خبر کے اہم نکات (خلاصہ)بلامقابلہ کامیابی: مالی سال 2026-28 کے لیے پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے تمام 24 ایگزیکٹو ممبران بغیر کسی مقابلے کے منتخب ہو گئے۔خواتین کی نمائندگی: نو منتخب باڈی میں شاہینہ شکیل اور فاخرہ عارف سمیت دو خواتین ایگزیکٹو ممبران شامل ہیں، جو خواتین کاروباری افراد کے حقوق کا تحفظ کریں گی۔الیکشن کمیشن کا اعلامیہ: مقررہ وقت تک مخالف امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع نہ ہونے پر الیکشن کمیشن نے باضابطہ طور پر کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔بنیادی ترجیحات: نو منتخب قیادت نے ٹیکس مسائل، انتظامی مشکلات کے حل اور تاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔پشاور: الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج کا باقاعدہ اعلانخیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور کی تاجر برادری اور کاروباری حلقوں کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے مالی سال 2026-28 کے دو سالہ انتخابات کا عمل مکمل ہو گیا ہے، جس میں تمام 24 ایگزیکٹو ممبران بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔الیکشن کمیشن آف چیمبر کے مطابق، مقررہ وقت اور حتمی تاریخ تک 24 نشستوں پر کسی دوسرے امیدوار یا پینل کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع نہ کرائے جانے کے بعد یہ تمام اراکین بلامقابلہ کامیا ب قرار پائے۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے تمام 24 نو منتخب ایگزیکٹو ممبران کی کامیابی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن اور اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔نو منتخب ایگزیکٹو ممبران کی فہرستآئندہ دو سالہ مدت (2026-28) کے لیے بلامقابلہ منتخب ہونے والے اراکین میں پشاور اور اس کے گردونواح کی تاجر برادری اور صنعت کاروں کی ممتاز اور نمائندہ شخصیات شامل ہیں۔ منتخب اراکین کی تفصیل درج ذیل ہے:مرد ایگزیکٹو ممبران (22 اراکین):ملک انعام الرحمنملک ظہور اعوانافسر علیسجاد علیشاہد اللہنکاف اللہغلام بلال جاویدعماد شکیل خٹکاقبالتوصیف احمدعبداللہ خانشہزاد احمد صدیقیواحد گل نورآفتاب احمد خانجنید حسینہاشم خانعلی خان جہانگیرامجد خانمحمد عامر شہزادمحمد نصیرخرم شہزادصیام الحقخواتین ایگزیکٹو ممبران (2 اراکین):شاہینہ شکیلفاخرہ عارفخواتین کاروباری شخصیات کی ایگزیکٹو باڈی میں شمولیت کو خیبر پختونخوا میں تجارتی و صنعتی میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت اور ان کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔چھوٹے تاجروں کے مسائل اور موجودہ اقتصادی پس منظرپشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے یہ انتخابات ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب ملکی معیشت اور خاص طور پر چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) گوناگوں چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔ پشاور کی تاجر برادری نہ صرف صوبائی معیشت کا اہم ستون ہے بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے حوالے سے بھی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔تاہم، حالیہ چند برسوں میں ایندھن، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، بڑھتی ہوئی افراط زر (مہنگائی)، تعقیداتی ٹیکس قوانین، اور انتظامی رکاوٹوں نے چھوٹے صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے کاروبار کا چلانا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی و سیکورٹی صورتحال کے باعث بھی مقامی تجارت کو گہرے اثرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس پس منظر میں بلا مقابلہ انتخاب تاجروں کی یکجہتی اور نو منتخب قیادت پر ان کے کامل اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔نو منتخب قیادت کا عزم: تاجر برادری کا موثر ترجمان ادارہ بنانے کا وعدہکامیابی کا اعلان ہونے کے بعد نو منتخب ایگزیکٹو ممبران نے ایک مشترکہ بیان اور اجلاس کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا کہ پشاور چیمبر کو چھوٹے تاجروں، دوکانداروں اور صنعت کاروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک فعال، حقیقی اور موثر ترجمان ادارہ بنایا جائے گا۔نو منتخب اراکین کا کہنا تھا:“پشاور کی تاجر برادری ملکی معیشت کی ترقی اور استحکام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت کاروباری طبقہ جن سخت حالات اور مسائل سے گزر رہا ہے، ان کا تقاضا ہے کہ تمام اراکین مل کر ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد کریں۔”انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ تاجروں کو درپیش تمام درپیش مشکلات، خصوصاً فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ساتھ ٹیکس امور، صوبائی و مقامی انتظامی مسائل، اور کاروباری لاگت میں کمی کے لیے حکومت اور متعلقہ صوبائی و وفاقی اداروں کے ساتھ فوری رابطہ قائم کیا جائے گا۔مستقبل کی حکمت عملی اور متوقع اثراتپشاور چیمبر کی نئی ایگزیکٹو باڈی سے تاجر برادری نے متعدد توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔ نو منتخب قیادت نے مستقبل کے لیے درج ذیل ترجیحات کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنانے کی نشان دہی کی ہے:ٹیکس قوانین کی آسان کاری: چھوٹے تاجروں کو آسان اور فکسڈ ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے متعلقہ حکام سے مذاکرات۔کاروباری ماحول میں بہتری (Ease of Doing Business): مقامی سطح پر بلدیاتی اور انتظامی ہراسانی کا خاتمہ اور لائسنسنگ کے طریقہ کار کو آسان بنانا۔خواتین روزگار اور کاروبار کو فروغ: نو منتخب خواتین ممبران کے ذریعے صوبے کی خواتین بالخصوص دستکاری اور کاٹیج انڈسٹری سے منسلک خواتین تاجروں کو چیمبر کے دائرہ کار میں شامل کرنا اور ان کے لیے سہولیات فراہم کرنا۔حکومتی سطح پر نمائندگی: وفاقی و صوبائی بجٹ اور معاشی پالیسیوں کی تدوین کے وقت چھوٹے تاجروں کی تجاویز کو شامل کروانا۔چیمبر کے الیکشن کا پرامن اور بلامقابلہ انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پشاور کی تاجر برادری اپنے حقوق کی جنگ اور معاشی استحکام کے لیے متحد ہے۔ آنے والے دنوں میں نو منتخب ایگزیکٹو باڈی کے عہدیداروں (صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر) کا حتمی انتخاب عمل میں لایا جائے گا، جس کے بعد چیمبر کا نیا باقاعدہ ورکنگ پلان سامنے آئے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationڈی ایس پی کی مبینہ غیر قانونی حبسِ بے جا سے بازیابی: محکمہ پولیس کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان