(خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر، جامشورو) اہم نکات (خلاصہ) 27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر ضلع جامشورو میں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے لیے ڈی سی آفس سے ایک عظیم الشان یکجہتی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے کی، جس میں ضلع کے تمام اہم انتظامی افسران، شعبہ صحت، تعلیم، پولیس، سماجی تنظیموں کے نمائندوں، اساتذہ اور طلبہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی اور 27 اکتوبر تاریخ کا ایک تلخ ترین دن ہے۔ مظاہرین نے عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ سے بھارتی تسلط کے خاتمے اور کشمیریوں کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دلانے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقدمہ: مظلوم کشمیریوں کی آواز اور جامشورو کی بیداری مقبوظہ جموں و کشمیر کے غیر قانونی تسلط اور کشمیری عوام پر ہونے والے تاریخی مظالم کے خلاف دنیا بھر کی طرح پاکستان کے کونے کونے میں آوازِ احتجاج بلند کی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں ضلع جامشورو میں یومِ سیاہِ کشمیر کے موقع پر ایک پراثر، پروقار اور عظیم الشان یکجہتی ریلی کا اہتمام کیا گیا، جس میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کر کے یہ واضح پیغام دیا کہ کشمیری تنہا نہیں ہیں اور پاکستانی قوم کا ہر فرد ان کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ یہ ریلی صرف ایک رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ کشمیریوں کی لازوال قربانیوں، ان کے بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کی تجدیدِ عہد کا مظاہرہ تھی۔ جامشورو کی فضا کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی، جس نے ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے کشمیر کے حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ریلی کا راستہ، اعلیٰ حکام اور عوام کی بھرپور شرکت جامشورو میں مرکزی ریلی کا آغاز ڈپٹی کمشنر آفس سے ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتی ہوئی اپنے منزل مقصود پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر انتظامیہ اور عام شہریوں کی مشترکہ شرکت نے قومی یکجہتی کی بہترین مثال قائم کی۔ اہم شرکاء اور شعبہ جات کا ایک نظر میں جائزہ: قیادت: ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری۔ ضلعی انتظامیہ: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون بابر خان نظامانی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو محمد طارق کاکا۔ شعبہ صحت: ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر پیر منظور احمد اور محکمہ صحت کا عملہ۔ دیگر متعلقہ محکمے: اسسٹنٹ کمشنر کوٹری عبدالشکور سولنگی، ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر امیر علی کولاچی، محکمہ تعلیم، شعبہ ترقیِ خواتین (وومین ڈویلپمنٹ)، محکمہ آبادی (پاپولیشن)، میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں کے نمائندے۔ عوامی شرکت: ضلع پولیس کا عملہ، اساتذہ، اسکول و کالجز کے طلبہ و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندے۔ ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز، پینا فلیکس اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں سے یکجہتی اور بھارتی جارحیت کے خلاف نعرے درج تھے۔ اساتذہ اور طلبہ کی موجودگی نے اس جذباتی وابستگی کو مزید نمایاں کیا جو ہماری نئی نسل کے دلوں میں کشمیر کی آزادی کے لیے موجود ہے۔ یومِ سیاہ کا تاریخی پس منظر: 27 اکتوبر کی اہمیت صحافتی نقطہ نظر سے 27 اکتوبر کا دن تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وہ دن تھا جب 1947ء میں بھارتی افواج نے جموں و کشمیر میں جا کر تسلط قائم کیا اور کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے خلاف ان کی سرزمین پر قبضہ کر لیا۔ تب سے لے کر آج تک یہ دن دنیا بھر میں مقیم کشمیری اور پاکستانی “یومِ سیاہ” کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن کو سیاہ دن کہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس اقدام سے خطے میں ایک ایسے تنازعے کی بنیاد پڑی جس نے پچھلی سات دہائیوں سے زائد عرصے سے لاکھوں انسانوں کے امن و سکون کو تباہ کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس مسئلے کے حل کے لیے حقِ خودارادیت کی متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیا گیا تھا، لیکن ان پر عملدرآمد آج تک ممکن نہیں ہو سکا۔ خطابات اور موقف: “کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی رکے گی نہیں” ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے 27 اکتوبر کی تاریخی سنگینی پر روشنی ڈالی اور حکومت و عوام کے مؤقف کی ترجمانی کی: “27 اکتوبر کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک انتہائی سیاہ دن ہے۔ اس دن کشمیری عوام کے حقوق اور آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے خلاف آج پوری دنیا میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی اور ان کے بنیادی حقِ خودارادیت کی حمایت ہمیشہ جاری رہے گی، اور پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔” ریلی کے دیگر مقررین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور قانونی حق نہیں مل جاتا، پاکستان کا ہر شہری ان کی آواز بن کر ہر فورم پر احتجاج ریکارڈ کرواتا رہے گا۔ عالمی برادری اور اقوامِ متحدہ کے لیے اہم مطالبات جامشورو کی اس ریلی میں محض مقامی یکجہتی کا اظہار ہی نہیں کیا گیا بلکہ عالمی برادری اور عالمی اداروں کو بھی ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروائی گئی۔ ریلی کے اختتام پر مقررین اور شرکاء نے درج ذیل اہم مطالبات پیش کیے: استصوابِ رائے کا انعقاد: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا کا حقِ خودارادیت دیا جائے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ انسانی حقوق کا تحفظ: مقبوضہ خطے میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالیوں کو روکا جائے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کو وہاں تک رسائی دی جائے۔ عالمی برادری کا کردار: دنیا کی منصف مزاج اقوام اور عالمی ادارے محض خاموش تماشائی بننے کے بجائے اس دیرینہ مسئلے کو حل کروانے کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کریں۔ خطے کے امن اور معیشت پر کشمیری تنازعے کے اثرات کشمیر کا تنازعہ صرف دو ممالک کے درمیان سیاسی یا سرحدی اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ پورے جنوبی ایشیا کے امن، معاشی استحکام اور عوام کی خوشحالی سے جڑا ہوا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ جب تک اس علاقے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوتا، تب تک دونوں ممالک کے معاشی وسائط عوام کی فلاح و بہبود کے بجائے دفاعی ضروریات پر خرچ ہوتے رہیں گے۔ جامشورو میں نکلنے والی اس یکجہتی ریلی نے ایک بار پھر اس حقیقت پر مہر ثبت کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل ہی خطے میں مستقل امن، معاشی ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے۔ اگر عالمی برادری اس مسئلے کو حل کرانے میں سنجیدگی دکھائے تو اس سے نہ صرف لاکھوں کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق ملے گا بلکہ جنوبی ایشیا کے عوام کے لیے بھی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔ اختتامیہ: پائیدار عزم اور مستقبل کا پیغام جامشورو میں ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری کی قیادت میں نکلنے والی یومِ سیاہ کی ریلی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود کشمیر کے ساتھ پاکستانی عوام کا رشتہ کمزور نہیں ہوا۔ سرکاری افسران، تعلیمی اداروں، پولیس اور عام شہریوں کا ایک ساتھ سڑکوں پر نکلنا اس عزم کا اعادہ ہے کہ حق اور سچ کی یہ آواز اس وقت تک بلند ہوتی رہے گی جب تک وادیِ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع نہیں ہو جاتا۔ پاکستانی قوم کا یہ واضح پیغام ہے کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی اور ہر سیاسی، اخلاقی اور سفارتی محاذ پر ان کی کامل حمایت جاری رکھی جائے گی۔ Post navigation ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوٹری کے دورے بھان سید آباد میں پولیس کی بڑی کارروائی: گودام سے 4 ہزار سے زائد مردہ نایاب پرندے برآمد، 2 ملزمان گرفتار