Preloader
CM Maryam orders road maintenance squads

اہم نکات:

  • روزانہ معائنہ: پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صوبے کے ہر ضلع میں اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈز کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر سڑکوں کا معائنہ کریں گے۔
  • فوری مرمت و صفائی: یہ اسکواڈز سڑکوں کی مرمت، گڈھوں کی بھرائی، صفائی ستھرائی اور تھرمو پلاسٹک مارکنگ کے کاموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں گے۔
  • عوامی تحفظ اور خوبصورتی: سڑکوں کے معیار میں بہتری کے ساتھ ساتھ ٹریفک سائنز کی تنصیب اور لینڈ اسکیپنگ کے ذریعے روڈ سیفٹی اور بصری خوبصورتی کو بڑھایا جائے گا۔
  • کڑی نگرانی: ترقیاتی منصوبوں کی شفافیت اور بروقت تکمیل کے لیے صوبائی اور ضلاعی سطح پر سخت مانیٹرنگ کا نظام نافذ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

لاہور: حکومت پنجاب نے صوبے میں بنیادی ڈھانچے بالخصوص سڑکوں کے شب و روز کے نظام کو جدید، محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے ایک بڑا اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے تمام اضلاع میں ’اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈز‘ (Special Road Maintenance Squads) کے قیام کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سڑکوں کی روزمرہ کی بنیاد پر دیکھ بھال، فوری مرمت، اور ٹریفک کی نقل و حرکت کو حادثات سے محفوظ بنانا ہے۔

اس انتظامی فیصلے کے تحت اضلاع میں بننے والی یہ ٹیمیں نہ صرف سڑکوں کا روزانہ معائنہ کریں گی بلکہ جہاں کہیں بھی ٹوٹ پھوٹ، کھڈے یا حادثات کا سبب بننے والے عوامل نظر آئیں گے، ان کی فوری نشاندہی اور سدباب کو یقینی بنائیں گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے عوامی سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی اور اربوں روپے کے لاگت سے بننے والے سڑکوں کے انفراسٹرکچر کو طویل عرصے تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔

اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈز کا عمل اور بنیادی ذمہ داریاں

وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہر ضلع میں تشکیل دیے جانے والے اسکواڈز کو جدید ترین آلات اور تکنیکی عملے سے لیس کیا جائے گا۔ یہ اسکواڈز روایتی نوکر شاہی کے سست روی پر مبنی نظام کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کے پابند ہوں گے۔

ان اسکواڈز کی بنیادی ذمہ داریوں کو درج ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

  • روزانہ کی بنیاد پر معائنہ: اضلاع کی مرکزی اور ثانوی سڑکوں کا باقاعدگی سے تفصیلی دورہ کرنا تاکہ کسی بھی خرابی کا ابتدائی سطح پر ہی پتہ لگایا جا سکے۔
  • فوری اور معیاری پیچ ورک: سڑکوں پر بننے والے کھڈوں (Potholes) کی فوری بھرائی اور پیچ ورک کرنا تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے اور گاڑیوں کا نقصان نہ ہو۔
  • تھرمو پلاسٹک مارکنگ: رات کے وقت ڈرائیونگ کو محفوظ بنانے کے لیے سڑکوں کی لینز پر جدید تھرمو پلاسٹک پینٹ سے نشانات (Road Markings) بنانا۔
  • ٹریفک سائنز اور بورڈز: ٹوٹے ہوئے یا غائب شدہ ٹریفک سائنز کی دوبارہ تنصیب اور سڑک پر ہدایت نامہ بورڈز کا واضح انتظام کرنا۔
  • لینڈ اسکیپنگ اور صفائی: سڑکوں کے اطراف اور ڈیوائیڈرز پر جمع ہونے والی مٹی، کچرے کی صفائی کے ساتھ ساتھ پودوں اور گھاس کی دیکھ بھال کے ذریعے خوبصورتی میں اضافہ کرنا۔

ترقیاتی منصوبوں کی سخت مانیٹرنگ کا حکم

وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے واضح کیا کہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر و مرمت کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر معیار کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ اور ڈجیٹل ٹریکنگ کا سہارا لیا جائے تاکہ کام کی شفافیت برقرار رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوامی وسائل کا ایک ایک روپیہ امانت ہے اور تعمیراتی کاموں میں تاخیر یا ناقص مٹیریل کے استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ جن ٹھیکیداروں یا افسران کی غفلت کی وجہ سے سڑکوں کا معیار متاثر ہوگا، ان کے خلاف سخت قانون و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پس منظر: سڑکوں کی دیکھ بھال کی موجودہ صورتحال اور چیلنجز

پنجاب میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہزاروں کلومیٹر طویل سڑکوں کا نیٹ ورک تو قائم کیا گیا، لیکن ان کی بروقت دیکھ بھال (Maintenance) کا کوئی مستقل اور فعال نظام موجود نہیں تھا۔ تعمیر کے بعد سڑکوں کو سالہا سال ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں بارشوں، زیادہ بوجھ والی گاڑیوں (Overloading) اور قدرتی عوامل کے باعث سڑکیں جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی تھیں۔

سڑکوں کی اس ناگفتہ بہ حالت کے باعث نہ صرف شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا بلکہ روڈ حادثات کی شرح میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، جب ایک سڑک مکمل تباہ ہو جاتی تھی تو اس کی ازسرنو تعمیر پر حکومت کو اربوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑتے تھے۔ اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈز کا قیام دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ “تعمیر سے زیادہ اہم دیکھ بھال ہے”۔ اگر سڑک پر چھوٹا سا کھڈا بنتے ہی اس کی مرمت کر دی جائے تو سڑک کی عمر میں کئی سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

روڈ سیفٹی اور ٹریفک کے نظام پر اثرات

پاکستان میں سڑکوں کے حادثات کی ایک بڑی وجہ ٹریفک سائنز کی عدم موجودگی، سڑکوں کی ناقص حالت اور لین مارکنگ کا نہ ہونا ہے۔ پنجاب حکومت کے اس نئے اقدام سے روڈ سیفٹی میں نمایاں پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

ماہرینِ ٹریفک کا کہنا ہے کہ تھرمو پلاسٹک مارکنگ اور رات کو چمکنے والے روڈ اسٹڈز (Cat Eyes) کی تنصیب سے بالخصوص دھند (Smog/Fog) کے موسم میں ڈرائیوروں کو سڑک کی حد بندی سمجھنے میں مدد ملے گی، جس سے شدید حادثات کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ واضح اشارے اور محفوظ سڑکیں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گی جس سے ایندھن اور وقت دونوں کی بچت ہوگی۔

عوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات

شہریوں اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ روزمرہ کے سفر کے دوران ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں گاڑیوں کی خرابی اور ذہنی کشیدگی کا سبب بنتی ہیں۔ اگر اضلاع کی سطح پر یہ اسکواڈز واقعی فعال انداز میں کام کریں گے تو اس کے مثبت نتائج گراؤنڈ پر جلد نظر آئیں گے۔

تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ اضلاع کی انتظامیہ اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) ان اسکواڈز کو کس حد تک فعال رکھتے ہیں۔ اگر ان اسکواڈز کو شفاف بجٹ، جدید مشینری اور سیاسی مداخلت سے پاک ماحول فراہم کیا جائے تو یہ ماڈل دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک بہترین مثال بن سکتا ہے۔

پنجاب حکومت کا یہ نیا قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبائی انتظامیہ محض نئے اور بڑے منصوبوں کی نمائش کے بجائے موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور عوامی سہولت پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس پالیسی پر کتنی تندہی سے عملدرآمد کراتی ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025