Preloader
Corruption in food department exposed

اہم نکات (خلاصہ)

  • جعلی ڈیلروں کے ذریعے کوٹہ کی فراہمی: محکمہ خوراک کے سرکاری گوداموں سے 21 جعلی ڈیلروں کے نام پر 20 کلوگرام آٹے کی 18 ہزار بوریوں کی غیر قانونی فراہمی کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔
  • ہفتہ وار لاکھوں روپے کی وصولی: پشاور کی 21 فلور ملوں سے ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 63 لاکھ روپے کی مبینہ غیر قانونی وصولی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
  • اعلیٰ و جونیئر افسران کی سرپرستی: اسکینڈل میں ضلعی فوڈ آفیسر سمیت متعدد اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولرز، فوڈ انسپکٹرز اور فوڈ سپروائزرز کے ملوث ہونے اور نیٹ ورک کی سرپرستی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
  • ڈیجیٹل ڈیٹا اور چھان بین کا مطالبہ: 27 جولائی 2026 سے اب تک کے آئی سی ٹی ایپ ڈیٹا اور تمام ڈیلرز کے یومیہ کوٹے کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین سے مزید بے ضابطگیاں سامنے آنے کا امکان ہے۔

پشاور: محکمہ خوراک میں مالی بے ضابطگیوں اور لوٹ مار کا نیا باب

خیبر پختونخوا کے محکمہ خوراک میں مالی بدعنوانی، کرپشن اور عہدے کے ناجائز استعمال کا ایک اور بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس نے صوبائی انتظامیہ اور محکمے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کر دیے ہیں۔ ذرائع اور دستیاب اطلاعات کے مطابق سرکاری گوداموں سے عوامی سبسڈائزڈ آٹے اور گندم کی تقسیم کے نظام میں بڑے پیمانے پر جعلی اندراجات کا سہارا لے کر لوٹ مار کی گئی ہے۔

اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ کس طرح عام شہریوں کے لیے مختص سرکاری کوٹے کو کاغذات میں جعلی ڈیلروں کے نام منتقل کر کے بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا رہا۔ اس سنگین بے ضابطگی کی وجہ سے جہاں ایک طرف قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے، वहीं دوسری طرف عام عوام کو سستے آٹے کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

21 جعلی ڈیلر اور 18 ہزار آٹے کی بوریوں کا غائب ہونا

تحقیقاتی ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے اعداد و شمار نے محکمے کے اندر قائم مبینہ کرپشن کے جال کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ کاغذات میں 21 ایسے ڈیلروں کے نام شامل کیے گئے جن کا وجود ہی نہیں تھا یا پھر ان کے شناختی کوائف کا غلط استعمال کیا گیا۔ ان جعلی ڈیلروں کے نام پر سرکاری گوداموں سے 20 کلوگرام آٹے کی ہزاروں بوریاں جاری کی گئیں۔

مالی اور بنیادی ڈیٹا کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:

  • جعلی ڈیلرز کی تعداد: کاغذات اور ریکارڈ میں 21 جعلی ڈیلروں کے ناموں پر سرکاری آٹے کا کوٹہ جاری کیا گیا۔
  • آٹے کی بوریوں کی تعداد: جعلی اندراج کی آڑ میں 20 کلوگرام وزن کی کل 18 ہزار بوریاں سرکاری گوداموں سے اٹھائی گئیں۔
  • فلور ملوں سے ہفتہ وار وصولی: پشاور کی 21 فلور ملوں سے مبینہ طور پر فی کس بنیادوں پر ہفتہ وار 63 لاکھ روپے وصول کیے جاتے رہے۔
  • متاثرہ دورانیہ: 27 جولائی 2026 سے لے کر اب تک کے تمام تر آن لائن اور دستی ریکارڈ میں اس قسم کی ہیرا پھیری کے شواہد ملے ہیں۔

نیٹ ورک کی سرپرستی: افسران اور اہلکاروں پر سنگین الزامات

محکمہ خوراک میں ہونے والی اس غیر قانونی سرگرمی کے تانے بانے محض نچلے درجے کے عملے تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس میں اعلیٰ اور درمیانے درجے کی انتظامیہ کا عمل دخل بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ جعلی ڈیلروں اور اندراجات کی وصولیوں سے محکمہ خوراک کے ضلعی افسر براہِ راست مستفید ہوتے رہے ہیں اور اس پورے عمل کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلایا گیا۔

اس منظم نیٹ ورک کو چلانے اور اس کی سرپرستی کرنے کے جرم میں محکمے کے درج ذیل افسران اور اہلکاروں پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں:

  • اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولرز: اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر محمد انس، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر سلیمان، اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر مس عائشہ نواز اور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر نقیب اللہ۔
  • فوڈ انسپکٹرز: فوڈ انسپکٹر عرفان آفریدی اور فوڈ انسپکٹر منصور علی شاہ۔
  • فوڈ سپروائزرز: فوڈ سپروائزر محمد حسنین، فوڈ سپروائزر اکبر خان اور فوڈ سپروائزر معراج خان۔

ان تمام نامزد افسران اور اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے نہ صرف جعلی اندراجات کو سندِ قبولیت بخشی بلکہ ملوں کی لفٹنگ اور سرکاری گوداموں سے ذخائر کی منتقلی پر آنکھیں بند رکھیں۔

ڈیجیٹل ڈیٹا کی چھان بین اور آئی سی ٹی ایپ کا ریکارڈ

محکمہ خوراک میں شفافیت قائم کرنے اور کوٹے کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے حال ہی میں ڈیجیٹل اقدامات اور آئی سی ٹی (انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی) ایپ متعارف کرائی گئی تھی۔ تاہم، اس کے باوجود بدعنوان عناصر نے ڈیجیٹل نظام کی سوراخوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی ڈیلروں کا اندراج جاری رکھا۔

ذرائع کے مطابق اگر 27 جولائی 2026 سے لے کر اب تک کے آئی سی ٹی ایپ کے مکمل ڈیٹا کی سائنسی اور فرانزک چھان بین کی جائے تو اس اسکینڈل کا حجم کہیں زیادہ بڑا نکل سکتا ہے۔ تمام اصل اور جعلی ڈیلرز کا یومیہ کوٹہ، ملوں کی لفٹنگ کی تفصیلات، اور واجبات کی کلیئرنس کا باہم موازنہ کرنے سے مزید مالی لوٹ مار اور بے ضابطگیوں کی تصدیق ہونے کا قومی امکان ہے۔

اسکینڈل کا پس منظر اور سابقہ بے ضابطگیاں

محکمہ خوراک خیبر پختونخوا میں گندم کی خرید و فروخت، گوداموں کی انتظامیہ اور آٹے پر دی جانے والی سبسڈی میں بے ضابطگیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی صوبے میں سستے آٹے کے کوٹے کی بلیک مارکیٹ میں فروخت اور فلور ملوں کی غیر قانونی ریگولیشن سے متعلق کئی انکوائریاں قائم کی جا چکی ہیں۔

تاہم، موجودہ اسکینڈل اس لحاظ سے زیادہ تشویشناک ہے کہ اس میں ایک طرف جدید ڈیجیٹل سسٹم کو دھوکہ دیا گیا اور دوسری طرف ایک ہی شہر (پشاور) کی ملوں اور گوداموں سے اتنے بڑے پیمانے پر وسائل کو بے دردی سے لوٹا گیا۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام شہری پہلے ہی شدید معاشی دباؤ کا شکار تھے، اور ایسے میں سرکاری آٹے کی چوری نے عوامی غصے میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

عوام اور معیشت پر اثرات: شفاف تحقات کی اشد ضرورت

سرکاری گوداموں سے آٹے کی بوریوں کی اس طرح غیر قانونی منتقلی اور فلور ملوں سے ہفتہ وار لاکھوں روپے کی رشوت وصولی کے سیدھے اثرات عام خریدار کی جیب پر پڑتے ہیں۔ جب فلور ملز انتظامیہ کو غیر قانونی ادائیگیوں پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ آٹے کی معیار اور وزن میں کمی کر کے اس کا بوجھ عام شہری پر ڈال دیتی ہیں، جس سے مارکیٹ میں مصنوعات کی قیمتیں مصنوعی طور پر بلندی پر پہنچ جاتی ہیں۔

صحافتی نقطہ نظر اور آئینی معروضیت کا تقاضا ہے کہ خبر میں سامنے آنے والے تمام الزامات کی غیر جانبدارانہ شفاف تحقیقات کی جائیں۔ نامزد افسران کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا مؤقف سننا بھی قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے۔ نیب، اینٹی کرپشن اور صوبائی معائنہ ٹیموں کو چاہیے کہ وہ 27 جولائی 2026 کے بعد سے تمام ڈیجیٹل و دستی ریکارڈ کا فوری کنٹرول سنبھال لیں تاکہ حقائق مکمل طور پر عوام کے سامنے لائے جا سکیں اور لوٹے گئے سرکاری وسائل کو بحال کیا جا سکے۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔