اہم نکات (خلاصہ) پاکستان بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین اور غیر ملکی باشندوں کے خلاف ملک گیر سطح پر کارروائیاں اور کریک ڈاؤن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ چاروں صوبوں بالخصوص خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بغیر دستاویزات کے رہنے والے افراد کو گرفتار کر کے واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اس کارروائی میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں مہاجرین کو طورخم اور دیگر سرحدی راستوں کے ذریعے روانہ کیا جا رہا ہے۔ حکارتی ذرائع کے مطابق اس مہم کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا، ملکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا اور قانون کی مکمل بالادستی قائم کرنا ہے۔ اسلام آباد / پشاور: پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں اور افغان مہاجرین کے انخلا کے لیے جاری حکومتی پالیسی کے تحت ملک بھر میں کریک ڈاؤن کا نیا اور سخت سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ چاروں صوبوں سے غیر قانونی مقیم افراد کی گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں، جن میں سب سے زیادہ شدت اور تیز رفتاری صوبہ خیبر پختونخوا میں دکھائی دے رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں انتظامی تبدیلیوں اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ان کارروائیوں کو ایک نئی رفتار ملی ہے، جس کے تحت بغیر سفری دستاویزات کے رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو قانون کے دائرے میں لا کر واپس ان کے وطن روانہ کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ملک گیر کریک ڈاؤن کا پس منظر اور حکومتی حکمت عملی پاکستان گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ لاکھوں افغان باشندے یہاں برادرانہ ماحول میں مقیم رہے، کاروبار کرتے رہے اور زندگی گزارتے رہے۔ تاہم، پچھلے چند برسوں میں ملکی اندرونی سلامتی، امن و امان کی خراب صورتحال، دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور غیر قانونی سرگرمیوں میں بعض غیر ملکیوں کے ملوث پائے جانے کے بعد ریاست نے اپنی پالیسی پر نظرثانی کی۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے پچھلے سال ایک جامع پالیسی (اللیگل فارنرز ریپوٹرئیشن پلان) متعارف کروائی گئی تھی، جس کے تحت تمام غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کی مہلت دی گئی تھی۔ ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے باقاعدہ طور پر ملک گیر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے تاکہ ایک بھی غیر قانونی شخص ملک کے اندر باقی نہ بچ سکے۔ خیبرپختونخوا میں تیزی اور گورنر راج کا کردار صوبہ خیبرپختونخوا چونکہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ متصل ہے، اس لیے یہاں افغان مہاجرین کی سب سے بڑی آبادی ہمیشہ سے مقیم رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں صوبے کے سیاسی حالات میں تبدیلی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی اور سکیورٹی امور براہِ راست وفاقی و متعلقہ اداروں کے زیرِ نگرانی آ گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اس کارروائی کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں: گرفتاریوں کی رفتار میں اضافہ: پشاور، ہری پور، نوشہرہ، مردان اور دیگر اضلاع میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرچ آپریشنز تیز کر دیے ہیں۔ طورخم بارڈر پر دباؤ: گرفتار کیے جانے والے یا رضاکارانہ طور پر جانے والے افراد کو طورخم اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے باقاعدہ ریکارڈ رکھ کر افغانستان منتقل کیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل رجسٹریشن: تمام واپس جانے والے افراد کا بائیو میٹرک اور نادرا ریکارڈ کے ذریعے تصدیقی عمل مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی شخص دوبارہ غیر قانونی طریقے سے واپس نہ آ سکے۔ اہم اعداد و شمار اور آپریشنل تفصیلات حکومتی اور سکیورٹی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس مہم کے دوران اب تک کی صورتحال درج ذیل نکات کے تحت دیکھی جا سکتی ہے: واپس جانے والوں کی کل تعداد: لاکھوں کی تعداد میں غیر قانونی افغان شہری اب تک اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں، جبکہ باقی ماندہ افراد کے خلاف بھی روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ صوبائی تناسب: تمام صوبوں میں پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے انخلا کا عمل سب سے زیادہ حجم پر ہے، کیونکہ جغرافیائی قربت کی وجہ سے یہاں مہاجرین کی اکثریت آباد تھی۔ ٹرانزٹ کیمپوں کا قیام: مہاجرین کی سہولت اور عارضی قیام کے لیے سرحدی علاقوں کے قریب خصوصی ٹرانزٹ کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انہیں خوراک، طبی امداد اور سفری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ معاشی اور سماجی اثرات افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کی واپسی کے معاشرے، معیشت اور سکیورٹی پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جن کا تجزیہ ماہرین دو مختلف زاویوں سے کرتے ہیں: قومی سلامتی اور امن و امان: ریاست کا موقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور ملک میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے سرحدی نظم و نسق کو بہتر بنانا اور غیر قانونی افراد کی موجودگی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس کریک ڈاؤن سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تخریبی عناصر کی شناخت میں بڑی مدد ملی ہے۔ معاشی دباؤ میں کمی: پاکستان کے وسائل، روزگار، صحت، اور تعلیم کے شعبوں پر غیر ملکی آبادی کی وجہ سے جو اضافی بوجھ پڑ رہا تھا، اس میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے۔ تاہم، دوسری طرف کچھ مقامی کاروبار اور زراعت کے شعبے جہاں سستا مزدور دستیاب تھا، وہاں عارضی طور پر افرادی قوت کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ انسانی حقوق کے تقاضے اور بین الاقوامی ردعمل اس پوری مہم کے دوران انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے یہ نکتہ اٹھایا جاتا رہا ہے کہ واپسی کے عمل کو مکمل طور پر باوقار، پرامن اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔ حکومتِ پاکستان نے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جن افغان شہریوں کے پاس قانونی ویزا یا باقاعدہ مہاجر کارڈ (پروف آف رجسٹریشن) موجود ہیں، انہیں کسی قسم کی ہراساں کرنے یا زبردستی نکالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کارروائی صرف ان افراد کے خلاف کی جا رہی ہے جو بغیر کسی قانونی دستاویز کے غیر قانونی طریقے سے طویل عرصے سے پاکستان میں مقیم تھے۔ انسانی حقوق کے نام پر کسی کو بھی ملکی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل موجودہ حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں غیر ملکیوں کے انخلا کی یہ سب سے بڑی اور منظم مہم ہے۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد انتظامی و انتظامیہ کی رٹ کو مضبوط کرنے کے لیے اس کریک ڈاؤن کو جس تیزی سے آگے بڑھایا گیا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست اپنی سرحدوں کے اندر مکمل قانون کی حکمرانی چاہتی ہے۔ آئندہ کے لائحہ عمل کے تحت حکومت کا یہ عزم ہے کہ: سرحد پار آمد و رفت کے نظام کو مکمل طور پر ویزا پر مبنی اور ڈیجیٹل بنایا جائے۔ کسی بھی غیر قانونی فرد کو ملک کے اندر جائیداد خریدنے، کاروبار کرنے یا رہنے کی اجازت نہ دی جائے۔ ملک کی داخلی خودمختاری اور سلامتی کو ہر قیمت پر مقدم رکھا جائے۔ نتیجہ ملک بھر بالخصوص خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کے خلاف تیز ہونے والا یہ کریک ڈاؤن ایک طویل المدتی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ اگرچہ اس عمل میں انسانی اور جذباتی پہلو بھی موجود ہیں، لیکن کسی بھی خود مختار ملک کے لیے اپنی سلامتی، معاشی استحکام اور قانون کی بالادستی سب سے مقدم ہوتی ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور پرامن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں تاکہ ملک کو طویل المعاد فوائد حاصل ہو سکیں۔ Post navigation جیل اصلاحات میں بڑا پیش رفت: پنجاب کی جیلوں میں اسیران کی مالی حد میں اضافہ، آن لائن رقم کی منتقلی کا جدید نظام فعال خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ: افغان مہاجرین کی بے دخلی کا عمل تیز، پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافہ