Preloader
Issue resolved by women complaint cell

اہم نکات (خلاصہ)

  • صوبائی وزیر کا فوری اقدام: وزیر ترقی حقوق نسواں سندھ شاہینہ شیر علی نے جامشورو کی رہائشی خاتون کی ہراسانی سے متعلق وائرل ویڈیو کا سخت نوٹس لیا۔
  • تحقیقات و کارروائی: ویمن کمپلینٹ سیل نے کارروائی کرتے ہوئے معلوم کیا کہ تنازع کی اصل وجہ 20,000 روپے کی بقایا قرض کی رقم کا تقاضا تھا۔
  • باہمی رضامندی سے تصفیہ: 2 نومبر 2026ء کو ویمن کمپلینٹ سیل میں دونوں فریقین کے مابین بقایا رقم کی ادائیگی اور بیانِ حلفی کے ساتھ معاملہ حل ہوا۔
  • سفارشات اور تحفظ: پولیس اہلکار نے مستقبل میں کسی قسم کا رابطہ یا ہراسانی نہ کرنے کا تحریری معاہدہ جمع کرایا جبکہ متاثرہ خاتون نے اپنی شکایت واپس لے لی۔

تعارف: سوشل میڈیا ویڈیو اور انتظامی متحرک ہونا

سوشل میڈیا پر عام شہروں کی آواز اور انتظامیہ کی فوری توجه حاصل کرنے کا ایک نیا ذریعہ سامنے آیا ہے۔ جامشورو میں ایک وائرل ویڈیو نے اس وقت حکومتی ایوانوں میں تحرک پیدا کر دیا جب ایک متاثرہ خاتون نے پولیس اہلکار کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی دہائی دی۔ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت سندھ کے متعلقہ محکمے نے نہ صرف معائنے کا حکم دیا بلکہ فوری طور پر ایک پیشہ ورانہ کارروائی کے ذریعے معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچایا۔ یہ واقعہ جہاں انتظامیہ کی مستعدی کو ظاہر کرتا ہے، وہاں یہ بھی دکھاتا ہے کہ بروقت حکومتی مداخلت سے کس طرح تنازعات کو قانون اور اخلاق کے دائرے میں حل کیا جا سکتا ہے۔

صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کی ہدایات اور ابتدائی کارروائی

ضلع جامشورو سے تعلق رکھنے والی خاتون مسمات رابعہ سولنگی بنت محمد بخش کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں ایک شخص کی جانب سے مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور ان کے گھریلو امن کو خطرہ لاحق ہے۔ اس ویڈیو کا صوبائی وزیر سندھ برائے ترقی حقوق نسواں محترمہ شاہینہ شیر علی نے فوری نوٹس لیا۔

صوبائی وزیر نے واقعے کی حساسیت اور متاثرہ خاتون کی حالتِ زار کو مدنظر رکھتے ہوئے ویمن کمپلینٹ سیل و سیف ہاؤس کی انچارج اور ماہر نفسیات سیدہ قرۃ العین شاہ کو ہنگامی ہدایات جاری کیں۔ وزیرِ موصوف نے حکم دیا کہ متاثرہ خاتون سے بلا تاخیر رابطہ کیا جائے اور انہیں قانونی، اخلاقی اور نفسیاتی طور پر ہر ممکن مدد و تعاون فراہم کیا جائے۔

ویمن کمپلینٹ سیل کا رابطہ اور تنازع کے بنیادی حقائق

وزیر سندھ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ویمن کمپلینٹ سیل جامشورو کی انچارج سیدہ قرۃ العین شاہ نے فوری طور پر متاثرہ خاتون سے رابطہ قائم کیا۔ ابتدائی گفتگو کے دوران متاثرہ خاتون نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ محکمہ پولیس سے منسلک منتھار علی جٹھیال نامی شخص انہیں مسلسل پریشان اور ہراساں کر رہا ہے۔

ویمن کمپلینٹ سیل نے محض یکطرفہ بیان پر اتفا کرنے کے بجائے دونوں فریقین کو شفاف سماعت کے لیے دفتر میں طلب کیا۔ تفصیلی چھان بین اور فریقین کے بیانات سے درج ذیل حقائق سامنے آئے:

  • مالی لین دین: مسمات رابعہ سولنگی نے ماضی میں منتھار علی جٹھیال سے 50,000 روپے کی رقم بطور قرض حاصل کی تھی۔
  • سابقہ ادائیگی: متاثرہ خاتون اس رقم میں سے 30,000 روپے پہلے ہی واپس ادا کر چکی تھیں۔
  • بقایا رقم کا تنازع: فریقین کے درمیان باقی ماندہ 20,000 روپے کی رقم کا تنازع برقرار تھا۔
  • تقاضے کا طریقہ کار: منتھار علی جٹھیال بقایا رقم کی وصولی کے لیے بار بار فون کالز کر رہے تھے اور خاتون کے گھر جا رہے تھے، جس کے نتیجے میں خاتون شدید ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہوئیں۔

2 نومبر 2026ء کو حتمی سماعت اور باہمی رضامندی سے تصفیہ

معاملے کی حتمی سماعت 2 نومبر 2026ء کو ویمن کمپلینٹ سیل جامشورو کے دفتر میں ہوئی۔ اس موقع پر ماہرِ نفسیات سیدہ قرۃ العین شاہ نے دونوں فریقین کو آمنے سامنے بٹھا کر معاملے کی سنجیدگی سے آگاہ کیا اور افہام و تفہیم پر مبنی حل پیش کیا۔

سماعت کے دوران درج ذیل فیصلے اور اقدامات عمل میں لائے گئے:

  1. بقایا رقم کی ادائیگی: مسمات رابعہ سولنگی نے منتھار علی جٹھیال کو بقایا 20,000 روپے کی مکمل رقم موقع پر ہی ادا کر دی۔
  2. تحریری بیانِ حلفی: منتھار علی جٹھیال نے ویمن کمپلینٹ سیل میں ایک تحریری بیانِ حلفی جمع کرایا، جس میں انہوں نے عہد کیا کہ وہ مستقبل میں خاتون سے نہ تو کوئی رابطہ کریں گے اور نہ ہی انہیں یا ان کے اہل خانہ کو کسی قسم کی تکالیف یا ہراسانی کا نشانہ بنائیں گے۔
  3. شکایت کی واپسی: رقم کی دریافت اور تحریری ضمانت ملنے کے بعد مسمات رابعہ سولنگی نے مطمئن ہو کر اپنی تمام تر شکایات اور الزامات واپس لینے کا باضابطہ اعلان کیا۔

متاثرہ خاتون کی طبی حالت اور میڈیا میں بیان کی وجہ

کارروائی کے اختتام پر متاثرہ خاتون نے اپنے ایک تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ وہ اس وقت حالتِ حمل میں ہیں اور حاملہ ہونے کی وجہ سے معمولی پریشانی بھی ان کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ کا باعث بن رہی تھی۔ اس شدید دباؤ، خوف اور خوفزدہ ماحول کے باعث انہوں نے جلد از جلد تحفظ حاصل کرنے کی خاطر ویڈیو بنا کر میڈیا کا سہارا لیا تھا۔

انہوں نے ویمن کمپلینٹ سیل اور صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری اور مثبت مداخلت کی بدولت یہ معاملہ بغیر کسی مزید الجھن کے باہمی رضامندی اور عزت و احترام کے ساتھ حل ہو گیا ہے۔

معاشرتی اثرات اور ویمن کمپلینٹ سیل کا کردار

یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر ادارے اور شعبہ جات مستعدی سے کام کریں تو معاشرتی مسائل اور نجی تنازعات کو کسی بڑی بدقماشیاں یا قانونی پیچیدگیوں سے پہلے ہی احسن طریقے سے نبٹایا جا سکتا ہے۔

محکمہ ترقی حقوق نسواں سندھ کے تحت کام کرنے والے ویمن کمپلینٹ سیلز خواتین کو ایک محفوظ اور بااعتماد ماحول فراہم کرتے ہیں۔ جہاں وہ نہ صرف اپنی قانونی شکایات درج کرا سکتی ہیں بلکہ ماہرینِ نفسیات کی مدد سے اپنے اندرونی خوف اور دباؤ کو دور کرکے پُر امن حل تلاش کر سکتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد مقامی سطح پر خواتین کے اندر اپنے حقوق اور سرکاری معاونت کے حوالے سے اعتماد مزید مضبوط ہوا ہے۔

ایڈیٹوریل نوٹ اور نتائج

صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ معاملہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ اکثر وائرل ویڈیوز کے پس منظر میں سیدھے سادھے مالی یا ذاتی تنازعات چھپے ہوتے ہیں، جنہیں اگر بروقت اور غیر جانبدارانہ انداز میں حل نہ کیا جائے تو وہ سنسنی خیزی کا روپ دھار لیتے ہیں۔

جامشورو کی ضلعی انتظامیہ اور ویمن کمپلینٹ سیل نے غیر جانبدارانہ سماعت اور قانونی و اخلاقی ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے اس کیس میں مثال قائم کی ہے۔ دونوں فریقین کی رضامندی اور تحریری معاہدے کے بعد یہ معاملہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور علاقے میں پائیدار امن اور انصاف کی فراہمی کا احساس پیدا ہوا ہے۔