Preloader
LPG Mafia out of control

اہم نکات (خلاصہ)

  • من مانی قیمتیں اور ناکامی: حکومت اور انتظامیہ مائع بترولی گیس (ایل پی جی) مافیا کو قابو کرنے میں مکمل طور پر ناكام نظر آ رہی ہیں، جس کے باعث ملک بھر میں گیس کی بلیک مارکیٹنگ جاری ہے۔
  • سرکاری اور مارکیٹ نرخوں میں زمین آسمان کا فرق: ایل پی جی کی سرکاری طور پر مقرر کردہ قیمت 295 روپے فی کلو ہے، لیکن منافع خور 600 روپے فی کلو تک من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔
  • عوامی مشکلات میں اضافہ: سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ اور پائپ لائن گیس کی عدم دستیابی کے باعث گھریلو اور تجارتی صارفین مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔
  • شفاف نگرانی کا مطالبہ: عوام اور متعلقہ تنظیموں نے اوگرا اور ضلعی انتظامیہ سے گیس مافیا کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔

ملک بھر میں ایل پی جی بحران اور من مانی قیمتوں کی بھرپور لہر

پاکستان بھر میں سردیوں کی آمد اور سوئی گیس کی شدید نایابی کے ساتھ ہی مائع بترولی گیس (ایل پی جی) کے بحران نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے ایل پی جی کی قیمتیں مقرر کیے جانے کے باوجود گیس مافیا اور ڈسٹری بیوٹرز گاہکوں سے من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ اس وقت ملک کے مختلف شہروں میں فی کلو گیس کی قیمت سرکاری نرخ سے دگنی سے بھی تجاوز کر کے 600 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

اس غیر معمولی اور بے لگام گیس گرانی نے عام شہریوں، دیہاڑی دار طبقے اور چھوٹے کاروباری افراد کو شدید معاشی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریگولیٹری اداروں کی جانب سے قیمتوں پر عمل درآمد کرانے کے دعوے کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ بلیک مارکیٹ میں گیس کی فروخت کھلم کھلا جاری ہے۔

سرکاری نرخ اور مارکیٹ کے اصل اعداد و شمار کا موازنہ

حکومتی احکامات اور سرکاری ریٹ لسٹ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایل پی جی مافیا نے اپنی مرضی کے ریٹ نافذ کر رکھے ہیں۔ جہاں ایک طرف عام شہری مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے، وہاں دوسری طرف منافع خور اور ناجائز ذخیرہ اندوز راتو رات کروڑوں روپے بٹور رہے ہیں۔

سرکاری قیمتوں اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی گیس کے اعداد و شمار درج ذیل پوائنٹس سے واضح ہوتے ہیں:

  • سرکاری مقررہ قیمت: اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت 295 روپے طے کی گئی ہے۔
  • مارکیٹ کی اصل قیمت: ملک کے مختلف اضلاع بالخصوص دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں گیس 550 روپے سے 600 روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔
  • گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت: 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت تقریباً 3 ہزار 481 روپے کے قریب بنتی ہے۔
  • گھریلو سلنڈر کی بلیک مارکیٹ قیمت: یہی گھریلو سلنڈر مارکیٹ میں شہریوں کو 6 ہزار 500 سے 7 ہزار روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے۔
  • قیمت کا فرق: سرکاری قیمت اور مارکیٹ ریٹ میں فی کلو کی بنیاد پر 305 روپے سے زائد کا غیر قانونی فرق موجود ہے۔

سوئی گیس کی نایابی اور ایل پی جی پر بڑھتا ہوا انحصار

اس بحران اور گیس مافیا کی من مانی کا بڑا سبب ملک میں پائپ لائن سے ملنے والی طبیعی گیس کی شدید قلت اور بے قاعدہ فراہمی ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں بھی چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں اور خانساماں یا گھریلو خواتین کو کھانا پکانے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔ گیس کمپنیاں پائپ لائنز میں درکار دباؤ برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ سے عوام کا تمام تر انحصار ایل پی جی سلنڈرز پر آ گیا ہے۔

جب صارفین کے پاس کھانا پکانے یا گرمائش کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا تو وہ مجبوری کے عالم میں ایل پی جی کے منافع خوروں کے پاس جاتے ہیں۔ مافیا عوامی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے راتوں رات گیس کی مصنوعی قلت پیدا کر دیتا ہے اور پھر من مانے داموں سلنڈر فروخت کرتا ہے۔

صنعتی و تجارتی شعبے اور دیہاڑی دار طبقے پر اثرات

ایل پی جی کی قیمتوں میں دو گنا سے زائد اضافے نے محض گھریلو صارفین کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہو رہے ہیں۔ خصوصاً چھوٹے ریستوران، تندور، چائے کے ڈھابے اور گاڑیوں میں ایل پی جی استعمال کرنے والے افراد کا روزگار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔

تجارتی شعبے پر پڑنے والے اثرات کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  • روٹی اور طعام کی قیمتوں میں اضافہ: تندوروں اور ہوٹل مالکان نے گیس مہنگی ہونے کا بہانہ بنا کر روٹی اور سالن کے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
  • ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں ناہمواری: ایل پی جی پر چلنے والی گاڑیوں، رکشوں اور چھوٹے سوزوکی ڈرائیوروں نے کرایوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے جس سے عام مسافر سخت پریشان ہیں۔
  • دیہی علاقوں میں لکڑی پر انحصار: غریب طبقہ گیس نہ خرید سکنے کی وجہ سے لکڑی اور اوپلے جلانے پر مجبور ہو رہا ہے، جس سے درختوں کی کٹائی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

حکومت اور ریگولیٹری اداروں کی کارکردگی پر سوالات

اس سنگین المیے نے حکومتی رسا رسائی، ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور اوگرا کی کارکردگی پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر ماہ کاغذات میں قیمتیں مقرر کر دینا کافی نہیں ہے جب تک ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے جائیں۔

صوبائی و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گاہکوں کو ریلیف دینے کے بجائے صرف چند جگہوں پر معمولی جرمانے کر کے خانہ پوری کی جاتی ہے۔ شاہراہوں اور گلی محلوں میں قائم بغیر لائسنس کے گیس ری فلنگ کی دکانیں دھڑلے سے کام کر رہی ہیں جہاں نہ صرف قیمتوں کا قانون توڑا جا رہا ہے بلکہ حفاظتی تدابیر کو پسِ پشت ڈال کر عوام کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔

ایل پی جی کی درآمد، تقسیم کار اور مافیا کا گٹھ جوڑ

صحافتی تحقیقات اور ذرائع کے مطابق اس بحران کے پیچھے ایل پی جی کے بڑے تقسیم کاروں (ڈسٹری بیوٹرز) اور مقامی دکانداروں کا باہمی گٹھ جوڑ شامل ہے۔ غیر ملکی مارکیٹ سے گیس کی درآمد میں کمی یا سمندری بندرگاہوں پر ایندھن کی منتقلی میں معمولی تاخیر کا جواز بنا کر اچانک سپلائی روک دی جاتی ہے۔

اس مصنوعی نایابی کی آڑ میں گوداموں میں موجود گیس کا ذخیرہ روک لیا جاتا ہے اور پھر اسے بلیک مارکیٹ میں بلیک ریٹ پر جاری کیا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے امپورٹ اور مقامی پیداوار کی تقسیم کا کوئی شفاف اور مرکزی ڈیجیٹل طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے یہ مافیا بآسانی قانونی گرفت سے بچ نکلتا ہے۔

عوامی ردِعمل اور حل کے لیے فوری تجاویز

ایل پی جی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حکومت کی خاموشی پر شہریوں، تاجر برادری اور صارفین کی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کیے گئے ہیں اور حکمرانوں سے فوری ریلیف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس بحران کے پائیدار حل اور شہریوں کو ریلیف کی فراہمی کے لیے درج ذیل ہنگامی اقدامات کی اشد ضرورت ہے:

  • سخت انتظامی کارروائی: ضلعی انتظامیہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کرے اور 295 روپے سے زائد وصول کرنے والے دکانداروں اور ڈسٹری بیوٹرز پر بھاری جرمانے اور گرفتاریوں کا حکم دے۔
  • ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن: سرکاری گوداموں اور نجی تقسیم کاروں کے ذخائر کی جانچ پڑتال کے لیے فوری چھاپے مارے جائیں تاکہ مصنوعی قلت کا خاتمہ ہو۔
  • صارفین کے لیے مرکزی شکایت سیل: اوگرا کی جانب سے ایک آسان اور فعال ٹیلی فون نمبر اور ڈیجیٹل سسٹم قائم کیا جائے جہاں شہری من مانی قیمتوں کی فوری اطلاع دے سکیں۔
  • سوئی گیس کی فراہمی کی بہتری: گیس کمپنیاں گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے اوقات میں کم از کم سوئی گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائیں۔

گیس کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ غریب اور متوسط طبقے پر اضافی معاشی بوجھ ہے، جسے ختم کرنے کے لیے حکومت کو فوراً جاگنا ہو گا ورنہ یہ بحران مزید سنگین صورتحال اختیار کر جائے گا۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔