ناردرن آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل او نیل کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے ثابت کر دیا ہے کہ آئرلینڈ کا اتحاد اب باقاعدہ زیرِ بحث ہے۔مائیکل او نیل نے اسکائی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئرلینڈ کے اندر آئینی تبدیلیوں سے متعلق گفتگو تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گڈ فرائیڈے معاہدے اور بریکزٹ کے بعد برطانیہ اور آئرلینڈ کے تعلقات میں نئی پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔آئرلینڈ کے ممکنہ اتحاد پر اتحادیوں (یونینسٹ) اور قومی خیال رکھنے والوں (نیشنلسٹ) کے درمیان الگ الگ سیاسی مؤقف پایا جاتا ہے۔عالمی سفارت کاری اور آئرلینڈ کا آئینی مستقبلشمالی آئرلینڈ کے سیاسی اور آئینی مستقبل پر جاری بحث نے اس وقت عالمی اور سفارتی سطح پر ایک نیا موڑ اختیار کر لیا جب ناردرن آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر (پہلی وزیر) مشیل او نیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئرش اتحاد سے متعلق بیانات پر اپنا اہم عالمی ردعمل جاری کیا۔ مشیل او نیل نے پیر کے روز “اسکائی نیوز” کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات کا اعادہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی گفتگو اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ “آئرلینڈ کا اتحاد” اب محض ایک نظریہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مذاکرات کی میز پر موجود ایک سنجیدہ موضوع بن چکا ہے۔مشیل او نیل، جو آئرش قوم پرست جماعت ‘سن فین’ (Sinn Féin) سے تعلق رکھتی ہیں، طویل عرصے سے ایک متحدہ آئرلینڈ کی حامی رہی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ برطانیہ کے انخلا (بریکزٹ) کے بعد پیدا ہونے والی اقتصادی اور سیاسی صورتحال نے آئرلینڈ کے دونوں حصوں کے باہمی ضم ہونے کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔امریکی بیان کے اہم پہلو اور اس کے سیاسی اثراتامریکی سیاست اور وہاں کی انتظامیہ نے تاریخی طور پر آئرلینڈ کے امن عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سنہ 1998 کا تاریخی ‘گڈ فرائیڈے معاہدہ’ امریکی ثالثی اور ضمانت کے بغیر ممکن نہیں تھا، جس نے آئرلینڈ میں دہائیوں سے جاری خونریز تنازع کا خاتمہ کیا تھا۔ اس پس منظر میں امریکی صدر کے بیانات کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔مشیل او نیل نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان اس بات کی دلیل ہے کہ آئرش عوام کے اندر اپنے ملک کے آئینی ڈھانچے کو بدلنے کی جو خواہش اور بحث پچھلے کچھ عرصے سے جنم لے رہی تھی، اسے اب بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آنے والے وقت میں آئرش حکومتوں کو اس سلسلے میں ایک پرامن اور جمہوری ریفرنڈم کی طرف بڑھنا ہوگا۔تاریخی پس منظر: تقسیم سے اتحاد کی بحث تکآئرلینڈ کی تاریخ، تقسیم اور آئینی جدوجہد کا ایک پیچیدہ باب ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے درج ذیل کلیدی تاریخی اور آئینی حقائق کا جائزہ لینا ضروری ہے:1921 کی تقسیم: جزیرہ آئرلینڈ کو 1921 میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جنوبی حصہ ‘جمہوریہ آئرلینڈ’ بنا جبکہ شمالی حصہ ‘ناردرن آئرلینڈ’ کے طور پر برطانیہ (یو کے) کا حصہ رہا۔دی ٹربلز (The Troubles): 1960 سے 1990 کی دہائی تک شمالی آئرلینڈ میں پروٹسٹنٹ (جو برطانیہ کے ساتھ رہنا چاہتے تھے) اور کیتھولک (جو جمہوریہ آئرلینڈ سے ملنا چاہتے تھے) کے درمیان شدید تشدد جاری رہا۔گڈ فرائیڈے معاہدہ (1998): اس تاریخی معاہدے نے تشدد کو ختم کیا اور یہ شرط رکھی کہ اگر عوام کی اکثریت چاہے تو ایک پرامن سرحدی پول (ریفرنڈم) کے ذریعے آئرلینڈ کا اتحاد ممکن ہو سکتا ہے۔بریکزٹ کا اثر: 2016 میں برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے نے شمالی آئرلینڈ میں سرحد اور تجارت کے مسائل دوبارہ زندہ کر دیے، کیونکہ جمہوریہ آئرلینڈ یورپی یونین میں ہی رہا۔سیاسی ردعمل اور متضاد نقطہ نظراگرچہ قوم پرست طبقہ مشیل او نیل اور صدر ٹرمپ کی اس گفتگو کو ایک مثبت اور تاریخی پیش رفت کے طور پر دیکھ رہا ہے، تاہم دوسری جانب یونینسٹ (برطانیہ کے ساتھ اتحاد کے حامی) اس مؤقف سے شدید اختلاف رکھتے ہیں۔ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی (DUP) سمیت دیگر حامیِ برطانیہ جماعتوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ یا باہر کی کسی بھی شخصیت کو شمالی آئرلینڈ کے اندرونی معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔یونینسٹ رہنماؤں کے مطابق، اکثریت اب بھی برطانیہ کا حصہ رہنے کی حامی ہے اور اتحاد کے حوالے سے گفتگو معاشی بے یقینی اور سیاسی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ فی الوقت تمام تر توجه عوامی بہبود، معیشت اور صحت عامہ جیسے بنیادی مسائل کو حل کرنے پر ہونی چاہیے۔مستقبل کا منظرنامہ اور بین الاقوامی اثراتصدر ٹرمپ کے بیانات اور مشیل او نیل کے ردعمل کے بعد، یہ سوال ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ کیا واقعی آنے والے سالوں میں آئرلینڈ میں ریفرنڈم متوقع ہے؟ گڈ فرائیڈے معاہدے کی رو سے، ریفرنڈم کرانے کا قانونی اختیار برطانوی سکریٹری آف اسٹیٹ کے پاس ہے، جو اس وقت ریفرنڈم کی تاریخ دے سکتے ہیں جب انہیں لگے کہ اکثریت اتحاد کے حق میں ووٹ دے گی۔آئرلینڈ کا اتحاد نہ صرف یورپ کی جغرافیائی سیاست کو تبدیل کرے گا بلکہ برطانیہ کی وفاقی ساخت کے لیے بھی بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ آئرلینڈ کا یہ آئینی سفر ان تمام قوموں اور خطوں کے لیے بھی ایک مثال ہوگا جو پرامن اور جمہوری طریقے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔About The Author Noor Khan See author's posts Post navigationپنجاب میں سڑکوں کی دیکھ بھال کے لیے انقلابی اقدام: ہر ضلع میں ’اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈز‘ قائم کرنے کی منظوری