خلاصہ (اہم نکات) اعلیٰ سطحی اجلاس: پشاور میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اور وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق کے مابین اہم اور تفصیلی ملاقات۔ یکساں اور ہم وقت مہمات: صوبے بھر میں تمام علاقوں کے اندر ایک ہی وقت میں پولیو مہم شروع کرنے کی حکمتِ عملی پر مشاورت اور اسے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حتمی قرار دیا گیا۔ ہر بچے تک رسائی: تفصیلی منصوبی بندی (مائیکرو پلاننگ)، نگرانی کے معیارات اور دور دراز علاقوں کے بچوں تک پولیو قطرے پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کا عزم۔ قومی عزم: پولیو کو بچوں کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے وفاق اور صوبے کے مابین تمام تر وسائل یکجا کر کے اس موذی مرض کے مکمل خاتمے پر اتفاق۔ خبر کا پس منظر: خیبر پختونخوا میں پولیو وائرس کا چیلنج پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو واحد ممالک ہیں جہاں پولیو وائرس اب بھی بچوں کی صحت اور عمر بھر کی معذوری کا سبب بن رہا ہے۔ خصوصاً پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے بعض اضلاح اور قبائلی علاقوں میں پولیو وائرس کے ماحولیاتی نمونے اور کیسز وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں۔ امن و امان کی مخصوص صورتحال، دور دراز اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں تک رسائی میں مشکلات، آبادی کی مسلسل نقل مکانی، اور بعض علاقوں میں عوامی عدمِ آگاہی یا بیانات کی بنیاد پر قطرے پلانے سے انکار ایسے عوامل ہیں جنہوں نے اس وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی اور وفاق کی سطح پر انسدادِ پولیو کی پالیسی میں مسلسل تبدلی اور جدید حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ اس قومی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔ پشاور میں اعلیٰ سطحی ملاقات اور بنیادی گفتگو اسی اہم اور نازک صورتحال کے پیش نظر صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان سے وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے ملاقات کی Target۔ اجلاس کے دوران صوبے میں پولیو وائرس کی موجودہ صورتحال، حال ہی میں مکمل ہونے والی مہمات کے حاصل شدہ نتائج اور میدانی سطح پر درپیش انتظامی و تکنیکی چیلنجز پر تفصیلی بحث کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک صوبے کا اخری بچہ بھی اس قطرے سے محروم رہے گا، تب تک تمام تر محنت اور حاصل کردہ نتائج خطرے میں رہ سکتے ہیں۔ ملاقات میں طے پانے والے اہم تکنیکی اور انتظامی نکات: تفصیلی منصوبی بندی (مائیکرو پلاننگ): ہر یونین کونسل، گاؤں اور ڈھوک کی سطح پر انسدادِ پولیو ٹیموں کی نقل و حرکت اور روٹ کا ازسرنو جائز لیا جائے گا۔ یکساں پولیو مہم: صوبے بھر میں تمام اضلاح کے اندر ایک ہی دن اور وقت پر پولیو قطرے پلانے کی مہم کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کی طرف نقل مکانی کرنے والے بچے قطروں سے محروم نہ رہیں۔ نگرانی کا سخت معیار: مہم کے دوران ٹیموں کی حاضری اور قطروں کی شفاف تقسیم کی جانچ کے لیے خودکار اور انتظامی بنیادوں پر کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی۔ سیکیورٹی اور تحفظ: پولیو ورکرز بالخصوص خواتین صحت ورکرز اور لیڈی ہیلتھ وزٹرز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون مزید بڑھایا جائے گا۔ یکساں اور هم وقت مہم کی اہمیت اجلاس میں اس بات پر خصوصی طور پر اتفاق کیا گیا کہ ماضی میں مختلف اضلاح میں الگ الگ دنوں میں مہم چلانے سے وائرس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا موقع ملتا تھا۔ جب کسی ایک ضلع میں مہم چل رہی ہوتی تھی تو وہاں سے نقل مکانی کرنے والے غیر مصدقہ بچے دوسرے اضلاع پہنچ جاتے تھے۔ اسی وجہ سے، پورے صوبے میں ایک ہی وقت پر پولیو مہم چلانے کی پالیسی پر زور دیا گیا ہے۔ ماہرینِ صحت اور اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ تمام اضلاع کو بیک وقت ڈھانپنے سے وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ مکمل طور پر ٹوٹ جائے گا اور وائرس کو پناہ گاہ نہیں ملے گی۔ ہر بچے تک رسائی اور انکاری والدین کا ازالہ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور وزیراعظم کی فوکل پرسن نے اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ علاقوں میں افواہوں یا معلومات کی کمی کے باعث بعض والدین اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے گریز کرتے ہیں۔ اس چیلنج سے نپٹنے کے لیے یہ طے پایا کہ مقامی علماء، علاقے کے عمائدین، اور سماجی شخصیات کو اس مہم میں عملی طور پر شامل کیا جائے گا۔ عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے دینی و اخلاقی پہلوؤں کو سامنے لایا جائے گا اور والدین کو یہ باور کرایا جائے گا کہ پولیو کے دو قطرے ان کے بچوں کو عمر بھر کی اپاہجتا سے بچا سکتے ہیں۔ قومی مشن اور انتظامی عزم اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اور عائشہ رضا فاروق نے اس مشترکہ عزم کو دہرایا کہ پولیو کا خاتمہ کسی ایک ادارے یا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک عظیم قومی مشن ہے۔ چیف سیکرٹری نے صوبائی انتظامیہ اور تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ انسدادِ پولیو مہم کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھیں اور میدانی سطح پر پولیو ورکرز کو ہر ممکن سہولت اور تحفظ فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس قومی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تمام درکار فنڈز اور لوجسٹک وسائل فراہم کرے گی۔ مستقبل کے اثرات اور درپیش خطرات انسدادِ پولیو کی موجودہ مربوط حکمتِ عملی اگر مکمل ایمانداری اور تسلسل کے ساتھ نافذ کی جائے تو اس سے خیبر پختونخوا کے لاکھوں بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضانت فراہم کی جا سکے گی۔ تاہم، اس مقصد کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ تمام تر حکومتی ادارے، پولیو ورکرز، سیکیورٹی ادارے، اور عوام کس حد تک ایک ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر انتظامیہ انکاری کیسز کی تعداد کو صفر پر لانے اور ہر سفر کرنے والے بچے تک رسائی پانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو وہ دن دور نہیں جب خیبر پختونخوا اور پورا پاکستان پولیو سے پاک خطہ بن کر دنیا کے سامنے ابھرے گا۔ Post navigation *ہری پور: ’’بدلتا خیبر پختونخوا مہم‘‘ کے تحت میڈیا نمائندگان سے اہم ملاقات، ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائیوں کا عزم ہری پور میں صفائی کی مہم