اہم نکات (خلاصہ) متاثرہ علاقے: پشاور کے پوش علاقے حیات آباد کے فیز 6 اور فیز 7 میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز مسلسل معطل۔ شدید متاثرین: ہزاروں طلباء کی آن لائن کلاسز، امتحانات کی تیاری، آن لائن روزگار (فری لانسنگ) اور ہنگامی طبی رابطے شدید متاثر۔ عدمِ آگاہی: انتظامیہ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے سروسز کی بندش کے دورانیے اور وجوہات پر پراسرار خاموشی۔ اہلِ علاقہ کا مطالبہ: سکیورٹی خدشات اور شہریوں کی بنیادی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے سروسز فوری بحال کی جائیں یا متبادل فراہم کیا جائے۔ خبر کا پس منظر: حیات آباد میں مواصلاتی سروسز کا بحران پشاور کا شمار ملک کے ان اہم شہروں میں ہوتا ہے جو سکیورٹی لحاظ سے انتہائی حساس اور جیو پولیٹیکل اہمیت کے حامل ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف حصوں سمیت پشاور میں امن و امان کی صورتِ حال کو برقرار رکھنے کے لیے وقتًا فوقتًا ایمرجنسی اقدامات اور سروسز کی بندش کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، حیات آباد جیسے جدید اور تعلیم یافتہ علاقے کے فیز 6 اور فیز 7 میں موبائل فون نیٹ ورکس اور سگنلز کی اچانک اور طویل مدتی معطلی نے مقامی آبادی کو شدید ذہنی و عملی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ حیات آباد، جو تعلیمی اداروں، تجارتی مراکز اور رہائشی بلاکس کا مرکز سمجھا جاتا ہے، وہاں مواصلاتی بلاک ڈاؤن نے نہ صرف عام زندگی کی رفتار روک دی ہے بلکہ شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا سکیورٹی اقدامات کی قیمت شہریوں کے بنیادی حقوق کی صورت میں وصول کرنا درست ہے؟ تعلیمی سرگرمیوں پر منفی اثرات: طلباء کا مستقبل خطرے میں حیات آباد کے فیز 6 اور 7 میں متعدد اعلیٰ تعلیمی ادارے، میڈیکل کالجز، اسکولز اور کوچنگ سینٹرز واقع ہیں، نیز ہزاروں یونیورسٹی طلباء ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ موجودہ دور میں تعلیمی نظام مکمل طور پر ڈیجیٹلائزیشن اور انٹرنیٹ پر منحصر ہو چکا ہے۔ موبائل انٹرنیٹ اور 4G سروسز کی عدم دستیابی کے باعث درج ذیل مسائل جنم لے رہے ہیں: آن لائن کلاسز کی معطلی: یونیورسٹی اور کالج کے طلباء اپنے ڈیجیٹل پورٹلز، اسائنمنٹس اور آن لائن لیکچرز تک رسائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ امتحانات کی تیاری میں دشواری: مختلف مقابلے کے امتحانات (ایم ڈی کیٹ، ایٹا، سی ایس ایس وغیرہ) کی تیاری کرنے والے طلباء کا آن لائن مواد تک رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ ریسرچ اسکالرز کی پریشانی: ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ نگار اپنی تحقیق اور ڈیٹا اپ لوڈنگ کے لیے انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ ایک مقامی طالب علم کے مطابق: “آج کے دور میں انٹرنیٹ کے بغیر تعلیم کا تصور ممکن نہیں رہا۔ ہمیں خبر دیے بغیر سروسز بند کر دی جاتی ہیں، جس سے ہمارا پورا تعلیمی سال داؤ پر لگ جاتا ہے۔” معاشی و تجارتی نقصان: ڈیجیٹل بزنس اور فری لانسنگ کا فلج ہونا حیات آباد کا شمار پشاور کے ان خطوں میں ہوتا ہے جہاں آئی ٹی (IT) کے ماہرین، فری لانسرز، ای کامرس سے وابستہ تاجر اور آن لائن رائڈ ہailing و ڈلیوری سروسز کے نمائندے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ موبائل نیٹ ورک کی بندش سے پیدا ہونے والی معاشی صورتِ حال کا جائزہ ذیل میں دیا گیا ہے: شعبہاثرات و نقصانفری لانسنگ و آئی ٹیبیرون ملک کلائنٹس کے ڈیڈ لائنز مس ہونا، پروجیکٹس کا منسوخ ہونا اور مالی نقصان۔آن لائن ڈلیوری سروسزفوڈ ڈلیوری اور کوریئر نمائندوں کی لوکیشن اور رابطہ نہ ہونے کے باعث روزگار ٹھپ۔ڈیجیٹل بینکنگموبائل ایپس (EasyPaisa, JazzCash, Banking Apps) پر OTP موصول نہ ہونا اور مالی معاملات کا رکنا۔مقامی تجارتدکانداروں اور آن لائن آرڈرز لینے والے کاروباری افراد کا گاہکوں سے رابطہ منقطع۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ معاشی بحران کے اس دور میں جب نوجوان خود روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، سروسز کی ناگہانی بندش ان کے پیٹ پر لات مارنے کے مترادف ہے۔ ہنگامی حالات اور طبی امداد کے لیے خطرے کی گھنٹی کسی بھی معاشرے میں موبائل فون محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بنیادی حفاظتی ضرورت بن چکا ہے۔ حیات آباد فیز 6 اور 7 میں بزرگ، مریض اور خواتین بڑی تعداد میں مقیم ہیں۔ موبائل سروسز نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے سکیورٹی اور طبی خدشات: طبی ایمرجنسی: اچانک دل کا دورہ پڑنے، حادثات یا دیگر طبی حالات میں ایمبولینس کو کال کرنا ناگزیر ہوتا ہے، لیکن سگنلز نہ ہونے سے جان بچانے کے وقت میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ اہلِ خانہ سے عدم رابطہ: روزمرہ کے کام کاج کے لیے گھر سے باہر جانے والے افراد کے ساتھ ان کے اہل خانہ کا کوئی رابطہ نہیں رہتا، جس سے شدید تشویش اور خوف و ہراس پھیلا رہتا ہے۔ فائر بریگیڈ و پولس ہیلپ لائن: کسی ناگہانی واقعے یا آگ لگنے کی صورت میں فوری امدادی ٹیموں کو بلاوا بھیجنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ سرکاری موقف اور معلوماتی خلا (Information Vacuum) اس تمام صورتِ حال میں سب سے بڑا مسئلہ حکام کی جانب سے معلومات کا نہ ہونا ہے۔ ضلعی انتظامیہ، خیبر پختونخوا حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی جانب سے اس معاملے پر کوئی رسمی اعلامیہ یا متوقع بحالی کا ٹائم ٹیبل جاری نہیں کیا گیا ہے۔ شہری اس عدم آگاہی سے شدید نالاں ہیں۔ اگرچہ سکیورٹی ادارے امن و امان قائم رکھنے کے لیے حساس فیصلوں کے مجاز ہیں، لیکن عالمی صحافتی اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق شہریوں کو ایسی بندشوں سے قبل مطلع کرنا اور ان کی بنیادی ضروریات کا متبادل فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اہلِ علاقہ کا اپیل اور مطالبہ حیات آباد فیز 6 اور 7 کے رہائشیوں، تجارتی تنظیموں اور طلباء کے نمائندوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ، کور کمانڈر پشاور، ضلعی انتظامیہ اور پی ٹی اے کے حکام سے مندرجہ ذیل مطالبات کیے ہیں: سروسز کی فوری بحالی: حیات آباد کے متاثرہ فیزز میں موبائل نیٹ ورکس اور 4G سروسز کو بلا تاخیر بحال کیا جائے۔ شفافیت اور پیشگی اطلاع: اگر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سروسز کی معطلی ناگزیر ہو، تو عوام کو کم از کم 24 گھنٹے قبل ایس ایم ایس یا میڈیا کے ذریعے مطلع کیا جائے تاکہ وہ متبادل انتظامات کر سکیں۔ متبادل مواصلاتی انتظامات: طلباء اور کاروباری طبقے کے لیے مخصوص وائی فائی یا براڈ بینڈ زونز فراہم کیے جائیں تاکہ ان کا تعلیمی اور معاشی حرج نہ ہو۔ صرف متاثرہ زون تک محدود معطلی: پوری آبادی کو سگنلز سے محروم کرنے کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے صرف مطلوبہ یا حساس مقامات تک کارروائی کو محدود رکھا جائے۔ اہلِ علاقہ نے واضح کیا ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم شہریوں کی بنیادی ضروریات اور حقِ مواصلات کو نظر انداز کر کے ان کی زندگیوں کو اجیرن نہ بنایا جائے۔ حکام کو اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دینی چاہیے تاکہ رہائشیوں کی بے چینی ختم ہو سکے۔ Post navigation پشاور: تھانہ گلبرگ پولیس کی بڑی کارروائی، قمار بازی کا اڈا تباہ، لاکھوں روپے نقد رقم اور آلاتِ قمار بازی سمیت 6 ملزمان گرفتار خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ: پشاور ہائی کورٹ میں آئینی و قانونی جنگ کا آغاز، اہم سماعت کی تفصیلات