Preloader
One slays, another pays

اہم نکات (خلاصہ)

  • مالی بوجھ کی منتقل: بجلی کی تاروں، ٹرانسفارمرز اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کی مرمت و بحالی کا بوجھ ٹیکسوں اور بھاری بلوں کی صورت میں عوام پر منتقل کیے جانے کی تیاری پر عوامی حلقوں میں تشویش۔
  • شفافیت اور احتساب کا مطالبہ: ماہرین اور عوام کا مطالبہ ہے کہ نظام کی تبا ہی اور وسائل کے نامناسب استعمال پر سست روی کا مظاہرہ کرنے والے ذمہ داران کا احتساب کیا جائے نہ کہ شہریوں پر اضافی ٹیکس عائد کیے جائیں۔
  • مہنگائی اور سرچارجز کا دباؤ: بجلی کے بنیادی بلوں میں مختلف قسم کے ٹیکسز، ایندھن کی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ اور اضافی سرچارجز کی وجہ سے عام شہری کی قوتِ خرید پہلے ہی جواب دے چکی ہے۔
  • اصلاحات کی ضرورت: ماہرینِ توانائی کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے کم کرنے اور چوری روکنے کے لیے جدید تکنیکی حل اپنائے جائیں تاکہ غریب طبقے کو ریلیف مل سکے۔

ابتدائیہ: قومی وسائل کا ضیاع اور عام شہری پر منتقل ہوتا بوجھ

ہمارے سماج میں ایک پرانی کہاوت عام ہے کہ ’’کرے کوئی، بھرے کوئی‘‘— یعنی غلطی، غفلت یا ناجائز فائدہ کسی ایک فریق کا ہو اور اس کی قیمت کسی دوسرے بے گناہ فریق کو ادا کرنا پڑے۔ ملک کے پاور سیکٹر (توانائی کے شعبے) اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے موجودہ حالات کو دیکھا جائے تو یہ کہاوت بالکل درست ثابت ہوتی نظر آتی ہے۔

برسوں سے بجلی کی تقسیم کے بنیادی ڈھانچے، واپڈا کے ٹرانسفارمرز، مرکزی تاروں اور دیگر فنی وسائل کا نامناسب استعمال کیا گیا، لیکن جب اب اس پورے نظام کی مرمت، تبدیلی اور بحالی کا وقت آیا ہے تو اس کا تمام تر مالی بوجھ ایک بار پھر غریب اور متوسط طبقے پر ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پہلے سے مہنگائی کے شدید دباؤ کا شکار عوام کے ذہنوں میں اب یہ سوال شدت سے ابھر رہا ہے کہ آخر کب تک عام شہری دوسروں کی نااہلی اور بدعنوان انتظامی رویوں کی قیمت اپنے خون پسینے کی کمائی سے چکاتا رہے گا؟

پاور سیکٹر کا تاریخی پس منظر: خامی کہاں سے شروع ہوئی؟

بجلی کی فراہمی اور تقسیم کا نظام کسی بھی ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم ہمارے ملک میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران پاور سیکٹر میں کئی بنیادی اور ساخت جاتی (Structural) خامیوں نے جنم لیا:

  1. نظام کی دیکھ بھال میں غفلت: وقت کے ساتھ ساتھ ٹرانسفارمرز اور ترسیلی تاروں کی بروقت مرمت اور اپ گریڈیشن پر توجہ نہیں دی گئی۔
  2. غیر قانونی کنکشن اور چوری: بعض علاقوں میں بجلی کی چوری، غیر قانونی کنکشنز اور لائن لاسز (Line Losses) کے باعث نظام پر ضرورت سے زیادہ بوجھ پڑا جس سے ٹرانسفارمرز جلنے اور تاریں ٹوٹنے کے واقعات عام ہوئے۔
  3. وسائل کا نامناسب استعمال: اربوں روپے کے بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کے باوجود ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے بنیادی انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے بجائے عارضی حل تلاش کیے۔

ان تمام عوامل کا نتیجہ یہ نکلا کہ بجلی کا ترسیلی نظام جگہ جگہ سے بوسیدہ ہو چکا ہے اور اب اس کی مکمل بحالی کے لیے خطیر رقم کی ضرورت ہے، جو بالآخر بلوں اور سرچارجز کی شکل میں صارفین سے وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔

بجلی بلوں کی موجودہ ساخت: عام صارف کس قدر بوجھ تلے ہے؟

عام شہری کے لیے بجلی کا بل اب محض استعمال شدہ یونٹس کی قیمت نہیں رہا بلکہ اس میں متعدد قسم کے ٹیکس اور اضافی چارجز شامل کیے جاتے ہیں۔ ایک عام صارف کے بل کا تجزیہ ذیل میں واضح کیا گیا ہے:

  • بنیادی یونٹ کی قیمت: اصل بجلی کی لاگت ਜੋ استعمال کی گئی ہو۔
  • ایندھن کی قیمت کی ایڈجسٹمنٹ: عالمی مارکیٹ میں ایندھن (تیل، گیس) کی قیمتوں کے تاثر کو پورا کرنے کے لیے ہر ماہ شامل کیا جانے والا چارج۔
  • سرچارجز اور ٹریف: مختلف اوقات میں عائد کیے جانے والے سرچارجز تاکہ تقسیم کار کمپنیوں کے خسارے پورے کیے جا سکیں۔
  • سرکاری اور بلدیاتی ٹیکس: جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، ٹی وی فیس اور مختلف مقامی ٹیکسز جو بل میں شامل ہوتے ہیں۔

جب بھی ٹرانسفارمر کی تبدیلی یا تاروں کی مرمت کا مسئلہ پیش آتا ہے تو علاقائی سطح پر یا تو صارفین سے خود چندہ جمع کرنے کی شکایات سامنے آتی ہیں یا پھر کمپنیوں کے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے مجموعی ٹریف میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

┌─────────────────────────────────────────────────────────┐
│              بجلی کا بل: عام صارف پر مالی بوجھ          │
└────────────────────────────┬────────────────────────────┘
                             │
       ┌─────────────────────┼─────────────────────┐
       │                     │                     │
 ┌─────▼──────┐        ┌─────▼──────┐        ┌─────▼──────┐
 │ استعمال شدہ│        │ ایندھن ایڈ   │        │ بنیادی     │
 │  یونٹس     │        │ جسٹمنٹ     │        │ انفراسٹرکچر│
 └─────┬──────┘        └─────┬──────┘        │ سرچارجز    │
       │                     │                └─────┬──────┘
       └─────────────────────┼──────────────────────┘
                             │
                    ┌────────▼────────┐
                    │ بھاری مالی دباؤ │
                    └─────────────────┘

معروضی ڈیٹا و اعداد و شمار: لائن لاسز اور گردشی قرضہ

توانائی کے شعبے میں درپیش مسائل اور غریب عوام پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع کے اعداد و شمار پر نظر ڈالنا ضروری ہے:

  • لائن لاسز کا تناسب: ملک کے متعدد تقسیم کار علاقوں میں فنی خرابیوں اور بجلی چوری کے باعث لائن لاسز ۱۰ فیصد سے ۳۰ فیصد تک پہنچ جاتے ہیں، جس کا خمیادہ بالواسطہ طور پر بل ادا کرنے والے باقاعدہ صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے۔
  • بلوں کی وصولی کا تناسب: کئی اضلاع میں بلوں کی وصولی کی شرح ۱۰۰ فیصد کے قریب ہوتی ہے، مگر وہاں کے عوام کو بھی انہی سرچارجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو عدم وصولی والے علاقوں کی وجہ سے عائد ہوتے ہیں۔
  • ٹرانسفارمرز کی خرابی: گرمیوں کے موسم میں زیادہ بوجھ کے باعث سالانہ ہزاروں ٹرانسفارمرز ناکارہ ہوتے ہیں، جن کی بروقت تبدیلی کے لیے اکثر مقامی شہریوں کو طویل انتظار یا غیر رسمی اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

صحافتی و ایڈیٹوریل تجزیہ: انصاف، شفافیت اور احتساب کا مطالبہ

ایک صحافتی اور ایڈیٹوریل نقطہ نظر سے، بجلی کے نظام کی بحالی کے لیے عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا نہ صرف معاشی طور پر غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے ریاست اور عوام کے درمیان قائم اعتماد کا رشتہ بھی متاثر ہوتا ہے۔

۱. بلا تفریق احتساب کا فقدان

اگر واپڈا یا بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے انفراسٹرکچر میں خرابیاں پیدا ہوئی ہیں تو سب سے پہلے ان افسران اور عملے سے حساب لیا جانا چاہیے جن کی نگرانی میں یہ وسائل خراب ہوئے یا جن کی غفلت کی وجہ سے خطیر فنڈز ضائع ہوئے۔ جو لوگ مراعات حاصل کر کے چلے گئے، ان کے فیصلوں کا بوجھ دیہاڑی دار اور تنخواہ دار طبقے پر ڈالنا آئینی و اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔

۲. صارفین کے بنیادی حقوق کا تحفظ

قانون کے مطابق باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین کو معیاری اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کمپنیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر کمپنی اپنے ڈسٹری بیوشن سسٹم کو سنبھالنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کا حل نئے ٹیکس لگانا نہیں بلکہ انتظامی اصلاحات لانا ہے۔

۳. معاشی اثرات

جب بجلی مہنگی ہوتی ہے اور ٹرانسفارمرز و تاروں کی مرمت کے نام پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف گھروں تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے چھوٹے دکاندار، کسان (ٹوب ویل صارفین) اور cottage industry شد ید متاثر ہوتی ہے، جس سے ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔

ممکنہ حل: غریب عوام کو ریلیف دینے کی حکمتِ عملی

مسئلے کا حل عوام کی جیبوں پر مزید ڈاکہ ڈالنے میں نہیں بلکہ سائنسی اور انتظامی اصلاحات میں پنہاں ہے۔ ماہرینِ توانائی مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کرتے ہیں:

  1. ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات: سمارٹ میٹرز (Smart Meters) اور اے بی کیبلز (Anti-Theft Cables) کا نفاذ کیا جائے تاکہ بجلی چوری کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے اور صرف چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
  2. آڈٹ اور شفافیت: انفراسٹرکچر پر خرچ ہونے والے ہر روپے کا ففٹ پارٹی (Third-party) آڈٹ کرایا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ ماضی کے فنڈز کہاں اور کیسے استعمال ہوئے۔
  3. کامیاب و ناکام کمپنیوں کی الگ درجہ بندی: جو ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ریکوری بہتر رکھتی ہیں ان کے صارفین کو رعایت دی جائے، نہ کہ تمام ڈویژنز کے ساتھ یکساں ناانصافی کی جائے۔
  4. ذمہ داران کا تعین: ٹرانسفارمرز اور تاروں کے جلنے یا وقت سے پہلے خراب ہونے پر متعلقہ ایس ڈی او (SDO) اور ایکسیئن (XEN) سے جواب طلبی کی جائے تاکہ غفلت کا سدِباب ہو سکے۔

اختتامیہ: فیصلہ سازوں سے سوال

حکومت اور پاور سیکٹر کے فیصلہ سازوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ غریب عوام کی برداشت کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ مہنگائی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے دور میں بجلی کی تاروں اور ٹرانسفارمرز کی بحالی کا بوجھ عام شہریوں پر منتقل کرنا کسی طور پر بھی دانشمندانہ قدم نہیں ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ “کرے کوئی، بھرے کوئی” کا یہ فرسودہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے۔ قومی وسائل کے شفاف حساب کتاب اور نااہل ذمہ داران کے بلا تفریق احتساب کے بغیر پاور سیکٹر کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ایسے اقدامات کرے جن سے عام صارفین کو ریلیف ملے اور بجلی کے ترسیلی نظام کی بحالی کا کام محکمے کے اپنے داخلی فنڈز اور اصلاحات سے پورا کیا جائے۔