Preloader
First meeting of makkah joint defense agreement

اہم نکات:

  • مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (مکہ ایکارڈ) کے تحت قائم کردہ اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا پہلا افتتاحی اجلاس پیر کے روز استنبول، ترکیہ میں منعقد ہو رہا ہے۔
  • پاکستانی وفد کی قیادت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، اور سپاہ سالار چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔
  • اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا مقصد عالمِ اسلام اور علاقائی دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فریم ورک قائم کرنا ہے۔
  • دفترِ خارجہ کے مطابق یہ اجلاس دفاعی تعلقات کو نچلی سطح سے اٹھا کر جدید اور موثر اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

استنبول (خصوصی رپورٹ):

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (مکہ ایکارڈ) کے تحت تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی ‘اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی’ کا افتتاحی اجلاس پیر کو ترکیہ کے تاریخی شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔ اس عالمی و علاقائی اہمیت کے حامل اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وکیلی وفد استنبول پہنچ چکا ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اہم اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں۔

اس اجلاس کو اسلامی دنیا اور خطے کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں انتہائی غیر معمولی اور کلیدی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں دفاعی و سیاسی شعبوں میں مشترکہ حکمت عملی پر پیش رفت کی جائے گی۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کا پس منظر

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ، جسے عالمی صحافتی اور سفارتی حلقوں میں ‘مکہ ایکارڈ’ کے نام سے جانا جاتا ہے، عالمِ اسلام کے اہم ممالک کے مابین سیکیورٹی، سیاسی اور دفاعی شعبوں میں خودکفالت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ایک تاریخی کوشش ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان روایتی اور غیر روایتی سیکیورٹی خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنا، فوجی مشقوں کا انعقاد، اور دفاعی پیداوار میں تکنیکی تبادلے کو یقینی بنانا ہے۔

اس معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ ایک اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پالیسی سازی، سیکیورٹی امور پر اتفاقِ رائے، اور معاہدے کی اہداف کی نگرانی کرے گی۔ استنبول میں ہونے والا یہ اجلاس اسی سلسلے کی پہلی عملی اور باضابطہ کڑی ہے۔

اجلاس کے اہم نکات اور متوقع فیصلے

ترکیہ میں ہونے والے اس افتتاحی اجلاس میں کئی اہم اور حساس دفاعی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ذرائع اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق اجلاس کے اہم ترین ایجنڈے کے نکات درج ذیل ہیں:

  • مشترکہ دفاعی فریم ورک کی تیاری: رکن ممالک کے مابین مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور خطرے کی صورت میں فوری ردِعمل کے طریقہ کار پر تفصیلی بحث۔
  • دفاعی انڈسٹری کا فروغ: ترکیہ، پاکستان اور دیگر شریک ممالک کی دفاعی پیداواری صلاحیات، بالخصوص ڈرون ٹیکنالوجی، جدید ترین عسکری ساز و سامان اور گراؤنڈ سیکیورٹی سسٹمز کی باہمی فراہمی۔
  • انٹیلی جنس شیئرنگ mechanism: سائبر سیکیورٹی، دہشت گردی کے خاتمے اور سرحد پار سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا باقاعدہ تبادلہ۔
  • مشترکہ فوجی مشقیں: تمام رکن ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج کے درمیان آئندہ برسوں میں مشترکہ دفاعی مشقوں کی منظوری اور شیڈول کی تیاری۔

پاکستان کی شرکت کی اسٹریٹجک اہمیت

پاکستانی وفد میں ملکی تاریخ کے سب سے اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کی موجودگی اس اجلاس کی حساسیت اور اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جہاں سیاسی اور سفارتی محاذ پر پاکستان کا موقف مؤثر انداز میں پیش کریں گے، وہی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت عسکری اور سیکیورٹی معاملات پر پاکستان کی عملی مہارت اور خطے میں اس کے کلیدی کردار کی ضامن ہوگی۔

پاکستان گزشتہ کچھ دہائیوں سے خطے میں امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور بحیرہ عرب سمیت بحر ہند میں سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کو اپنی عسکری صلاحیتوں اور دفاعی پیداوار (مثلاً جے ایف-17 تھنڈر اور دفاعی ڈرونز) کو عالمی سطح پر تعاون کے نئے سانچے میں ڈھالنے کا موقع ملے گا۔

خطے پر اثرات اور عالمی تناظر

مشرقِ وسطیٰ، جنوب ایشیا اور مشرقی یورپ میں جنم لینے والے حالیہ تنازعات کے بعد دنیا بھر میں سیکیورٹی اتحادوں کی اہمیت دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ ایسے ماحول میں مکہ ایکارڈ کے تحت اس کمیٹی کا متحرک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسلامی دنیا اور اس کے اتحادی اب اپنی سیکیورٹی کے لیے خود پر انحصار کرنے اور علاقائی خودمختاری کی حفاظت کے لیے مضبوط گٹھ جوڑ بنا رہے ہیں۔

استنبول اجلاس نہ صرف رکن ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرے گا بلکہ یہ بین الاقوامی برادری کو بھی یہ پیغام دے گا کہ خطے کے ممالک اپنے علاقائی مسائل کو باہمی مشاورت اور مضبوط دفاعی فریم ورک کے ذریعے حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

آئندہ کا لائجہ عمل

توقع کی جا رہی ہے کہ افتتاحی اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ (Joint Declaration) جاری کیا جائے گا، جس میں کمیٹی کے آئندہ کے لائحہ عمل، مستقبل میں ہونے والی میٹنگز کی میزبانی اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

یہ اجلاس استنبول میں ایک نئے دفاعی و اسٹریٹجک دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے جو آنے والے سالوں میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرے گا۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025