ناروے کی پارلیمنٹ کی صدر ایوا کرسٹن ہینسن نے استعفیٰ دے دیا ہے اور لوگوں سے ایک “ناقابلِ معافی” جرم کے لیے معافی مانگ لی ہے! اس خاتون نے ریاست کے ملکیتی ایک سادہ ڈرائنگ روم اور بیڈ روم کا استعمال کیا وہاں کا قانون اس رہائش کے استعمال کی اجازت صرف اس صورت میں دیتا ہے جب آپ کا گھر پارلیمنٹ سے 40 کلومیٹر سے زیادہ دور ہو لیکن زمین ہلا دینے والا ” اسکینڈل” یہ ہے کہ ان کا گھر صرف 29 کلومیٹر دور تھا دوسرے لفظوں میں، انہوں نے ریاست کو ” تقریباً 11 کلومیٹر” کی سیاسی عزت کا نقصان پہنچایا، انہوں نے نہ صرف استعفیٰ دیا بلکہ یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ریاست کو پہنچنے والے “نقصان” کی تلافی اپنے جیب سے کریں گی اور یہاں پورے کے پورے ملک ہڑپ کر گئے ہیں اس کے باوجود کہتے ہیں ہمیں ایک اور موقع دو ہم تقدیر بدل دیں گے Post navigation پشاور کے تاریخی نمک منڈی بازار میں ذائقوں کی سحر انگیزی: چکن اور مچھلی سمیت 15 سے زائد اقسام کے روایتی پکوڑوں کے منفرد مرکز کی کہانی