Preloader
BISP starting new survey
  • بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت یکم ستمبر سے ملک بھر میں نیا اور ری سروے باقاعدہ طور پر شروع کیا جا رہا ہے۔
  • وہ تمام خواتین جن کے پچھلے متحرک سروے کو دو سال کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے، ان کے لیے دوبارہ سروے کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • نئے اور مستحق افراد کی شمولیت کے لیے شناختی کارڈ، بچوں کے ب فارم اور بجلی کے بل جیسے اہم دستاویزات کی شرط عائد کی گئی ہے۔
  • پروگرام کا بنیادی مقصد ملک بھر کے انتہائی غریب اور مستحق طبقے تک شفاف اور بلا تعطل مالی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

مستحق اور کم آمدن خاندانوں کے لیے بڑا اور اہم اقدام

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے ادارے “بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام” (BISP) کے تحت ستمبر کی پہلی تاریخ سے ایک وسیع پیمانے پر نئے سروے اور ری سروے کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سوشل سیفٹی نیٹ کے دھارے میں نئے مستحق خاندانوں کو شامل کرنا اور سابقہ ڈیٹا بیس کو جدید ترین معلومات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا ہے۔

حکام کے مطابق اس پروسیس میں نہ صرف وہ خواتین شامل ہو سکیں گی جو پہلی بار پروگرام کا حصہ بننا چاہتی ہیں، بلکہ وہ تمام پہلے سے رجسٹرڈ مستحق خواتین بھی شامل ہوں گی جن کے ڈائنامک سروے (Dynamic Survey) کو 2 سال یا اس سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ اس قدم سے مالی امداد کی شفافیت کو مزید تقویت ملے گی اور غیر مستحق افراد کی چھانٹی ممکن ہو سکے گی۔

ری سروے (Re-Survey) کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بنیادی طریقہ کار میں وقت کے ساتھ ساتھ ڈیٹا کی تجدید انتہائی اہم رکن سمجھی جاتی ہے۔

  1. معاشی حالت میں تبدیلی: دو سال کے عرصے میں کسی بھی خاندان کی معاشی حالت، افراد کی تعداد، یا روزگار کے ذرائع میں نمایاں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔
  2. ڈیٹا کی درستگی: ری سروے کے ذریعے نادرا اور بی آئی ایس پی کا ڈیٹا بیس اپ ڈیٹ ہوتا ہے، جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ سرکاری رقم صرف اور صرف حقیقی مستحقین تک ہی پہنچے۔
  3. شفافیت کی ضمانت: پرانے ڈیٹا پر بار بار امداد دینے کے بجائے ہر 2 سال بعد ڈیٹا کی تصدیق سے شفافیت کا معیار برقرار رہتا ہے۔

لہٰذا جن ماں اور بہنوں کا سابقہ رجسٹریشن دو سال قبل ہوا تھا، ان کے لیے اپنے قریبی بی آئی ایس پی مرکز جا کر ڈیٹا کا اندراج دوبارہ کروانا لازمی ہوگا۔

سروے کے لیے ضروری اور بنیادی دستاویزات کی فہرست

بی آئی ایس پی حکام اور انتظامیہ نے تمام رجسٹریشن کے خواہش مند افراد اور مستحق خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ دفتر جانے سے قبل اپنی تمام ضروری دستاویزات مکمل رکھیں تاکہ انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مطلوبہ دستاویزات کی تفصیلی فہرست درج ذیل ہے:

  • قومی شناختی کارڈ (CNIC): کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کا اصل اور فعال ہونا لازمی ہے۔ اگر شناختی کارڈ کی میعاد (Expiry Date) ختم ہو چکی ہے تو فوری طور پر نادرا سینٹر سے نیا شناختی کارڈ بنوائیں۔
  • بچوں کا فارم ‘ب’ (B-Form): تمام بچوں کے نادرا سے جاری کردہ شناختی فارم ‘ب’ کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔ اگر بچوں کے ب فارم ابھی تک نہیں بنے تو سروے سے پہلے نادرا دفاتر سے ان کا اندراج مکمل کرائیں۔
  • بجلی کا نیا بل: گھریلو پتے اور معاشی صورتحال کی تصدیق کے لیے بجلی کا نیا اور صاف پڑھا جانے والا بل ہمراہ لانا ضروری ہے۔
  • موبائل نمبر: ایسا موبائل نمبر جو خاتون کے اپنے نام پر رجسٹرڈ شناختی کارڈ پر جاری شدہ ہو۔

سروے کروانے کا طریقہ کار اور مراحل

سروے کو آسان اور شفاف بنانے کے لیے بی آئی ایس پی دفاتر میں مخصوص کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کا پورا طریقہ کار درج ذیل مراحل پر مشتمل ہے:

  1. مرکز کی آمد: مستحق خواتین اپنے تمام ضروری دستاویزات لے کر قریبی بی آئی ایس پی تحسیل یا ضلع دفتر تشریف لائیں۔
  2. ٹوکن کا حصول: اینٹری ڈیسک پر موجود عملہ دستاویزات دیکھنے کے بعد رجسٹریشن کے لیے ٹوکن جاری کرے گا۔
  3. ڈیٹا اندراج اور تصدیق: ڈائنامک سروے کاؤنٹر پر ڈیٹا اینٹری آپریٹر آپ سے بنیادی گھریلو اخراجات، مکان کی نوعیت اور بچوں کی تعلیم کے بارے میں سوالات پوچھے گا اور نادرا سسٹم کے ذریعے بائیو میٹرک تصدیق کی جائے گی۔
  4. رستگی کی تصدیق اور میسج: سروے مکمل ہونے پر 8171 سروس کی جانب سے تائیدی میسج کے ذریعے اہلیت اور اگلے مراحل کی آگاہی فراہم کی جائے گی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا پس منظر اور موجودہ اثرات

2008 میں قائم کیا جانے والا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) پاکستان کا سب سے بڑا اور دنیا کے بہترین سماجی تحفظ کے ماڈلز میں شمار ہوتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ملک کی لاکھوں غریب ترین خواتین کوسہ ماہی بنیادوں پر نقد مالی امداد (کفالت پروگرام)، بچوں کی تعلیم کے لیے وظائف (تعلیمی وظائف)، اور غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نشوونما پروگرام فراہم کیے جاتے ہیں۔

موجودہ شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور قوتِ خرید میں کمی کے دور میں یہ پروگرام کم آمدن طبقات کے لیے ایک سہارا ثابت ہو رہا ہے۔ اس کا بنیادی فلسفہ خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانا ہے، اسی لیے رقم کی منتقلی صرف گھر کی خواتین کے نام کی جاتی ہے۔

جعلی میسجز اور دھوکہ دہی سے ہوشیار رہنے کی ایڈیٹوریل ہدایت

خبر کے اس حصے میں عوام الناس کو خبردار کرنا انتہائی ضروری ہے کہ بی آئی ایس پی کی تمام تر خط و کتابت اور رسمی پیغامات صرف اور صرف 8171 کے مخصوص نمبر سے بھیجے جاتے ہیں۔

  • کسی غیر متعلقہ نمبر پر اعتماد نہ کریں: اگر آپ کو کسی عام موبائل نمبر سے انعام، قرعہ اندازی یا رقم کی منظوری کا میسج یا کال آئے تو وہ مکمل طور پر جعلی اور فراڈ ہے۔
  • کوئی فیس ادا نہ کریں: بی آئی ایس پی کا سروے اور رجسٹریشن بالکل مفت ہے۔ کسی بھی ایجنٹ، اہلکار یا شخص کو سروے کے نام پر ایک روپیہ بھی نہ دیں۔
  • شکایت کا اندراج: اگر کوئی شخص رقم کا مطالبہ کرے تو فوراً بی آئی ایس پی کی ہیلپ لائن 0800-26477 پر شکایت درج کروائیں۔

یکم ستمبر سے شروع ہونے والے اس نئے سروے سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام مستحق افراد کو چاہیے کہ وہ وقت سے پہلے اپنی دستاویزات کی تیاری مکمل کر لیں تاکہ شفاف اور مؤثر انداز میں مالی امداد کا حق دار بنا جا سکے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025