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے اعلان کیا کہ ملک و قوم کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے خاندانوں کے لیے “شہداء پیکج” میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے لواحقین کی بہتر کفالت کی جا سکے۔

شفافیت، زیرو ٹالرنس اور انتظامی اصلاحات

گورنر نے انتظامی امور پر بات کرتے ہوئے واضح اور سخت پیغام دیا کہ صوبے میں سرکاری ملازمین کی تعیناتیوں، تبادلوں اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی (کرپشن) کے معاملے پر “زیرو ٹالرنس” یعنی صفر برداشت کی پالیسی اپنائی جائے گی المعیار پر پورا اترنے والے افسران ہی عہدوں پر رہیں گے اور سفارش یا رشوت کی بنیاد پر کام کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد ایک “بدلتا اور نکھارتا خیبرپختونخوا” بنانا ہے جہاں انصاف، شفافیت اور میرٹ کی حکمرانی ہو۔ صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ عوام کو درپیش روزمرہ کے مسائل کے حل کے لیے فوری اور بلا تاخیر اقدامات کریں۔

عوام کو درپیش مسائل اور شہری نظم و ضبط

پریس کانفرنس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی نے گندم کی دستیابی اور اس کی قیمتوں کے معاملے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں گندم کے مسئلے پر سیر حاصل گفتگو ہوئی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے میں گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ عام شہری کو سستی اور معیاری روٹی کی فراہمی میں کوئی دشواری نہ ہو۔

اس کے علاوہ، صوبے میں شہری نظم و ضبط بحال کرنے اور سڑکوں کی کشادگی کے لیے تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ گورنر نے واضح کیا کہ تجاوزات کے معاملے میں کسی بھی شخص یا گروہ کے ساتھ کوئی رعایت یا سیاسی اثر و رسوخ قبول نہیں کیا جائے گا اور تمام ناجائز قبضے بلاامتیاز ختم کروائے جائیں گے۔

وفاق میں صوبے کی نمائندگی اور سیاسی ہم آہنگی

گورنر خیبرپختونخوا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ماضی کے برعکس اب وفاق میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ زیادہ بہتر، موثر اور دلائل کے ساتھ لڑا جا رہا ہے۔ صوبے کے حقوق کے حصول کے لیے انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی ہیں تاکہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک پیج پر لا کر صوبے کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام سیاسی قائدین اور تمام مکاتب فکر کو مل کر صوبے کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا، کیونکہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن صوبے کے حقوق اور امن و امان کی بحالی کے لیے اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

پس منظر اور تجزیہ: خیبرپختونخوا کا درپیش چیلنجز سے نکلنے کا سفر

خیبرپختونخوا گزشتہ دو دہائیوں سے سیکیورٹی چیلنجز، معاشی مسائل اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشت گردی کی لہر نے جہاں صوبے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، وہیں عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے۔

ایسی صورتحال میں ایپکس کمیٹی کا یہ اعلیٰ سطحی اجلاس اور اس میں کیے گئے فیصلے صوبے کے لیے انتہائی مثبت شروعات قرار دیے جا سکتے ہیں۔ وفاق کی طرف سے ۱۶۰ ارب روپے کی فراہمی صوبے کے معاشی پہیے کو چلانے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ بدعنوانی اور سفارش کے خلاف سختی سے عمل درآمد کروانے کا فیصلہ صوبائی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر ان تمام فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو خیبرپختونخوا واقعی ایک امن اور ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔