(خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر، جامشورو) اہم نکات (خلاصہ) جامشورو میں سیہون شریف کے قریب بھان سید آباد میں پولیس نے خفیہ اطلاع پر سندھ بینک کے قریب واقع ایک گودام پر چھاپہ مارا۔ ایس ایچ او ذوالفقار اوڈھانو کی سربراہی میں کی گئی اس بڑی کارروائی کے دوران گودام سے چار ہزار سے زائد نایاب نسل کے پرندے مردہ حالت میں برآمد کیے گئے۔ پولیس نے موقع سے دو ملزمان نظام الدین ملاح اور راشد سولنگی کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا، جبکہ برآمد شدہ پرندوں کی مالیتی قدر پانچ لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے۔ یہ کارروائی حیاتِ وحش کے تحفظ، نایاب پرندوں کی نسل کشی کی روک تھام اور غیر قانونی شکار کے خلاف جاری مہم کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ مقدمہ: ماحول اور حیاتِ وحش پر غیر قانونی شکار کے سنگین حملے سندھ کا ضلع جامشورو اور بالخصوص سیہون شریف کے گرد و نواح کے علاقے اپنے تاریخی و ثقافتی مقام کے ساتھ ساتھ قدرتی جھیلوں، آبی ذخائر اور نایاب پرندوں کے مسکن کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ تاہم، گذشتہ کچھ عرصے سے غیر قانونی شکاری اور مفاد پرست گروہ ان نایاب پرندوں کو اپنے شوم مقاصد اور مالی فائدے کے لیے نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔ سیہون شریف کے قریب بھان سید آباد میں پولیس کی تازہ ترین کامیابی نے ایک طرف جہاں قانون کی بالادستی کا ثبوت دیا ہے، وہی دوسری طرف یہ تشویشناک حقیقت بھی سامنے لائی ہے کہ کس طرح نایاب اور بے زبان پرندوں کا بے دردی سے شکار کر کے انہیں مقامی منڈیوں میں فروخت کرنے کے لیے ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔ پولیس کی اس بروقت کارروائی نے ایک بڑے غیر قانونی کاروباری نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کارروائی کی تفصیلات: خفیہ اطلاع سے چھاپے تک کا احوال پولیس ذرائع کے مطابق یہ اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب بھان سید آباد تھانے کی پولیس کو شہر کے مرکز میں واقع سندھ بینک کے قریب ایک گودام کے اندر غیر قانونی سرگرمیوں کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی۔ خفیہ اطلاع کی تصدیق کے بعد ایس ایچ او بھان سید آباد ذوالفقار اوڈھانو نے اپنی پولیس ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر مذکورہ مقام پر چھاپہ مارا: گودام کی تلاشی: چھاپے کے دوران جب گودام کو کھول کر تلاشی لی گئی تو اندر کا منظر انتہائی افسوسناک تھا، جہاں چار ہزار سے زائد نایاب پرندے مردہ حالت میں ذخیرہ کیے گئے تھے۔ ملزمان کی گرفتاری: کارروائی کے دوران موقع پر موجود دو مرکزی ملزمان نظام الدین ملاح اور راشد سولنگی کو فوری طور پر گرفتار کر کے تھانے منتقل کر دیا گیا۔ مالیت اور ارادے: ابتدائی تحقیقات کے مطابق برآمد شدہ مردہ پرندوں کی مجموعی مالیت پنج لاکھ روپے سے زائد ہے، اور ملزمان کا ارادہ انہیں شہر اور ملحقہ علاقوں میں فروخت کرنے کا تھا۔ اعداد و شمار اور قانونی معلومات ایک نظر میں اس اہم کارروائی اور قانونی نکات کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں: مقامِ کارروائی: سندھ بینک کے قریب گودام، بھان سید آباد (سیہون شریف، ضلع جامشورو) نگرانِ کارروائی: ایس ایچ او بھان سید آباد ذوالفقار اوڈھانو برآمدگی: 4,000 سے زائد نایاب نسل کے مردہ پرندے تخمین شدہ مالیت: 5,00,000 (پانچ لاکھ) روپے سے زائد گرفتار ملزمان: نظام الدین ملاح اور راشد سولنگی قانونی حیثیت: حیاتِ وحش کے تحفظ کے قوانین کے تحت نایاب پرندوں کے شکار اور ذخیرہ اندوزی پر مکمل پابندی عائد ہے۔ پس منظر: سندھ میں نایاب پرندوں کا شکار اور ماحولیاتی بحران سندھ میں منچھر جھیل، دریائے سندھ کے کنارے اور ملحقہ آبی ذخائر سردیوں اور دیگر موسموں میں دنیا بھر بالخصوص سائبیریا سے انے والے مہمان اور مقامی نایاب پرندوں کا اہم مسکن سمجھے جاتے ہیں۔ یہ پرندے نہ صرف خطے کی قدرتی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں بلکہ ہمارے ماحولیاتی توازن (ایکولوجیکل بیلنس) کو برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، کچھ عرصے سے تجارتی بنیادوں پر ان پرندوں کے غیر قانونی شکار میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ شکاری ان بے زبان پرندوں کو زہر دے کر، جالوں کے ذریعے یا دیگر غیر قانونی طریقوں سے مار کر گوداموں میں ذخیرہ کرتے ہیں اور پھر شہروں کے ہوٹلوں، منڈیوں یا نجی خریداروں کو اونچے दामों پر فروخت کر دیتے ہیں۔ محکمۂ تحفظِ حیاتِ وحش (وائلڈ لائف) اور مقامی پولیس کی جانب سے وقت فوقتاً اقدامات کے باوجود اس قسم کے عناصر پوشیدہ مقامات کا استعمال کر کے اس مکروہ دھندے کو جاری رکھتے ہیں۔ پولیس کا موقف اور آنے والے اقدامات اس کامیاب چھاپے کے بعد پولیس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نایاب پرندوں اور حیاتِ وحش کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ ایس ایچ او ذوالفقار اوڈھانو نے واضح کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت ترین قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔ پولیس اب گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس غیر قانونی نیٹ ورک میں اور کون سے افراد شامل ہیں اور پرندوں کی سپلائی کہاں کی جانی تھی۔ پولیس نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ضلع جامشورو اور اس کے گرد و نواح میں غیر قانونی شکار کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ ماحولیاتی اثرات اور عوام کی ذمہ داری صحافتی نقطہ نظر سے اس نوعیت کے واقعات محض ایک جرم یا خبر نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے قدرتی ماحول کے لیے ایک گہری گھنٹی ہیں۔ ماحولیاتی نظام کا بگاڑ: جب اتنی بڑی تعداد میں پرندوں کو مار دیا جاتا ہے تو اس سے مقامی ماحولیاتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، جس کے اثرات حشرات الارض کی افزائش اور زراعت پر بھی پڑتے ہیں۔ عوامی شعور کی ضرورت: مقامی آبادی اور شہریوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف ایسے مردہ یا شکار شدہ پرندوں کی خرید و فروخت سے بائیکاٹ کریں بلکہ اگر ان کے آس پاس کہیں اس قسم کے غیر قانونی گودام یا سرگرمیاں نظر آئیں تو فوری طور پر مقامی انتظامیہ کو مطلع کریں۔ نتیجہ سیہون شریف کے قریب بھان سید آباد میں پولیس کی یہ فوری اور مؤثر کارروائی قابلِ تحسین ہے جس سے ہزاروں مزید پرندوں کے شکار اور غیر قانونی کاروبار کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ 4 ہزار سے زائد مردہ پرندوں کی برآمدگی اس بات کی متقاضی ہے کہ محکمۂ تحفظِ حیاتِ وحش اور ضلعی پولیس مل کر ایک مستقل اور جامع لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ نایاب نسل کے پرندوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ان کی نسل کشی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ Post navigation 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر: جامشورو میں حقِ خودارادیت اور کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے عظیم الشان ریلی کا انعقاد