اہم نکات (خلاصہ):عیادت و جائزہ: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کوہاٹ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا دورہ کر کے حالیہ ناخوشگوار واقعے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی عیادت کی۔بریفنگ: آر پی او کوہاٹ عرفان طارق اور ڈی پی او رائے مظہر اقبال نے وفاقی وزیر کو واقعے، امن و امان کی صورتحال اور زخمیوں کی طبی دیکھ بھال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔شہید کو خراج عقیدت: عطا تارڑ نے شہید پولیس اہلکار فہیم کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ریاستی عزم: وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ امن و امان کی بحالی اور عوام کے تحفظ کی خاطر پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں اور ریاست شہداء کے خاندانوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔پشاور / کوہاٹ: دفاعِ وطن اور امن و امان کا محاذخیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں سیکیورٹی چیلنجز اور حالیہ ناخوشگوار واقعے کے تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے امن و امان کے ضامن اداروں اور شہریوں کے ساتھ یکجہتی کا قوی پیغام سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے پشاور سے کوہاٹ کا خصوصی دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہسپتال میں زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی عیادت کی اور بعد ازاں فرائض کی انجام دہی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے پولیس اہلکار فہیم کی رہائش گاہ پر حاضری دی۔اس دورے کا بنیادی مقصد لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لینا، فورس کے مورال کو بلند کرنا اور متاثرہ خاندانوں کو یہ یقین دہانی کروانا تھا کہ وفاق ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ہسپتال کا دورہ اور انتظامی بریفنگکوہاٹ پہنچنے پر آر پی او (ریجنل پولیس آفیسر) کوہاٹ عرفان طارق اور ڈی پی او (ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر) رائے مظہر اقبال نے وفاقی وزیر اطلاعات کا استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے اعلیٰ حکام نے وفاقی وزیر کو حالیہ واقعے کے پس منظر، ملزمان کے خلاف جاری کارروائیوں اور زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔عطا تارڑ نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی مختلف وارڈز کا دورہ کیا اور وہاں زیر علاج زخمی پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں سے فرداً فرداً ملاقات کی۔ انہوں نے زخمیوں کی مزاج پرسی کی، ان کے حوصلے کی تعریف کی اور ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔شہید پولیس اہلکار فہیم کی رہائش گاہ پر آمدہسپتال کے دورے کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ شہید پولیس اہلکار فہیم کی رہائش گاہ پہنچے۔ وہاں انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور غمزدہ خاندان سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔شہید کے اہل خانہ سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ “پولیس کے جوان ہماری قومی سلامتی کے فرسٹ لائن آف ڈیفنس ہیں۔ شہید فہیم نے اپنے فرض کی ادا ئیگی میں جس شجاعت کا مظاہرہ کیا، اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ ریاست اپنے ان بہادر بیٹوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور شہید کے خاندان کے بچوں کی دیکھ بھال، ان کی تعلیم اور فلاح و بہبود کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔”خیبر پختونخوا میں امن و امان کا پس منظر اور سیکیورٹی صورتحالخیبر پختونخوا، بالخصوص کوہاٹ، بنوں اور وادی ِ آدم خیل سے متصل اضلاع میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران سیکیورٹی خدشات اور دہشت گردانہ خطرات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان خطرات کے پیش نظر خیبر پختونخوا پولیس نے انتہائی مشکل حالات اور محدود وسائل کے باوجود جرات اور بہادری کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔پولیس حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور صورتحال کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ:فرنٹ لائن فورس: پولیس فورس گزشتہ دو دہائیوں سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے آگے رہی ہے۔قربانیاں: خیبر پختونخوا پولیس کے ہزاروں اہلکار و افسران بشمول اعلیٰ قوماندانی اپنے فرائض کی قربان گاہ پر جانیں نچھاور کر چکے ہیں۔عوامی تحفظ: سخت سیکیورٹی حالات کے باوجود پولیس اہلکار شہریوں کے روز مرہ معمولات اور تجارتی سرگرمیوں کو امن فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔وفاقی وزیر کا فورس کو خراجِ تحسین اور تعاون کی یقین دہانیمیڈیا نمائندوں اور پولیس حکام سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کے جوان روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون سے امن کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فورس کے حوصلے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بے حد تعریف کی۔انہوں نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، جدید اسلہ و سامانِ حرب سے لیس کرنے اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ وفاقی وزیر نے زور دیا کہ شہداء کی قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اور ملک دشمن عناصر و شرپسندوں کے خلاف تمام ریاستی ادارے متحد ہو کر کارروائی جاری رکھیں گے۔تجزیہ اور ممکنہ اثراتسیاسی و سیکیورٹی ماہرین کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ دورہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ خطے میں جاری سیکیورٹی اقدامات کے لیے ایک اہم پیش رفت شمار کیا جا رہا ہے۔پولیس کے مورال میں اضافہ: اعلیٰ وفاقی قیادت کی جانب سے خود موقع پر پہنچ کر عیادت اور تعزیت کرنا نچلی سطح پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں کے اعتماد اور مورال میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے۔وفاق اور صوبے کا اشتراک: سیکیورٹی اور امن و امان کے قیام کے لیے وفاق اور صوبائی سطح پر روابط اور یکجہتی کا پیغام شرپسند عناصر کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ ریاست امن کے معاملے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی رکھتی ہے۔عوامی اعتماد کی بحالی: ہسپتال میں زخمی شہریوں کی عیادت اور بہترین طبی سہولیات کا جائزہ لینے سے عام عوام میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔وفاقی وزیر کا دورہ کوہاٹ اس عزم کے ساتھ مکمل ہوا کہ پاکستان کی سلامتی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا اور شہداء کی یادگاریں اور ان کا تقاضا ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہے گا۔Author Anwar Zeb About The Author Anwar Zeb See author's posts Post navigationپشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے انتخابات : دو خواتین سمیت تمام 24 ایگزیکٹو ممبران بلامقابلہ منتخب، تاجر برادری کی نمائندگی کا نیا دور شروع