خبر کے اہم نکات:وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست مخالف عناصر اور دہشت گردوں کی جانب سے نیٹو کا متروکہ جدید اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے باغات اور ذاتی املاک کے استعمال پر املاک کے مالکان کے خلاف بطور سہولت کار سخت قانون جوئی کی جائے گی۔صوبے میں فرنٹ لائن پر لڑنے والی بلوچستان پولیس کے اہلکاروں اور افسران کی تنخواہوں میں نمایاں اضافے کا اعلان۔صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کا دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ عزم۔دہشت گردوں کے پاس نیٹو اسلحہ موجودکوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح اعلان کیا ہے کہ ریاست مخالف عناصر اور دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے کی موجودہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کے باعث بلوچستان میں کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کے ہاتھ نیٹو کا جدید ترین اسلحہ اور ہتھیار لگے ہیں، جنہیں وہ سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔پریس کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے جوانوں کا خون کسی صورت سستا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی پالیسی دہشت گردی کے معاملے پر بالکل واضح اور زیرو ٹالرنس پر مبنی ہے۔ جو عناصر سیکیورٹی فورسز یا شہریوں پر حملہ آور ہوں گے، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔املاک اور باغات سے فائرنگ پر مالکان کے خلاف کڑا ایکشنصوبائی کیپٹل کوئٹہ میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ایک نیا اور سخت ترین پالیسی بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دہشت گرد اور ان کے آلاتِ کار نجی املاک، باغات اور زرعی زمینوں کو چھپنے اور سیکیورٹی فورسز پر اچانک حملے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا:“اگر کسی بھی باغ، زرعی زمین یا ذاتی ملکیت کو سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ یا حملے کے لیے استعمال کیا گیا، تو املاک کے مالکان کو ناواقفیت کے عذر پر بری الذمہ قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ انہیں دہشت گردوں کا راست سہولت کار تسلیم کرتے ہوئے سخت قانونی کارروائی کا نشانہ بنایا جائے گا۔”وزیراعلیٰ کے اس بیان کا مقصد مقامی سطح پر دہشت گردوں کی ممکنہ پناہ گاہوں اور سہولت کاری کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مقامی شہریوں کی تعاون یا خاموشی کا فائدہ اٹھا کر ملک دشمن عناصر محفوظ ٹھکانے قائم کر لیتے ہیں، جس کا سدِباب اب لازمی ہو چکا ہے۔بلوچستان پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ اور مراعاتدہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار صوبائی فورسز کا مورال بلند کرنے کے لیے وزیراعلیٰ نے بلوچستان پولیس کے تمام اہلکاروں اور افسران کی تنخواہوں میں اضافے کا بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس صوبے میں امن کے قیام کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے اور ان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔تنخواہوں میں اضافے کی اہم تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:حوصلہ افزائی: صوبائی حکومت نے پولیس اہلکاروں کے خطرات اور مشکل حالاتِ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے الاؤنسز اور تنخواہوں کی ساخت پر نظرثانی کی ہے۔شہدا کے پیکج میں بہتری: فورسز کے شہدا کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور فوری مالی امداد کے لیے جاری مراعاتی پیکج کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔جدید لاجسٹک اور سامان: نیٹو اسلحے اور جدید سیکیورٹی چیلنجز سے نپٹنے کے لیے بلوچستان پولیس کو جديد ترين آلات، بلٹ پروف گاڑیاں اور تکنیکی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کی عظیم قربانیوں کو انتہائی قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔نیٹو کے متروکہ اسلحے کا چیلنج اور پس منظربلوچستان میں دہشت گردوں کے پاس نیٹو کا جدید ترین اسلحہ موجود ہونے کا انکشاف کوئی نیا چیلنج نہیں ہے، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے اس کا باضابطہ اعتراف خطے کے سیکیورٹی خدشات کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بڑی تعداد میں نائٹ ویژن چشمے، جدید ترین رائفلیں (M4 اور M16)، مواصلاتی آلات اور دیگر اسلاحی ساز و سامان نام نہاد بلیک مارکیٹ کے ذریعے کالعدم تنظیموں اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگا۔ بلوچستان کی طویل اور دشوار گزار سرحدوں کے باعث یہ ہتھیار سرحد پار سے صوبے میں داخل کیے گئے، جن کا استعمال اب ریاستی املاک اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ماہرین کے مطابق نیٹو اسلحے کی موجودگی کے باعث دہشت گردوں کی کارروائیوں میں تکنیکی شدت آئی ہے، جس سے نپٹنے کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو بھی جدید ٹیکنالوجی، ڈرون نگرانی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔بلوچستان میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور سیاسی اثراتبلوچستان پچھلی دو دہائیوں سے مختلف نوعیت کے امن و امان کے مسائل اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف کالعدم قوم پرست تنظیمیں اور دوسری طرف سرحد پار سے فعال مذہبی شدت پسند گروہ صوبے کے امن کو تاخت و تاراج کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ پالیسی واضح کی ہے کہ مذاکرات کے دروازے صرف ان لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو آئینِ پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں اور تشدد کا راستہ چھوڑنے پر تیار ہیں۔ تاہم، جو عناصر ہتھیار اٹھا کر ریاست کو چیلنج کریں گے، ان کے خلاف بلاامتیاز اور سخت ترین فوجی و پولیس کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومتی اقدام کے اثرات:سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ: مقامی سطح پر سہولت کاری ختم ہونے سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود ہوگی۔عوامی تحفظ اور اعتماد: پولیس کی تنخواہوں اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری سے عوام میں فورسز کی کارکردگی پر اعتماد بڑھے گا۔بارڈر مینجمنٹ: افغان سرحد پر باڑ اور سیکیورٹی آلات کی تلاشی سے غیر قانونی اسلحے کی آمد پر قابو پانے کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔آئندہ کا لائحہ عمل: پائیدار امن کی جانب قدمپریس کانفرنس کے اختتام پر وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے کے ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے ارد گرد کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی اطلاع فوراً سیکیورٹی اداروں کو دیں۔بلوچستان میں پائیدار امن قائم کیے بغیر نہ تو اقتصادی ترقی ممکن ہے اور نہ ہی ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل۔ اسی لیے، صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف اس نبردازما جنگ کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سیاسی عزم کو بیک وقت استعمال کر رہی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationلاہور ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف اینٹی کرپشن کی کارروائیاں روک دی گئیں کرپٹ اور بدعنوان پولیس افسران کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کارروائی کا آغاز