اہم نکات جامع غیر نصابی ایونٹ: لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو میں لیاقتیئنز ڈیبیٹنگ سوسائٹی اور ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے زیرِ اہتمام “ایوانِ آزادی” کا کامیاب انعقاد۔ کثیر اللسانی اور متنوع مقابلے: اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں تقریری مقابلوں کے علاوہ پوسٹر میکر میکنگ، مضمون نویسی، بیت بازی اور اصلاحی ٹیبلوز کا مظاہرہ۔ طبی پیشے میں ابلاغی مہارتیں: وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن کا خطاب؛ انہوں نے تاکید کی کہ مستقبل کے ڈاکٹروں کے لیے مریضوں اور معاشرے سے بہتر ابلاغ (Communication) بے حد ضروری ہے۔ قیادت کی توثیق: تقریب کے دوران وائس چانسلر کی چار سالہ مدتِ ملازمت میں توسیع کا خیرمقدم اور یونیورسٹی کے تعلیمی و ترقیاقی سفر کو جاری رکھنے کا عزم۔ جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر): اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں صرف نصابی کتابوں تک محدود رہنا طالب علم کی ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ مثبت غیر نصابی سرگرمیاں ان میں تنقیدی سوچ، اعتماد اور قیادت کی صلاحیتیں بیدار کرتی ہیں۔ اسی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشورو میں ایک شاندار اور پروقار تقریری و ادبی مقابلے “ایوانِ آزادی” کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام لمس کی معروف اسٹوڈنٹ باڈی لیاقتیئنز ڈیبیٹنگ سوسائٹی اور ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے مشترکہ تعاون سے منعقد کیا گیا۔ ایونٹ کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں وہ اپنے خیالات کا آزادانہ، مدلل اور ذمہ دارانہ اظہار کر سکیں۔ کثیر اللسانی مقابلے اور ثقافتی تنوع کی عکاسی “ایوانِ آزادی” کے تحت منعقدہ مقابلوں کی سب سے اہم خصوصیت اس کا کثیر اللسانی اور کثیر الجہتی ہونا تھا۔ یونیورسٹی کی سطح پر اس بات کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا کہ طلبہ کو ان کی پسندیدہ زبان میں اظہارِ خیال کا پورا موقع ملے۔ سرگرمی / مقابلہشامل زبانیں / شعبےمقاصد و نتائجتقریری مقابلےاردو، سندھی، انگریزیاستدلال، اعتماد اور عوامی خطابت کی صلاحیتوں کی نکھارادبی مقابلیاںمضمون نویسی، بیت بازیتحریری مہارت اور کلاسیکی ادبی ذوق کی ترغیببصری و ڈرامائی فنونپوسٹر میکنگ، اصلاحی ٹیبلوزتخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ اور سماجی مسائل پر آگاہی پروگرام میں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مقابلوں کے دوران ہال تالیوں سے گونجتا رہا اور حاضرین نے طلبہ کے اعتماد، شاندار طرزِ تکلم اور فکر انگیز موضوعات پر ان کی گرفت کو بے حد سراہا۔ یہ سرگرمیاں پاکستان کی لسانی اور ثقافتی خوبصورتی کو یکجا کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوئیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اکرام دین اجن کا اہم خطاب: آزادیِ اظہار اور ذمہ داری تقریب کے مہمانِ خصوصی لمس کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن تھے۔ انہوں نے اپنے جامع اور فکر انگیز خطاب میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے حقیقی کردار اور آزادیِ اظہار کی سرحدوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ 1. یونیورسٹی کا حقیقی کردار وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی محض ڈگری بانٹنے یا صرف پیشہ ورانہ تعلیم دینے کی جگہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا فکری مرکز ہے جہاں طلبہ میں: سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ مختلف اور مخالف نظریات کو برداشت کرنے کا ظرف پیدا ہوتا ہے۔ اپنی بات کو دلیل اور احترام کے ساتھ پیش کرنے کا طریقہ آتا ہے۔ 2. آزادیِ اظہار اور اس کی حد بندیاں “ایوانِ آزادی” کے عنوان پر بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن نے کہا کہ آزادیِ اظہارِ رائے ہر جمہوری اور تہذیب یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاہم، آزادی کا مطلب بے لگام ہونا نہیں ہے۔ “آزادیِ اظہار کے ساتھ سمجھداری، عزت، باہمی برداشت اور سماجی ذمہ داری کا ہونا انتہائی لازمی ہے۔ جب مباحثے اور تقریری مقابلے منعقد ہوتے ہیں تو وہ طلبہ کو سکھاتے ہیں کہ اختلافِ رائے کے باوجود کس طرح ایک دوسرے کا احترام برقرار رکھا جائے۔” — پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن (وائس چانسلر، لمس) مستقبل کے ڈاکٹروں کے لیے موثر رابطہ کاری (Communication Skills) کی اہمیت اپنے خطاب کے ایک اہم حصے میں وائس چانسلر نے طبی تعلیم (Medical Education) اور فنِ خطابت کے باہمی تعلق پر خاص زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھے معالج کے لیے صرف ادویات کا علم ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ اس کا اخلاق اور رابطہ کاری کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ طبی شعبے میں مؤثر ابلاغ کے درج ذیل پہلو انتہائی کلیدی ہیں: مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ: ایک ڈاکٹر کو اپنے مریض کی بات توجہ اور ہمدردی سے سننی ہوتی ہے تاکہ وہ ان کے خوف اور پریشانی کو دور کر سکے۔ پیشہ ورانہ اعتماد: مریض کے لواحقین اور دیگر صحت کے عملے (ساتھی ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف) سے بات چیت کے دوران واضح اور اعتماد سے بھرپور ابلاغ علاج کے عمل کو آسان بناتا ہے۔ سماجی آگاہی: مستقبل کے معالجین کو معاشرے کے ہر طبقے سے واسطہ پڑتا ہے، لہٰذا ان کا لہجہ اور اندازِ گفتگو شائستہ اور اثر انگیز ہونا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیمی مصروفیت کے باوجود غیر نصابی سرگرمیوں کو اپنی روٹین کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی سرگرمیاں کل کو عملی زندگی میں ان کی کامیا بی کی ضامن بنتی ہیں۔ وائس چانسلر کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور انتظامی خدمات کا اعتراف تقریب کے آغاز میں لمس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹوڈنٹ افیئرز اور لیاقتیئنز ڈیبیٹنگ سوسائٹی کی فوکل پرسن ڈاکٹر فرحانہ راجپر نے مہمانِ خصوصی، فیکلٹی ممبران اور شرکاء کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ ڈاکٹر فرحانہ راجپر نے پروفیسر ڈاکٹر اکرام دین اجن کو لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کے طور پر مزید چار سال کی مدتِ ملازمت میں توسیع ملنے پر مبارکباد پیش کی اور اس فیصلے کو یونیورسٹی کے لیے انتہائی خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا: خدمات کا اعتراف: حکومت کی جانب سے وائس چانسلر کی مدتِ ملازمت میں توسیع ان کی یونیورسٹی کی ترقی، تعلیمی معیار کی بلندی اور انتظامی بہتری کے لیے کی جانے والی انتھک کاوشوں کا اعتراف ہے۔ طلبا پرور پالیسیاں: وائس چانسلر نے ہمیشہ اسٹوڈنٹ سوسائٹیز، ادبی سرگرمیوں اور طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا ہے، جس سے کیمپس میں ایک مثالی تعلیمی اور تخلیقی ماحول قائم ہوا ہے۔ اختتامی کلمات اور مستقبل کی امیدیں تقریب کے اختتام پر ججز، منتظمین، رضاکاروں اور مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کی کاوشوں کو بھرپور طریقے سے سراہا گیا۔ فیکلٹی ممبران اور مہمانوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ “ایوانِ آزادی” جیسے ایونٹس کیمپس کی زندگی میں ایک نئی روح پھونکتے ہیں۔ امید ظاہر کی گئی کہ لمس کی انتظامیہ اور اسٹوڈنٹ باڈیز آئندہ بھی اس طرح کے معیاری پروگراموں کا انعقاد جاری رکھیں گی، تاکہ طبی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان نہ صرف بہترین ڈاکٹر بن کر نکلیں بلکہ ایک بااعتماد، بااخلاق اور ذمہ دار شہری کے طور پر بھی معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں۔ Post navigation آئی جی پی خیبر پختونخوا کی شہید ایس پی اکبر شنواری کے گھر آمد: اہلخانہ سے تعزیت، شہداء کے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال اور دہشت گردی کے خاتمے کا اعادہ سندھ میں صنفی تشدد کے خاتمے اور خواتین کی تحفظ کے لیے جامع اقدامات: سیدہ قرۃ العین شاہ کی صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی سے اہم ملاقات