امریکی سیکرٹ سروس نے ایرانی سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی اس ویڈیو کا باقاعدہ نوٹس لے لیا ہے جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے چھوٹے بیٹے بارون ٹرمپ کو مبینہ طور پر نشانا بنانے یا دھمکی دینے کا اشارہ ملتا ہے۔سیکرٹ سروس کے ترجمان نیٹ ہیرنگ کے مطابق ادارہ اپنے زیرِ تحفظ افراد کی حفاظت سے متعلق ہر قسم کے ممکنہ خطرے کا گہرائی سے جائزہ لیتا ہے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان گزشتہ چند سالوں سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ کمانڈروں کے قتل کے پس منظر میں یہ ویڈیو سامنے آئی ہے۔ماہرین کے مطابق صدر کے خاندانی ارکان بالخصوص بچوں پر براہ راست یا بالواسطہ نکتہ چینی یا دھمکیوں سے دونوں ممالک کے سفارتی اور سیکیورٹی تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔سیکرٹ سروس کا باقاعدہ ردِعمل اور تحقیقاتی پیش رفتامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے چھوٹے بیٹے بارون ٹرمپ سے متعلق ایرانی سرکاری میڈیا پر نشر ہونے والی ایک مبینہ ویڈیو نے عالمی ذرائع ابلاغ اور سیکیورٹی اداروں کی توجه اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ امریکی سیکرٹ سروس نے میڈیا کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ ادارہ اس ویڈیو کے مواد اور اس کے ذریعہ پھیلائے جانے والے پیغام سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔سیکرٹ سروس کے ترجمان نیٹ ہیرنگ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا:“امریکی سیکرٹ سروس اس ویڈیو سے مکمل طور پر باخبر ہے اور ہر اس چیز کا بغور جائزہ اور تحقیقات کرتی ہے جسے ہمارے زیرِ تحفظ افراد (Protectees) کی سلامتی کے لیے کسی بھی قسم کا دھمکی آمیز اشارہ تصور کیا جا سکتا ہو۔”یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی ادارے صدارتی خاندان کے تمام ارکان، بالخصوص بارون ٹرمپ، کی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں اور ہر نوعیت کے خطرات کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔ایرانی ویڈیو کا مواد اور مبینہ نوعیتحالیہ رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری اور نیم سرکاری میڈیا پر ایک ویڈیو نشریات کا حصہ بنی، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سیاسی و ملٹری کشیدگی کو موضوع بنایا گیا تھا۔ تاہم ویڈیو کے کچھ حصوں میں بصری (Visual) انداز میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندانی پس منظر اور خاص طور پر ان کے بیٹے بارون ٹرمپ کا تذکرہ شامل تھا۔اگرچہ ویڈیو کی حتمی نوعیت اور اس کے پیچھے موجود تکنیکی پیغامات کی فیرنسک چھان بین کی جا رہی ہے، لیکن امریکی سیکیورٹی اداروں کے مطابق اس ویڈیو کو کسی ممکنہ خطرے یا غیر معمولی دباؤ کی حکمتِ عملی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ سیکرٹ سروس اس وقت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ محض پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے یا اس میں سلامتی کے لیے واقعی کوئی باضابطہ ہدف موجود ہے۔واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کا تاریخی پس منظرامریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے سخت ناخوشگوار رہے ہیں، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت اور اس کے بعد سے دونوں ممالک کے مابین تناؤ میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔اس کشیدگی کے بنیادی عناصر درج ذیل ہیں:ایٹمی معاہدے سے علیحدگی (2018): امریکہ کی جانب سے مشترکہ جامع جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) سے یکطرفہ علیحدگی اور ایران پر سخت ترین معاشی پابندیوں کی بحالی۔جنرل قاسم سلیمانی کا واقعہ (2020): جنوری 2020 میں بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت، جس کے بعد ایران نے انتقامی اقدامات کا متعدد بار اعادہ کیا۔امریکہ میں سیکیورٹی چیلنجز: امریکہ کے مختلف ادارے مسلسل یہ رپورٹس دیتے رہے ہیں کہ ایران بعض سابق یا موجودہ امریکی حکام کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا ارادہ رکھتا ہے، جس کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی ساتھیوں کی سیکیورٹی میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔اسی طویل اور تلخ پس منظر کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بچوں سے جڑا کوئی بھی مواد امریکی اداروں کے لیے انتہائی سنجیدہ اور تشویشناک سمجھا جاتا ہے۔صدارتی خاندان کا سیکیورٹی پروٹوکول اور بارون ٹرمپ کی حفاظتامریکی قانون کے تحت، صدر، نائب صدر، ان کے شریکِ حیات اور 16 سال سے کم عمر بچوں کو سیکرٹ سروس کی جانب سے چوبیس گھنٹے مکمل حفاظتی کور فراہم کیا جاتا ہے۔ صدر کے عہدے سے الگ ہونے کے بعد بھی سابق وزرائے اعظم اور صدور کے بچوں کو ایک مخصوص عرصے تک یہ تحفط حاصل رہتا ہے۔بارون ٹرمپ کی حفاظت سے متعلق درج ذیل اقدامات انتہائی اہم ہیں:مستقل سیکیورٹی گارڈز: بارون ٹرمپ کی رہائش، تعلیمی ادارے اور سفر کے دوران سیکرٹ سروس کے خصوصی ایجنٹس کی مستقل موجودگی۔دیجیٹل و میڈیا مانیٹرنگ: سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیاں انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور عالمی نیوز نیٹ ورکس پر آنے والی ہر اس پوسٹ پر کڑی نظر رکھتی ہیں جس میں صدارتی خاندان کو ہدف بنایا گیا ہو۔عالمی اداروں کے ساتھ رابطے: سیکرٹ سروس دیگر بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر ان دھمکیوں کی صداقت اور مقام کا تعین کرتی ہے۔اسی نظام کے تحت ایرانی میڈیا کی اس ویڈیو کی مانیٹرنگ بھی فوری طور پر عمل میں لائی گئی اور اس پر قانونی ردِعمل دیا گیا۔عالمی سیکیورٹی اور ایڈیٹوریل تجزیہکسی ملک کے سرکاری میڈیا کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے اہم سیاسی رہنماؤں یا ان کے خاندانی ارکان، خاص طور پر نوجوان بیٹیوں یا بیٹوں کو نشانہ بنانے والی ویڈیوز یا بیانات کی اشاعت صحافتی اور سفارتی اخلاقیات کے منافی سمجھی جاتی ہے۔معاشی اور سفارتی ماہرین کے مطابق:سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ: اس قسم کے ویڈیوز سے دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ ممکنہ مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔عوامی ردِعمل اور اشتعال: امریکی عوام اور میڈیا میں کسی بھی صدارتی بچے کو دھمکی دیے جانے پر شدید احتجاج دیکھنے کو ملتا ہے، جس سے حکومت پر مزید سخت معاشی یا فوجی اقدامات کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔پروپیگنڈا کی جنگ: یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان روایتی محاذ آرائی کے ساتھ ساتھ اب ‘انفارمیشن وارفیئر’ اور سائبر پروپیگنڈا کی جنگ بھی شدت اختیار کر چکی ہے۔امریکی سیکیورٹی ادارے اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد صدارتی خاندان کی سیکیورٹی کی تدابیر کو کتنا مزید سخت کیا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کا سدِباب ہو سکے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپمز مالیاتی تفصیلا ت: 1.069 ارب روپے کا بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ اسپتال کے حفاظتی اور مالیاتی امور پر سنگین سوالات بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ملک گیر نئے سروے کا یکم ستمبر سے آغاز: نادرا اور بی آئی ایس پی کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل