اہم نکات (خلاصہ) حماس کے 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد اسرائیل میں پہلے ملک گیر عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ موجودہ سیاسی اور عسکری بحران کے دوران ہونے والے ان انتخابات پر امریکہ سمیت عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ سابق فوج سربراہ گاڈی آئزن کوٹ موجودہ وزیرِ اعظم کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے سب سے مضبوط اور اہم ترین حریف بن کر سامنے اوبھرے ہیں۔ ان انتخابات کو موجودہ حکومت کی پالیسیوں، سیکیورٹی کی ناکامیوں اور مستقبل کی معاشی و دفاعی ترجیحات پر عوام کا حتمی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمہ: غیر یقینی سیاسی ماحول میں فیصلہ کن معرکہ اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023ء کے خوفناک اور التھلائٹ واقعات کے بعد پہلی بار عوام اپنا نیا سیاسی مستقبل چننے کے لیے ووٹ کا حق استعمال کر رہے ہیں۔ آج صبح سے ملک بھر میں پولنگ کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے، جہاں لاکھوں ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ انتخابات محض اک عام اقتدار کی تبدیلی کا عمل نہیں ہیں بلکہ یہ 7 اکتوبر کی سیکیورٹی ناکامی، غصے اور اس کے بعد سے جاری طویل جنگی بحران پر عوام کی حتمی رائے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس انتخابی معرکے میں سب سے بڑی اور نمایاں پیش رفت سابق فوج سربراہ (چیف آف اسٹاف) گاڈی آئزن کوٹ کا ابھار ہے، جو موجودہ وزیرِ اعظم کے سامنے اپوزیشن کے سب سے مضبوط حریف کے طور پر میدان میں اترے ہیں۔ اس انتخابی مقابلے کے نتائج پر نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ پس منظر: 7 اکتوبر کا واقعہ اور سیاسی ہلچل 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملوں نے اسرائیلی دفاعی اور پاسبان سسٹمز کے ساتھ ساتھ وہاں کی قائم سیاسی ساخت کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے موجودہ انتظامیہ پر شدید عوامی اور سیاسی دباؤ رہا ہے: سیکیورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی: عام عوام اور اپوزیشن رہنماؤں نے 7 اکتوبر کے سرپرائز حملے کو ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا۔ بحران اور حکومت کی کارکردگی: جنگ کے طول پکڑنے، یرغمالیوں کی واپسی میں مشکلات اور بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی نے اندرونی سیاسی کشمکش کو مزید تیز کر دیا۔ انتخابات کا مطالبہ: ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے بعد بالآخر نئے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکا، تاکہ عوام کو یہ موقع ملے کہ وہ نئی قیادت کا انتخاب کر سکیں۔ اپوزیشن کا نیا روپ: گاڈی آئزن کوٹ کا مرکزی کردار ان انتخابات کا سب سے اہم پہلو سابق چیف آف اسٹاف گاڈی آئزن کوٹ کا سیاسی منظر نامے پر مرکزی کردار ہے۔ عسکری پس منظر رکھنے والے آئزن کوٹ کو اس وقت موجودہ وزیرِ اعظم کے خلاف ایک مضبوط متبادل سمجھا جا رہا ہے۔ گاڈی آئزن کوٹ کا سیاسی گراف اور مقبولیت کی وجوہات: عسکری تجربہ: بطور سابق چیف آف اسٹاف، ان کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جن کی دفاعی صلاحیتوں کو ملک میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ غیر جانبدار اور سنجیدہ تاثر: وہ ایک ایسے سیاست دان کے طور پر ابھرے ہیں جو غیر ضروری سیاسی تنازعات سے دور رہتے ہوئے ٹھوس سیکیورٹی اور انتظامی حکمتِ عملی کی بات کرتے ہیں۔ وسطی و اپوزیشن اتحاد: انہوں نے مختلف اپوزیشن دھڑوں کو ایک پیج پر لانے اور موجودہ قیادت کے خلاف ایک مضبوط محاذ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گاڈی آئزن کوٹ کی اس بڑھتی ہوئی مقبولیت نے موجودہ وزیرِ اعظم اور ان کی حکمراں جماعت کے لیے اقتدار بچانے کا چیلنج پہلے سے کہیں زیادہ سخت کر دیا ہے۔ انتخابی اور سیاسی اعداد و شمار: ایک نظر میں موجودہ انتخابات کے اہم پہلوؤں اور اعداد و شمار کا جائزہ درج ذیل نکات سے لگایا جا سکتا ہے: واقعہ کٹ آف: 7 اکتوبر 2023ء کے واقعات کے بعد یہ ملک کا پہلا عمومی انتخاب ہے۔ مرکزی انتخابی تنازع: سیکیورٹی کی ناکامی کا محاسبہ بمقابلہ موجودہ حکومت کا دفاعی تسلسل۔ مرکزی حریف: موجودہ وزیرِ اعظم بمقابلہ سابق عسکری سربراہ گاڈی آئزن کوٹ۔ بین الاقوامی توجہ: امریکہ اور یورپی یونین ان انتخابات کو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام اور مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی کے نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ عالمی اور امریکی زاویہ: واشنگٹن کی گہری نظریں ان انتخابات پر صرف اندرونی طور پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، خصوصاً امریکہ ان نتائج کا بڑی باریکی سے مشاہدہ کر رہا ہے۔ امریکہ کے لیے یہ انتخابات درج ذیل وجوہات کی بنا پر انتہائی اہمیت کے حامل ہیں: مستقبل کی سیکیورٹی پالیسی: واشنگٹن یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ نئی حکومت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کی کوششوں کے حوالے سے کیا مؤقف اپناتی ہے۔ سفارتی تعلقات: امریکی انتظامیہ اور موجودہ اسرائیلی قیادت کے درمیان بعض امور پر پائے جانے والے تحفظات کے بعد، یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نئی قیادت کی آمد سے سفارتی تعلقات کی نوعیت بدل سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا علاقائی استحکام: خطے میں دیرپا امن اور تجارتی و سفارتی تعلقات کی بحالی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آنے والی حکومت کا سیاسی رویہ کتنا متوازن ہوتا ہے۔ اندرونی معاشی و سماجی اثرات 7 اکتوبر کے بعد کی جنگ نے صرف سیکیورٹی کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ ملکی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ووٹنگ کے دوران شہریوں کے ذہنوں میں درج ذیل مسائل سرِ فہرست ہیں: 1. معاشی بحران اور مہنگائی جنگ کے اخراجات، سیاحت کی تباہی اور کاروباری سرگرمیوں میں سست روی کے باعث عام شہری معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ووٹرز ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر لا سکے۔ 2. اندرونی تقسیم اور سماجی دراڑیں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملک میں شدید سیاسی اور سماجی پولرائزیشن (تقسیم) دیکھی گئی ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ نئی حکومت ہی ملک میں یکجہتی اور یکسانیت بحال کر سکتی ہے۔ 3. سیکیورٹی ماڈل کی تجدید شہری اب ایک ایسا سیکیورٹی نظام چاہتے ہیں جو آئندہ کسی بھی قسم کی اچانک کارروائی کو روکنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو۔ نتیجہ 7 اکتوبر کے واقعات کے بعد ہونے والے یہ انتخابات محض ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ خطے کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے بحران کے بعد ایک نیا راستہ متعین کرنے کی کوشش ہیں۔ موجودہ وزیرِ اعظم اور سابق عسکری سربراہ گاڈی آئزن کوٹ کے درمیان یہ سخت مقابلہ اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ آیا عوام موجودہ پالیسیوں پر اعتماد برقرار رکھتے ہیں یا ایک نئی عسکری و سیاسی قیادت کے تحت تبدیلی کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج رات جب پولنگ کے بعد ابتدائی نتائج آنا شروع ہوں گے، تو نہ صرف اس ملک کا نیا سیاسی رخ واضح ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کی حکمتِ عملی کا نیا باب بھی شروع ہوگا۔ Post navigation ایران نے آج تہران میں سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطحی سیکورٹی سربراہی اجلاس کی تصدیق کی۔