Preloader
Steps for women empowerment in Sindh

اہم نکات

  • جامشورو کے سیف ہاؤس کی بریفنگ: انچارج سیدہ قرۃ العین شاہ نے صوبائی وزیر ترقی و حقوقِ نسواں محترمہ شاہینہ شیر علی کو جامشورو میں سیف ہاؤس اور ویمن کمپلینٹ سیل کی کارکردگی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی۔
  • متاثرہ خواتین کو فوری امداد: سیف ہاؤس کے ذریعے تشدد کی شکار خواتین کو قانونی معاونت، پناہ، طبی سہولیات اور نفسیاتی کونسلنگ کی فراہمی جاری۔
  • صوبائی وزیر کا اظہارِ اطمینان: صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ نے جامشورو ٹیم کے اقدامات کو سراہا اور عوامی سطح پر آگاہی بڑھانے پر زور دیا۔
  • صنفی تشدد کے خلاف 16 روزہ بین الاقوامی مہم: 25 نومبر سے 10 دسمبر تک تمام مذہبی اقلیتوں، سول سوسائٹی، میڈیا اور پولیس کی شراکت داری سے ضلع بھر میں بیداری مہم چلانے کی ہدایات۔

جامشورو (رپورٹ: محمد نصیر ساگر):

خواتین کے تحفظ، ان کے قانونی حقوق کی پاسداری اور صنفی تشدد کے خاتمے کے لیے صوبائی اور اضلاعی سطح پر ادارہ جاتی اقدامات کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں انچارج سیف ہاؤس و ویمن کمپلینٹ سیل ضلع جامشورو سیدہ قرۃ العین شاہ نے صوبائی وزیر برائے ترقی و حقوقِ نسواں (ویمن ڈویلپمنٹ) سندھ محترمہ شاہینہ شیر علی سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں ضلع میں خواتین کو درپیش مسائل، ان کے فوری ازالے اور تحفظ کے لیے قائم اداروں کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس ملاقات کے دوران سیدہ قرۃ العین شاہ نے صوبائی وزیر کو ویمن کمپلینٹ سیل اور سیف ہاؤس جامشورو کی حالیہ پیش رفت، زیرِ التوا کیسز کی صورتحال اور متاثرہ خواتین کو دی جانے والی سہولیات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

جامشورو میں سیف ہاؤس اور ویمن کمپلینٹ سیل کا فعال کردار

ضلع جامشورو میں قائم سیف ہاؤس اور ویمن کمپلینٹ سیل کا بنیادی مقصد گھریلو تشدد، زبردستی کی شادیوں، ہراسانی اور دیگر سماجی مظالم کا شکار ہونے والی خواتین کو فوری تحفظ اور قانونی چھتری فراہم کرنا ہے۔

ملاقات کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے سیدہ قرۃ العین شاہ نے بتایا کہ ویمن کمپلینٹ سیل میں حاصل ہونے والی شکایات کا نہ صرف بروقت نوٹس لیا جاتا ہے بلکہ کیسز کی اثر انگیز پیروی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ تھانوں اور عدالتی نظام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا جاتا ہے۔

ادارہ / شعبہفراہم کردہ اہم سہولیاتبنیادی مقصد و اثرات
سیف ہاؤس جامشوروفوری پناہ (سشیلٹر)، تحفظ، طبی سہولیاتتشدد کا شکار خواتین کو محفوظ ماحول اور فوری تحفظ دینا
ویمن کمپلینٹ سیلشکایات کا ازالہ، قانونی معاونت، کیس فالو اپمتاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی اور قانونی اداروں تک رسائی
سائیکو سوشل کونسلنگنفسیاتی علاج اور فکری رہنمائیذہنی صدمے (ٹروما) سے بحالی اور خود اعتمادی کی بحالی

انچارج سیف ہاؤس نے وضاحت کی کہ ادارے کا مقصد محض پناہ دینا نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور سماجی و ذہنی طور پر مضبوط بنانے کے لیے مکمل معاونت فراہم کرنا ہے۔

صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی کا اطمینان اور کارکردگی کی تحسین

سندھ کی صوبائی وزیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ محترمہ شاہینہ شیر علی نے ضلع جامشورو کی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد گہرے اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے سیدہ قرۃ العین شاہ اور ان کی پوری ٹیم کی محنت، لگن اور بے لوث خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مظلوم خواتین کی مدد کرنا محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اہم انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومتِ سندھ خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اضلاعی سطح پر سیف ہاؤسز اور کمپلینٹ سیلز کا متحرک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست مظلوم طبقے کی پشت پر کھڑی ہے۔

16 روزہ بین الاقوامی مہم برائے صنفی تشدد کے خاتمے کی ہدایات

ملاقات کا ایک انتہائی اہم پہلو ہر سال عالمی سطح پر منائی جانے والی “16 Days of Activism against Gender-Based Violence” (صنفی تشدد کے خاتمے کی 16 روزہ عالمی مہم) کے حوالے سے اضلاعی حکمتِ عملی کی منظوری تھا۔

صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے ہدایت جاری کی کہ 25 نومبر سے 10 دسمبر تک جاری رہنے والی اس بین الاقوامی مہم کے دوران ضلع جامشورو میں وسیع پیمانے پر بیداری اور آگاہی مہم چلائی جائے۔

مہم کے اہم احداف اور شمولیت کا دائرہ کار:

  1. بین المذاہب ہم آہنگی اور شمولیت: مہم میں تمام مکاتبِ فکر، بشمول مسلم، ہندو اور مسیحی برادری کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا تاکہ تمام مذاہب کے ماننے والے مل کر خواتین کے حقوق کی حمایت کر سکیں۔
  2. کثیر الشراکت داری (Multi-Stakeholder Approach): سول سوسائٹی، وکلاء، تعلیمی اداروں، پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کو اس مہم کا بنیادی حصہ بنایا جائے گا تاکہ پیغام معاشرے کے ہر طبقات تک پہنچے۔
  3. آگاہی سیشنز اور ورکشاپس: ضلعی اور گوٹھ کی سطح پر تربیتی سیمینارز، آگاہی واک اور کمیونٹی سیشنز منعقد کیے جائیں گے جن کا مقصد خواتین کو ان کے آئینی و قانونی حقوق سے آگاہ کرنا ہے۔
  4. فوری ریلیف میکانزم: اس مہم کا ایک مقصد ایسا طریقہ کار وضع کرنا بھی ہے جس سے متاثرہ خواتین بلا خوف و خطر اپنی شکایات درج کرا سکیں اور انہیں فوری ریلیف ملے۔

“صنفی تشدد کا خاتمہ صرف قوانین بنانے سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی اور بین المذاہب و سماجی اتحاد ضروری ہے۔ 16 روزہ مہم کے ذریعے ہم جامشورو کے ہر شہری تک یہ پیغام پہنچائیں گے کہ تشدد کے خلاف خاموشی گناہ ہے۔”محترمہ شاہینہ شیر علی (صوبائی وزیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ، سندھ)

سندھ میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کا پس منظر

پاکستان بالخصوص سندھ میں خواتین کو سماجی، معاشی اور گھریلو سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ اکثر اوقات دیہی اور دور دراز علاقوں میں آگاہی کی کمی، قانونی پیچیدگیوں اور سماجی دباؤ کے باعث خواتین اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھا پاتیں۔

حکومتِ سندھ نے گزشتہ کچھ برسوں میں خواتین کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین اور ادارے تشکیل دیے ہیں، جن میں:

  • ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ (گھریلو تشدد سے تحفظ کا قانون)
  • کام کی جگہ پر ہراسانی کے خلاف قوانین
  • محکمہ ترقیِ نسواں کے تحت ہیلپ لائن اور شیلٹر ہاؤسز کا قیام

جامشورو جیسے تعلیمی اور صنعتی ضلع میں جہاں دیہی اور شہری دونوں طرح کی آبادی موجود ہے، سیف ہاؤس اور ویمن کمپلینٹ سیل کا مؤثر فعال ہونا اس بات کی ضمانت ہے کہ انصاف کی فراہمی نچلی سطح تک ممکن ہو رہی ہے۔

آئندہ کا لائحہ عمل اور توقعات

ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جامشورو میں ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی تمام سکیموں اور تحفظاتی اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

سیدہ قرۃ العین شاہ نے صوبائی وزیر کو یقین دہانی کرائی کہ 25 نومبر سے شروع ہونے والی 16 روزہ مہم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے تمام مقامی انتظامیہ، پولیس اور سول سوسائٹی کو متحرک کیا جائے گا، تاکہ جامشورو کو خواتین کے لیے ایک محفوظ اور تشدد سے پاک ضلع بنایا جا سکے۔