اہم نکات (خلاصہ) واقعے کی تفصیل: جیکب آباد میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے بالکل سامنے نامعلوم مسلح ملزمان نے سینئر صحافی عاشق حسین دايو کے نوجوان بیٹے محمد حسنین دايو کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر نقدی اور موبائل فون لوٹ لیا۔ امنے سامنے سکیورٹی کے دعوے: قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مرکزی دفتر اور ضلعی ہیڈ کوارٹر کے عین سامنے دن دہاڑے ہونے والی اس واردات نے شہر کے امن و امان اور پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ صحافتی اور عوامی ردعمل: ضلع بھر کی صحافتی تنظیموں، سول سوسائٹی اور معززین شہر نے اس لرزہ خیز واردات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری نوٹس لینے اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبۂ انصاف: ایس ایس پی جیکب آباد سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر اسٹریٹ کرائمز کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکیں اور صحافی برادری کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ مقدمہ: شہر میں بڑھتا ہوا عدم تحفظ اور سنگین نوعیت کے جرائم صوبہ سندھ کے شمال میں واقع تاریخی اور اہم شہر جیکب آباد ایک بار پھر سے سنگین جرائم اور بالخصوص اسٹریٹ کرائمز کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی صحافی برادری بلکہ پورے شہر کے باسیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ریاست کے تمام تر دعوے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جاتے ہیں، ضلعی پولیس کے مرکزی دفتر یعنی “پولیس ہیڈ کوارٹر” کے بالکل سامنے اسٹریٹ کرائمز کی یہ واردات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ یہ واقعہ محض ایک انفرادی ڈکیتی یا چوری کا نہیں ہے، بلکہ یہ اس عمومی زوال پذیر امن و امان کی عکاسی کرتا ہے جو طویل عرصے سے سندھ کے اندرونی اضلاع کے عوام کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اس واقعے کے تناظر میں جب ہم جیکب آباد کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں، تو کئی بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں جن کا جواب متعلقہ اداروں کے پاس ہونا ناگزیر ہے۔ واقعے کا پس منظر اور چشم دید احوال موصولہ اطلاعات کے مطابق، نامور اور سینئر صحافی عاشق حسین دايو کے صاحبزادگان میں سے نوجوان محمد حسنین دايو کسی ذاتی و ضروری سلسلے میں گھر سے باہر موجود تھے۔ اسی دوران جب وہ جیکب آباد کے انتہائی حساس اور مرکزِ نگاہ سمجھے جانے والے مقام یعنی ‘پولیس ہیڈ کوارٹر’ کے سامنے سے گزر رہے تھے، تو پہلے سے تاک میں بیٹھے ہوئے نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان نے انہیں گھیر لیا۔ ذرائع کے مطابق ملزمان نے انتہائی مہارت اور سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرعام اسلحہ تان لیا اور محمد حسنین دايو کو کسی بھی قسم کی مزاحمت کرنے کا موقع نہیں دیا۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق اس واردات میں درج ذیل نقصان اٹھانا پڑا: قیمتی موبائل فون: نوجوان کے زیرِ استعمال قیمتی اسمارٹ فون ملزمان زبردستی چھین کر لے گئے۔ نقدی کی لوٹ مار: جیب میں موجود تمام نقدی اور روزمرہ کے استعمال کے لیے رکھی گئی رقم بھی ملزمان نے اپنے قبضے میں لے لی۔ دیگر ذاتی سامان: اس کے علاوہ کچھ اہم کاغذی دستاویزات اور دیگر قیمتی اشیا بھی اس لوٹ مار کی زد میں آ گئیں۔ واردات کو انجام دینے کے بعد سفاک ملزمان باآسانی ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے یا خوف و ہراس پھیلاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سب سے زیادہ حیران کن اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ سارا ماجرا ضلعی پولیس کے مرکزی دفتر کے بالکل سامنے پیش آیا، جہاں چوبیس گھنٹے پولیس اہلکار، سکیورٹی گارڈز اور مختلف نوعیت کی گشت کرنے والی گاڑیاں موجود رہتی ہیں۔ پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے ڈکیتی: سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان کسی بھی شہر میں پولیس ہیڈ کوارٹر کا علاقہ سب سے زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے، پولیس چوکیوں، ناکوں اور وردی میں ملبوس اہلکاروں کی بھاری نفری کی موجودگی کی وجہ سے عام طور پر جرائم پیشہ افراد اس طرف کا رخ کرنے سے کتراتے ہیں۔ تاہم، جیکب آباد کا یہ واقعہ اس فرضی حفاظتی حصار کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ اس واقعے نے چند سنگین سوالات کو جنم دیا ہے: انٹیلی جنس اور گشت کا نظام: کیا پولیس کا مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورک اور گشت کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے؟ جرائم پیشہ افراد کی دلیری: کیا جرائم پیشہ عناصر اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی براہِ راست موجودگی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے؟ شہریوں کا تحفظ: جب صحافیوں اور بااثر شخصیات کے گھرانے تک محفوظ نہیں ہیں، تو ایک عام شہری کی جان و مال کا پرسانِ حال کون ہے؟ یہ صورتحال نہ صرف انتظامیہ کی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ فوری طور پر اعلیٰ سطح پر پالیسی کا جائزہ لیا جائے۔ صحافتی برادری کا ردعمل اور ایس ایس پی سے پرزور مطالبہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی جیکب آباد سمیت سندھ بھر کی صحافتی تنظیموں، پریس کلبز کے عہدیداران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ سینئر صحافی عاشق حسین دايو کے بیٹے کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کو صحافت پر بالواسطہ دباؤ اور دندناتے ہوئے غنڈہ راج کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی صحافیوں نے ہنگامی بنیادوں پر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس میں متفقہ طور پر یہ مؤقف اپنایا گیا کہ: فوری نوٹس: ضلعی پولیس کے سربراہ (ایس ایس پی جیکب آباد) کو اس واقعے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ملزمان کی گرفتاری: واردات میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر ٹریس کر کے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے۔ چھینا گیا سامان کی برآمدگی: محمد حسنین دايو سے لوٹا گیا موبائل فون، نقدی اور دیگر سامان فوری طور پر بازیاب کرا کر ان کے حوالے کیا جائے۔ صحافیوں کے لیے تحفظ: شہر بھر میں کام کرنے والے صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں تاکہ وہ کسی خوف کے بغیر اپنا پیشہ ورانہ فریضہ سر انجام دے سکیں۔ پس منظر: جیکب آباد میں اسٹریٹ کرائمز کا بڑھتا ہوا گراف اگر ہم جیکب آباد اور اس کے گردونواح کے علاقوں کا پچھਲੇ کچھ مہینوں کا ریکارڈ دیکھیں، تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اسٹریٹ کرائمز اور چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ موٹر سائیکل چھیننے، دکانوں میں نقب زنی اور راہ چلتے شہریوں کو لوٹنے کے واقعات اب روز کا معمول بن چکے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے گراف کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہو سکتی ہیں: پولیس کی تفتیشی صلاحیتوں میں کمی اور پرانی فرسودہ طریقوں پر انحصار۔ با اثر جرائم پیشہ عناصر کی مبینہ پشت پناہی یا قانون کی کمزور گرفت۔ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر کڑی مانیٹرنگ کا فقدان۔ ان تمام عوامل نے مل کر عام آدمی کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے۔ لوگ اب دن دہاڑے بھی باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ نتائج اور مستقبل کے لیے لائحہ عمل جیکب آباد میں پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے پیش آنے والا یہ واقعہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس معاملے میں فوری، شفاف اور سخت کارروائی عمل میں نہ لائی گئی، تو اس کے معاشرے پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری: یہ صوبائی حکومت اور محکمہ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ عوامی اعتماد کی بحالی: پولیس کو فوری طور پر اپنی رٹ بحال کرنا ہو گی تاکہ عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے اٹھتا ہوا اعتماد بحال ہو سکے۔ ہم ایک بار پھر اعلیٰ حکام، بالخصوص ایس ایس پی جیکب آباد سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں، اور جیکب آباد کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے ایک مؤثر اور جامع گرینڈ آپریشن کا آغاز کریں۔ صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، اور اس ستون کے محافظین کو اس طرح بے یار و مددگار چھوڑنا کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابلِ برداشت ہے۔ Post navigation سیالکوٹ: معروف انٹرنیٹ شخصیت مسٹر پتلو کی تقریبِ عروسی میں بھگدڑ، 4 افراد جاں بحق، متعدد زخمی جامشورو: باریجہ اور برفت برادری کے تنازع میں دلشیر برفت کا قتل، ایس ایس پی کی ورثاء سے ملاقات اور ملزمان کی جلد گرفتاری کا عزم