Preloader
Anti polio drive in jamshoro

اہم نکات (خلاصہ)

  • جامشورو میں انسداد پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز: ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے تعلقہ مانجھند کے علاقے کھانوٹ میں بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا۔
  • بنیادی صحت مراکز کا تفصیلی جائزہ: ڈپٹی کمشنر نے بی ایچ یو کھانوٹ اور ای پی آئی سینٹر کا دورہ کرکے طبی سہولیات اور عملے کی حاضری کا معائنہ کیا۔
  • پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی: فرنٹ لائن ورکرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ پانچ سال تک کے ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
  • انتظامی افسران کی شرکت: دورے کے دوران اسسٹنٹ کمشنر مانجھند اور دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران بھی ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ موجود تھے۔

تعارف: پولیو کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ

صحت مند معاشرے کی تشکیل اور آنے والی نسلوں کو معذوری سے محفوظ بنانے کے لیے حکومت پاکستان اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسداد پولیو کی تازہ ترین مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ سندھ کے ضلع جامشورو میں بھی پولیو کے موذی مرض کے خاتمے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے اس مہم کے پہلے روز ہی میدان میں اتر کر فیلڈ ورکرز کی کارکردگی کا براہ راست جائزہ لیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ضلع بھر سے اس وائرس کا جڑ سے خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔

مانجھند میں افتتاحی تقریب اور ڈپٹی کمشنر کا دورہ

نومبر سے شروع ہونے والی اس انسداد پولیو مہم کے پہلے روز ڈپٹی کمشنر جامشورو غضنفر علی قادری نے تعلقہ مانجھند کے دورافتادہ اور حساس علاقے کھانوٹ کا اچانک دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف مہم کا باقاعدہ آغاز کرنا تھا بلکہ زمینی حقائق کا جائزہ لینا بھی تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پولیو ٹیمیں اپنے اہداف کو احسن طریقے سے حاصل کر رہی ہیں۔

دورے کے آغاز میں ڈپٹی کمشنر نے صبح کی بریفنگ میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس بریفنگ میں انہیں پولیو کے خاتمے کے لیے بنائی گئی حکمت عملی، روٹ پلانز اور ٹیموں کی تشکیل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے بعد ڈپٹی کمشنر نے خود ایک معصوم بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر اور اس کی انگلی پر انمٹ سیاہی کا نشان لگا کر ضلع بھر میں مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی بھی بچہ اس زندگی بچانے والی ویکسین سے محروم نہ رہے۔

طبی مراکز کا معائنہ اور انتظامی کارکردگی

افتتاحی تقریب کے بعد ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) کھانوٹ اور وہاں قائم ای پی آئی (EPI) سینٹر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے درج ذیل امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا:

  • طبی سہولیات کی فراہمی: اسپتال اور مرکز صحت میں عام مریضوں اور خصوصاً بچوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔
  • عملے کی حاضری: ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور پولیو ورکرز کی حاضری کو رجسٹرز سے چیک کیا۔
  • ویکسین کا کولڈ چین سسٹم: پولیو ویکسین کے درجہ حرارت اور اس کے محفوظ ذخیرہ کرنے کے انتظامات کا جائزہ لیا تاکہ ویکسین کی افادیت برقرار رہے۔
  • ریکارڈ کی جانچ پڑتال: ویکسینیشن کے حوالے سے درج ریکارڈ اور روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والے اہداف کی پیشرفت کو پرکھا۔

ڈپٹی کمشنر نے اس موقع پر واضح کیا کہ صحت کے مراکز میں غفلت یا لاپرواہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ضلعی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

پولیو ورکرز: فرنٹ لائن ہیروز کی حوصلہ افزائی

انسداد پولیو مہم کی کامیابی کا دارومدار براہ راست ان گنت فیلڈ ورکرز، نرسوں اور رضاکاران پر ہوتا ہے جو شدید گرمی، سردی اور مشکل حالات کی پروا کیے بغیر گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلاتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری نے بریفنگ اور دورے کے دوران ان تمام فنٹ لائن ورکرز کی محنت، لگن اور قربانیوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔

انہوں نے پولیو ورکرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

“آپ لوگ قوم کے حقیقی معمار اور ہیرو ہیں۔ آپ کی محنت کی بدولت ہی ہمارے بچے معذوری جیسے خوفناک مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ حکومت اور ضلعی انتظامیہ آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور آپ کو تمام ممکنہ سکیورٹی اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔”

انتظامی افسران کی موجودگی اور ٹیم ورک

اس اہم دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ ضلعی انتظامیہ کے کئی اہم اور کلیدی افسران موجود تھے، جنہوں نے مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی صفوں کو مکمل طور پر منظم کیا ہوا ہے۔ اس موقع پر موجود نمایاں شخصیات میں درج ذیل شامل تھے:

  • اسسٹنٹ کمشنر مانجھند، اسد کریم سومرو
  • تعلقہ اسپتال مانجھند کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ
  • مختیارکار غلام مصطفیٰ شر
  • کمیونیکیشن آفیسر امام بخش مگسی
  • پولیو ورکرز اور دیگر متعلقہ محکموں کے فیلڈ افسران و عملہ

ان تمام افسران نے مشترکہ طور پر اس بات کا عزم کیا کہ مانجھند سمیت پورے جامشورو میں پولیو کے قطرے پلانے کے ہدف کو سو فیصد حاصل کیا جائے گا۔

پولیو کا پس منظر اور موجودہ صورتحال

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس اب بھی بچوں کی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم وائرس کے اسپورڈک (وقفے وقفے سے سامنے آنے والے) پھیلاؤ نے حکام کو ہمیشہ الرٹ رکھا ہے۔ جامشورو اور اس کے ملحقہ دیہی علاقوں میں نقل و حرکت اور ماحول کی حساسیت کے پیش نظر بار بار مہم چلائی جاتی ہے تاکہ قوت مدافعت کو بہتر بنایا جا سکے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق، بار بار پولیو کے قطرے پلانا ہی اس بیماری کے خلاف واحد اور موثر ترین دفاع ہے۔ ایک بار ویکسین چھوٹ جانے والا بچہ عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو سکتا ہے، اسی لیے محکمہ صحت کی کوشش ہوتی ہے کہ “ہر بار جب بھی مہم آئے، بچے کو قطرے ضرور پلائے جائیں” کی پالیسی پر عمل کیا جائے۔

اس مہم کے دور رس اثرات اور چیلنجز

اس طرح کی اعلیٰ سطحی انتظامی مانیٹرنگ اور فیلڈ وزٹس کے معاشرے پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں:

  1. اعتماد کی بحالی: جب ضلعی سربراہ خود گراؤنڈ پر موجود ہوں تو عوام اور ورکرز کا حوصلہ بڑھتا ہے اور والدین کے اندر پائے جانے والے شکوک و شبہات دور ہوتے ہیں۔
  2. سکیورٹی اور تعاون: ضلعی انتظامیہ کی موجودگی سے پولیس اور سکیورٹی اداروں کو بھی متحرک کیا جاتا ہے تاکہ ٹیموں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
  3. ہدف کا حصول: مانجھند اور اس کے گردونواح کے علاقوں میں جہاں رسائی کے کچھ مسائل ہوتے ہیں، اعلیٰ حکام کی مداخلت سے وہاں تک بھی ویکسین کی ترسیل یقینی بنائی جاتی ہے۔

نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل

جامشورو میں ڈپٹی کمشنر غضنفر علی قادری کی قیادت میں شروع ہونے والی یہ پولیو مہم اس عزم کی عکاس ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس قومی فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ والدین اور معاشرے کے ہر طبقے پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ پولیو ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اپنے گھروں کے دروازے ان کے لیے کھولیں اور پانچ سال سے کم عمر کے ہر بچے کو دو قطرے زندگی کے پلا کر ایک صحت مند، روشن اور محفوظ پاکستان کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔