Preloader
Congress demanded removal of madhiya perdash government
  • بھارتی قومی کانگریس نے صدر دروپدی مرمو کو خط لکھ کر مدھیہ پردیش کی بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔
  • اپوزیشن کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت اپنے قبائلی امور کے وزیر وجے شاہ کو بچانے کے لیے ان پر مقدمہ چلانے کی اجازت دینے سے انکار کر رہی ہے۔
  • یہ تنازع بھارتی فوج کی خاتون افسر کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف بی جے پی کے صوبائی وزیر کی جانب سے دیے گئے مبینہ طور پر ناگواری اور متنازع بیانات کے بعد پیدا ہوا۔
  • مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری کے مطابق ریاستی حکومت سیاسی سرپرستی فراہم کر کے عدالتی کارروائی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔
  • کانگریس کا بھارتی صدر سے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ

بھارتی سیاست میں سیاسی و عدالتی محاذ آرائی: کانگریس کا بڑا اقدام

بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت، انڈین نیشنل کانگریس نے بدھ کے روز ایک اہم اور بڑا سیاسی قدم اٹھاتے ہوئے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو سے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کو فوری برطرف کرنے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس کا موقف ہے کہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت اپنے قبائلی امور کے کابینہ وزیر وجے شاہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور عدالتی مقدمے کی منظوری دینے سے انکار کر کے قانون کی حاکمیت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

یہ شدید سیاسی تنازعہ بھارتی فوج کی نامور خاتون افسر، کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف بی جے پی کے صوبائی وزیر وجے شاہ کے مبینہ طور پر قابلِ اعتراض اور غیر مناسب بیانات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت اپنے وزیر کو سیاسی تحفظ اور سرپرستی فراہم کر رہی ہے تاکہ انہیں قانونی جوابدہی سے بچایا جا سکے۔

صدرِ جمہوریہ کو ارسال کردہ خط کے بنیادی مندرجات

مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر جیتو پٹواری نے صدر دروپدی مرمو کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے ریاست کی انتظامی صورتحال اور آئینی بحران کی نشاندہی کی ہے۔

خط میں جیتو پٹواری نے الزام عائد کیا کہ:

  • عدالتی عمل میں رکاوٹ: ریاستی حکومت جان بوجھ کر عدالتی عمل اور استغاثہ کی جانب سے وزیر کے خلاف کارروائی کی اجازت کو روکے ہوئے ہے، جو کہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔
  • سیاسی سرپرستی: وجے شاہ جیسے سینئر رہنما کو محض اس لیے بچایا جا رہا ہے کیونکہ وہ حکمران جماعت بی جے پی کا حصہ ہیں، جبکہ ایک آرمی افسر کے احترام کی تحقیر کی گئی ہے۔
  • آئینی ذمہ داری کی خلاف ورزی: ریاست کے آئینی سربراہ اور وزیرِ اعلیٰ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کے سامنے سب کے یکساں ہونے کے اصول پر عمل کریں، لیکن موجودہ حکومت عدالتی کارروائی سے فرار کا راستہ فراہم کر رہی ہے۔

کانگریس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان حالات میں ریاستی حکومت کو اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی یا آئینی جواز حاصل نہیں رہا، لہٰذا صدرِ جمہوریہ کو مداخلت کرتے ہوئے حکومت کو تحلیل کر دینا چاہیے۔

تنازع کا پس منظر: کرنل صوفیہ قریشی کون ہیں اور یہ معاملہ کیا ہے؟

اس سیاسی و عدالتی کشمکش کی جڑیں کچھ عرصے قبل پیش آنے والے اس واقعے سے جڑی ہیں جس میں بی جے پی کے صوبائی وزیر وجے شاہ نے بھارتی فوج کی سگنل کور کی افسر کرنل صوفیہ قریشی کے حوالے سے عوامی سطح پر ایک متنازع اور نازیبا بیان دیا تھا۔

کرنل صوفیہ قریشی بھارتی فوج کی ان چند سرکردہ اور نمائندہ خواتین افسران میں سے ایک ہیں جنہوں نے بین الاقوامی اور قومی سطح پر اہم ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ انہوں نے 2016 میں کثیر القومی فوجی مشق ‘ایکسرسائز فورس 18’ میں بھارتی دستے کی قیادت کر کے تاریخ رقم کی تھی، جہاں وہ اتنے بڑے تربیتی مشن کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون افسر بنیں۔

بی جے پی کے وزیر وجے شاہ کے مبینہ بیانات کے بعد نہ صرف فوج کے سابق و موجودہ اراکین بلکہ عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ ان بیانات کو مسلح افواج کی عزت و وقار اور بالخصوص فوج میں خدمت سرانجام دینے والی خواتین افسران کی تذلیل سے تعبیر کیا گیا۔

قانونی کارروائی کے لیے منظوری کا مسئلہ (Sanction for Prosecution)

بھارتی قانون (Criminal Procedure Code) کے تحت کسی بھی برسرِ اقتدار سرکاری عہدیدار یا کابینہ کے وزیر پر ان کے دورِ حکومت کے دوران کوئی فوجداری مقدمہ درج کرنے یا عدالت میں چالان پیش کرنے کے لیے متعلقہ حکومت یا گورنر سے باقاعدہ منظوری (Prosecution Sanction) حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔

اس کیس میں درپیش قانونی رکاوٹوں اور اعداد و شمار کا جائزہ درج ذیل ہے:

  • درخواست دہندگان کا موقف: متاثرہ فریقین اور اپوزیشن کی جانب سے عدالت اور متعلقہ اداروں سے استدعا کی گئی کہ وجے شاہ پر مقدمہ چلانے کی منظوری دی جائے۔
  • حکومت کا ردِعمل: مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے تاحال اس قانونی منظوری کی فراہمی سے گریز یا التوا کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
  • کانگریس کا مطالبہ: کانگریس کا کہنا ہے کہ منظوری نہ دینا صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عدالت کو اپنے آزادانہ فرائض کی ادائیگی سے روک رہی ہے۔

سیاسی و سماجی اثرات اور ایڈیٹوریل تجزیہ

اس واقعے اور کانگریس کی جانب سے کی جانے والی تحریک کے باعث مدھیہ پردیش اور عالمی و بھارتی ذرائع ابلاغ میں مختلف نوعیت کی بحث چھڑ گئی ہے۔

صحافتی اور سیاسی نقطہ نظر سے اس کیس کے درج ذیل اہم اثرات سامنے آ رہے ہیں:

  1. مسلح افواج کی عزت اور سیاسی بیانیہ: ہندستان میں فوج کو ایک غیر سیاسی اور قابلِ احترام ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ کسی فوجی افسر کے خلاف سیاستدانوں کی جانب سے نامناسب الفاظ کے استعمال پر عوام میں سخت حساسیت پائی جاتی ہے، جس کا فائدہ اپوزیشن سیاسی طور پر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
  2. بی جے پی کے لیے داخلی و خارجی دباؤ: بی جے پی، جو خود کو قوم پرستی اور مسلح افواج کی سب سے بڑی حامی جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے، کے لیے اپنے ہی وزیر کے اس اقدام کا دفاع کرنا ایک سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔
  3. خواتین کی بااختیاری کا سوال: دفاعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین افسران کے تحفظ اور ان کے احترام سے متعلق یہ کیس خواتین کے حقوق کے کارکنوں کے لیے بھی ایک اہم نقطہ بن گیا ہے۔

مستقبل کے ممکنہ عدالتی و آئینی راستے

صدر دروپدی مرمو کو ارسال کی گئی درخواست کے بعد اب تمام تر نظریں راشٹرپتی بھون (صدارتی محل) اور عدالتی احکامات پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اگرچہ بھارت کے آئین میں کسی ریاستی حکومت کو برطرف کرنے کا اختیار (Article 356) انتہائی غیر معمولی حالات میں استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس درخواست نے مدھیہ پردیش حکومت پر قانونی اور اخلاقی دباؤ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔

قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ریاستی حکومت استغاثہ کو مقدمہ چلانے کی منظوری نہیں دیتی، تو متاثرہ فریقین ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا رخ کر سکتے ہیں تاکہ عدالتی احکامات کے ذریعے اس سیاسی و انتظامی التوا کو ختم کروایا جا سکے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔

Glimpse of Cricket بشیر بلور پشاور جلسہ Ambani showing Vantra to Messi Pakistan U-19 The Asian Champion Jobs 14 Dec 2025