Preloader
Governor Rule expedite the Afghan refugees return

اہم نکات (خلاصہ)

  • خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد غیر قانونی افغان مہاجرین کی حراست اور انخلا کی مہم میں بے پناہ تیزی آ گئی ہے۔
  • ملک کے دیگر حصوں سے بے دخل ہونے والے مہاجرین کی بڑی تعداد نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں کرائے کے مکانات اور رشتہ داروں کے ہاں پناہ لے رکھی تھی، جو اب سکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی میں ہیں۔
  • صوبائی سطح پر سیاسی تبدیلی کے بعد وفاق کی سخت پالیسی پر بلاامتیاز عمل درآمد جاری ہے، جس کا بنیادی مقصد امن و امان کی بحالی اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
  • حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور انتظامیہ کے مابین مہاجرین کی باوقار واپسی اور قانونی و غیر قانونی باشندوں کی تفریق کے نقطے پر تبادلہ خیال جاری ہے۔

پشاور: صوبہ خیبر پختونخوا میں حالیہ سیاسی و انتظامی تبدیلیوں اور ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے فوراً بعد خطے میں مقیم افغان مہاجرین کی قانونی و سماجی صورتحال ایک انتہائی نازک موڑ اختیار کر چکی ہے۔ وفاقی حکومت کی ہدایات اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے سرحد پار بھیجنے کے عمل میں لائی جانے والی غیر معمولی تیزی کے باعث صوبے کے مختلف اضلاع میں مقیم افغان باشندوں کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

جہاں ایک طرف سکیورٹی ادارے امن و امان کی تسلی بخش بحالی اور ملکی سلامتی کے لیے تمام غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی فوری بے دخلی کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف برسوں سے مقیم خاندانوں اور تاجر برادری کو اچانک منتقلی اور حراست کے فیصلوں سے درپیش مسائل کا سامنا ہے۔

پس منظر: صوبائی پالیسی میں تبدیلی اور سیاسی موڑ

ماضی کے سیاسی تناظر پر نگاہ ڈالی جائے تو خیبر پختونخوا کی سابقہ صوبائی حکومت (پاکستان تحریکِ انصاف) کی جانب سے افغان مہاجرین بالخصوص مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ طبقات کے ساتھ نسبتاً لچکدار اور نرم رویہ اختیار کیا جاتا رہا تھا۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی تھی کہ صوبے کی پختون آبادی کے افغان پناہ گزینوں کے ساتھ گہرے روایتی، ثقافتی اور تجارتی روابط موجود رہے ہیں۔

تاہم، حالیہ مہینوں کے دوران ملک بھر اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور پرتشدد واقعات میں ہونے والے تشویشناک اضافے نے ریاست کے سکیورٹی ڈھانچے کو اپنی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کرنے پر مجبور کیا۔ سکیورٹی ماہرین اور حکومتی ذرائع کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کا وجود کسی بھی ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اس صورتحال میں صوبے میں گورنر راج کا نفاذ ایک ایسا انتظامی نقطہ ثابت ہوا جس نے صوبائی اور وفاقی حکمتِ عملی کے مابین حائل تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا۔ اب وفاق کی متعین کردہ سخت انخلا کی پالیسی پر بغیر کسی سیاسی و انتظامی لچک کے براہ راست عمل درآمد کروایا جا رہا ہے۔

خیبر پختونخوا بحیثیتِ پناہ گاہ: کرائے کے مکانات اور پناہ گزینوں پر دباؤ

پاکستان کے دیگر صوبوں یعنی پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے جب غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلا کی پہلی لہر شروع ہوئی تو بیشتر افغان خاندانوں نے خیبر پختونخوا کی طرف رخ کیا تھا۔ اس کی اہم وجوہات درج ذیل تھیں:

  • رشتہ داری اور معاشرتی روابط: خیبر پختونخوا کے دیہی و شہری علاقوں میں پہلے سے آباد افغان مہاجرین کے ہاں دیگر صوبوں سے آنے والے رشتہ داروں نے عارضی پناہ حاصل کی تھی۔
  • کرائے کے مکانات کا استعمال: صوبے کی انتظامی لچک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تعداد میں غیر قانونی مقیم افراد نے پشاور، ہری پور، نوشہرہ اور مردان کے گنجان آباد علاقوں اور نواحی دیہات میں کرائے پر مکانات حاصل کر لیے تھے۔
  • تجارتی وابستگیاں: ہول سیل مارکیٹوں، پھلوں و سبزیوں کی منڈیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے جڑے تاجروں نے اپنی سرگرمیاں صوبے تک محدود کر لی تھیں۔

لیکن گورنر راج کے بعد سکیورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ نے ایسے تمام علاقوں کی نشاندہی کر کے گھر گھر تلاشی اور شناختی اسناد کی جانچ پڑتال کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس سے اب کسی بھی علاقے میں بغیر دستاویزات رہنا ممکن نہیں رہا۔

انتظامی کارروائیوں اور انخلا سے متعلق اعداد و شمار

موجودہ صورتحال کے دوران سامنے آنے والے اہم حقائق کو درج ذیل پوائنٹس کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے:

  • حراست کی مہم: پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے بلاامتیاز ان تمام افراد کی حراست پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جن کے پاس قانونی سفری دستاویزات یا مہاجر کارڈز موجود نہیں ہیں۔
  • سرحدی نقل و حرکت: طورخم بارڈر اور انگور اڈہ جیسے اہم تجارتی و سرحدی راستوں پر روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں گاڑیوں کے ذریعے افغان شہریوں کو واپس روانہ کیا جا رہا ہے۔
  • ٹرانزٹ کیمپوں کا کردار: صوبے کے تمام اضلاع میں بنائے گئے خصوصی مراکز پر منتقلی سے قبل رجسٹریشن، طبی معائنے اور بنیادی خوراک کی فراہمی کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ روانگی کے عمل کو شفاف رکھا جا سکے۔
  • مکان مالکان کے خلاف کارروائی: بغیر تصدیق اور اطلاع کے غیر قانونی شہریوں کو کرائے پر مکان دینے والے مقامی مالکان کو بھی قانونی نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق، معاشی خدشات اور انتظامی نقطہ نظر

افغان مہاجرین کی تیز رفتاری سے واپسی کے معاملے پر مختلف طبقہ ہائے فکر کے مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آ رہے ہیں:

1. حکومتی اور سکیورٹی نقطہ نظر

ریاست کا مؤقف بالکل واضح اور منصفانہ ہے کہ کوئی بھی خود مختار ملک اپنے آئین اور قوانین کو نظر انداز کر کے غیر قانونی باشندوں کی لا محدود قیام کی اجازت نہیں دے سکتا۔ خطے میں درپیش سلامتی کے چیلنجز کا تقاضا ہے کہ تمام تارکینِ وطن کا باقاعدہ اندراج ہو اور جن کے پاس قانونی اجازت نامے نہیں ہیں انہیں اپنے وطن واپس بھیجا جائے۔

2. معاشی اور تاجرانہ تحفظات

صوبے کی مختلف منڈیوں اور چھوٹے تجارتی مراکز میں افغان شہریوں کا بڑا اثر و رسوخ رہا ہے۔ ان کی ناگہانی واپسی سے مقامی سطح پر کچھ شعبوں میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، تاہم انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے یہ عارضی دشواری برداشت کرنا ضروری ہے۔

3. انسانی بنیادوں پر تحفظات

حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حراست اور بے دخلی کے تمام تر عمل میں انسانی قدروں اور اسلامی روایات کی پاسداری کی جانی چاہیے۔ بچوں، خواتین اور بیمار افراد کو خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ انہیں اپنے ملک واپس لوٹتے وقت غیر انسانی حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جائزہ اور آئندہ کے امکانات

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے تحت جاری یہ مہم اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ اب افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل اپنے آخری اور سب سے سخت مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح اب صوبائی اور وفاقی پالیسی میں تضاد باقی نہیں رہا، جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں اس کارروائی میں مزید شدت دیکھی جا سکتی ہے۔

اگر یہ مہم اسی رفتار سے جاری رہی تو صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب کے امکانات مزید روشن ہوں گے۔ تاہم، اس عمل کی مکمل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ قانونی اور غیر قانونی شہریوں کے مابین باریک تفریق کو مکمل شفافیت سے برقرار رکھا جائے۔

نتیجہ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد افغان مہاجرین کے انخلا میں آنے والی تیزی ملکی تاریخ کی ایک بڑی سکیورٹی اور انتظامی پیش رفت ہے۔ اگرچہ دہائیوں سے آباد افراد کے لیے یہ تبدیلی سخت چیلنجز لائی ہے، لیکن قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور بارڈر مینجمنٹ کے پائیدار تقاضوں کے پیش نظر ریاست کے لیے غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکیوں کو واپس بھیجنا ایک آئینی اور قانونی ذمہ داری بن چکا ہے، جسے ہر صورت پایہ تکمیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔