اہم نکات ٹیکس دہندگان پر بھاری مالی بوجھ: برطانوی پارلیمان کی عوامی اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے خبردار کیا ہے کہ اربوں پاؤنڈز لاگت کے ‘سائزویل سی’ (Sizewell C) نیوکلیئر پاور پروجیکٹ کا مالیاتی ماڈل ٹیکس دہندگان کے لیے ایک “انتہائی برا سودا” ثابت ہو رہا ہے، جس میں تمام تر خطرات کا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ لاگت میں شدید اضافے کے خدشات: منصوبے کی کل لاگت 40.5 ارب پاؤنڈ سے بڑھ کر 47.7 ارب پاؤنڈ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے؛ تاہم معاہدے کی شرائط کے مطابق اگر اخراجات حد سے تجاوز کرتے ہیں تو اضافی بوجھ کا بڑا حصہ صارفین اور ٹیکس دہندگان کو اٹھانا پڑے گا جبکہ نجی سرمایہ کاروں کا رسک انتہائی محدود رکھا گیا ہے۔ شفافیت کا مطالبہ: کمیٹی نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کی پیشرفت اور بجلی کے بلوں پر اس کے ممکنہ اثرات سے متعلق ہر چھ ماہ بعد پارلیمان اور عوام کو شفاف رپورٹس فراہم کی جائیں۔ لندن: برطانیہ کی قومی توانائی کی پالیسی اور مالیاتی حکمت عملی کو اس وقت شدید سوالات کا سامنا ہے جب برطانوی پارلیمان کی بااثر کمیٹی نے سائزویل سی (Sizewell C) ایٹمی بجلی گھر کے مالیاتی ڈھانچے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارلیمانی رپورٹ کے مطابق، حکومت کا بنایا ہوا فنانسنگ ماڈل نہ صرف غیر متوازن ہے بلکہ یہ برطانوی ٹیکس دہندگان اور عام بجلی کے صارفین کو ایک بے پناہ مالیاتی خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انگلینڈ کے کاؤنٹی سوفوک (Suffolk) کے ساحل پر واقع اس مجوزہ ایٹمی بجلی گھر کے ذریعے لاکھوں گھروں کو صاف اور پائیدار توانائی فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ تاہم، پارلیمان کی عوامی اکاؤنٹس کمیٹی (Public Accounts Committee – PAC) کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے اس تاثر کو زبردست دھچکا پہنچایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کی مالیاتی ساخت نجی کمپنیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خاطر خواہ منافع فراہم کرتی ہے، جبکہ منصوبے کی تاخیر، اضافی لاگت اور کسی بھی ناگہانی نقصان کا پورا بوجھ برطانوی عوام کے سر پر تھوپ دیا گیا ہے۔ منصوبے کا پس منظر اور مالیاتی ڈھانچہ سائزویل سی نیوکلیئر پروجیکٹ برطانیہ کو سنہ 2050ء تک صاف توانائی اور “نیٹ زیرو” کاربن کے اہداف حاصل کرنے میں مدددگار بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس پاور پلانٹ کا بنیادی ڈیزائن فرانس اور چین کے ایٹمی بجلی گھروں پر مبنی ہے، لیکن دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی پر مبنی ایٹمی منصوبے ماضی میں مقررہ وقت اور بجٹ کے اندر مکمل ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت نے اس پروجیکٹ کے لیے ایک نیا مالیاتی ماڈل (Regulated Asset Base Model) متعارف کرایا تھا۔ اس ماڈل کا مقصد یہ تھا کہ تعمیر کے دوران ہی بجلی کے صارفین کے بلوں سے پیسہ اکٹھا کر کے سرمایہ کاروں کو فوری طور پر منافع فراہم کیا جائے تاکہ وہ ایٹمی شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو سکیں۔ لیکن پارلیمانی کمیٹی کے مطابق اس ماڈل نے نجی سرمایہ کاروں کو تقریباً ہر قسم کے مالیاتی خطرے سے آزاد کر دیا ہے۔ اعداد و شمار اور مالیاتی خطرات کا جائزہ پارلیمانی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر منصوبے میں تاخیر یا لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس کا بوجھ کس طرح تقسیم کیا جائے گا۔ اعداد و شمار کے مطابق: منصوبے کی کل تخمینی لاگت: 40.5 ارب پاؤنڈ سے لے کر 47.7 ارب پاؤنڈ تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ تعمیراتی مدت: اس منصوبے کی تعمیر کا کام سنہ 2039ء سے 2043ء کے درمیان مکمل ہونے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ حکومتی اور عوامی سرمایہ کاری: برطانوی حکومت ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے 3.8 ارب پاؤنڈ کی ایکویٹی اور تقریباً 37 ارب پاؤنڈ کے سرکاری قرضے فراہم کر رہی ہے۔ نجی سرمایہ کاروں کی شراکت: نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا حصہ محض چند ارب پاؤنڈز تک محدود ہے۔ اضافی لاگت کا غیر مساوی بوجھ: اگر تعمیر کی لاگت مقررہ حد سے آگے نکلتی ہے، تو نجی سرمایہ کاروں کو صرف 3 کروڑ (30 ملین) پاؤنڈ مزید دینے ہوں گے، جبکہ صارفین اور ٹیکس دہندگان کو تعمیر کے دوران 9.8 ارب پاؤنڈ اور 60 سالہ آپریشنل عرصے میں مزید 12 ارب پاؤنڈ بجلی کے بلوں کی صورت میں ادا کرنے پڑیں گے۔ پارلیمانی کمیٹی کے تحفظات اور اہم خدشات عوامی اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی اور اراکین نے واضح کیا ہے کہ جب کسی منصوبے میں زیادہ تر سرمایہ اور ضمانت حکومت اور عوام کی طرف سے دی جا رہی ہو، تو انتظام اور فیصلہ سازی پر کنٹرول بھی عوام کا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اس ماڈل کے تحت حکومت نے نجی شعبے کو بااختیار بنا دیا ہے۔ کمیٹی نے درج ذیل اہم تحفظات کی نشاندہی کی ہے: سرمایہ کاروں کے لیے تحرک کا فقدان: چونکہ نجی کمپنیوں کی اپنی رقم پر زیادہ خطرہ نہیں ہے، اس لیے ان کے پاس اس بات کی کوئی مضبوط وجہ نہیں ہوگی کہ وہ منصوبے کو وقت پر اور بجٹ کے اندر مکمل کرنے کی سخت کوشش کریں۔ غیر فعال ہونے (ڈی کمیشننگ) کے اخراجات: ایٹمی بجلی گھر کی 60 سالہ مدت پوری ہونے کے بعد اسے بند کرنے اور ریڈیو ایکٹو مواد کو تلف کرنے کے اخراجات میں اگر کمی پیش آتی ہے تو نجی کمپنیوں کے فنڈ کے ختم ہونے کے بعد بقیہ اربوں پاؤنڈز بھی برطانوی ٹیکس دہندگان کو ہی بھرنے ہوں گے۔ موجودہ سالانہ رپورٹس کا غیر کافی ہونا: حکومت کا سال میں صرف ایک بار رپورٹ پیش کرنا ایسے نازک اور اربوں پاؤنڈ کے منصوبے کی نگرانی کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ “حکومت نے ایک ایسا طریقہ کار اپنایا ہے جہاں نجی سرمایہ کار تو منافع کما کر نکل جائیں گے لیکن تاخیر اور بڑھتے ہوئے بجٹ کے کھربوں کے بل ٹیکس دہندگان اور بجلی کے صارفین کو ادا کرنے پڑیں گے۔ برطانیہ کا ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ ایٹمی بجلی گھروں پر ہمیشہ لاگت بڑھی ہے اور حکومت کو اس ناقص معاہدے سے سبق سیکھنا چاہیے تھا۔” — عوامی اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی رپورٹ حکومتی موقف اور دفاع دوسری جانب، برطانیہ کی وزارتِ توانائی اور سائزویل سی پروجیکٹ کے انتظامی عہدے داران نے اس رپورٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر گیس اور فوسل فیول (تیل و کوئلہ) کی قیمتوں میں غیر مستحکم حالت کی وجہ سے برطانیہ کو توانائی کی حفاظت اور خود کفالت کی شدید ضرورت ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق: مقامی معیشت میں اضافہ: سائزویل سی کی تعمیر سے برطانیہ کی مقامی معیشت کو تقریباً 26.6 ارب پاؤنڈز کا فائدہ پہنچے گا اور مقامی صنعتوں و سپلائرز کے لیے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ طاقتور اور صاف توانائی: یہ پروجیکٹ چھ ملین سے زائد گھروں کو سستی اور مسلسل بجلی فراہم کرنے کی صلاحیّت رکھے گا جو سورج نہ چمکنے یا ہوا نہ چلنے کے وقت بھی گرڈ کو مستحکم رکھے گی۔ عالمی منڈی سے تحفظ: ایٹمی توانائی کے ذرائع برطانیہ کے گھروں کو عالمی گیس بحران کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تحفظ فراہم کریں گے۔ توانائی پالیسی اور اقتصادی اثرات اس تنازع نے برطانیہ کی مجموعی گرین انرجی اور ایٹمی پالیسی کے گرد ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک طرف ماحولیاتی مقاصد اور ایندھن کے متبادل کی ضرورت پر کسی کو شک نہیں، لیکن دوسری طرف ملک پر پہلے سے موجود مالیاتی دباؤ، مہنگائی اور عوام پر بجلی کے بھاری بلوں کے بوجھ نے اس منصوبے کے مالیاتی پہلوؤں کو ایک سنگین سیاسی موضوع بنا دیا ہے۔ سیاسی و معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سائزویل سی کی لاگت میں فرانس اور فن لینڈ کی طرز پر تاخیر کے باعث اضافہ ہوا، تو یہ برطانیہ کے بجٹ اور مستقبل کی انرجی مارکیٹ کے لیے ایک تباہ کن شے ثابت ہو سکتا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے یہی وجہ ہے کہ حکومت کو تاکید کی ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ کے اندر ان تمام بنیادوں اور مفروضوں کا تفصیلی حساب پارلیمان کے سامنے پیش کرے جن پر انہوں نے یہ منصوبہ قبول کیا تھا۔ نتیجہ سائزویل سی نیوکلیئر پروجیکٹ پر برطانوی پارلیمان کے اراکین کے حالیہ انکشافات نے ملک کی توانائی کی حکمت عملی کو ایک کٹھن کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ صاف توانائی حاصل کرنے کا عزم اپنی جگہ، لیکن اس کے لیے اپنایا گیا مالیاتی فریم ورک برطانوی شہریوں اور بجلی کے صارفین پر بے جا رسک ڈال رہا ہے۔ حکومت کے سامنے اب بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے اس منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنائے اور ٹیکس دہندگان کی رقم کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے، ورنہ یہ معاہدہ برطانیہ کے مالیاتی تاریخ کے مہنگے ترین اور ناقص ترین فیصلوں میں شمار ہوگا۔ Post navigation اسرائیل میں تاریخی ووٹنگ: نتن یاہو کی 14 سالہ حکمرانی کے خاتمے کا امکان، ووٹرز کا اب تک کا سب سے بڑا تناسب درج پاکستان کا زراعت اور توانائی کو محفوظ بنانے کے لیے بڑا اقدام: 2029ء تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 23.54 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھانے کا ہدف