اہم نکات (خلاصہ) دفتری اوقات کی خلاف ورزی: جیکب آباد کے سول اسپتال میں ڈاکٹروں کی صبح 8 بجے کے بجائے 10 بجے ڈیوٹی پر آمد نے سرکاری ضابطوں پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ عوامی مشکلات: دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب مریض صبح سویرے قطاروں میں کھڑے رہنے کے باوجود بروقت علاج سے محروم ہیں۔ انتظامیہ کی ذمہ داری: شہریوں اور سماجی حلقوں نے محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر حاضری کے نظام کو سخت بنایا جائے۔ مقدمہ: صحت کی بنیادی سہولیات اور سرکاری اسپتالوں کی ابتر صورتحال پاکستان کے پسماندہ اور بالخصوص اندرون سندھ کے اضلاع میں صحت کا شعبہ ہمیشہ سے ہی سنگین چیلنجز کی زد میں رہا ہے۔ طبی سہولیات کی فراہمی کسی بھی فلاحی ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن جب یہ ذمہ داری غفلت اور لاپرواہی کی نذر ہو جائے تو عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو جاتی ہے۔ جیکب آباد کا سول اسپتال ضلع کا سب سے بڑا سرکاری طبی ادارہ ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں غریب مریض اپنے علاج کی امید لے کر دور دراز کے دیہات اور قصبات سے آتے ہیں۔ تاہم، اس اسپتال میں طویل عرصے سے انتظامی بے ضابطگیاں اور طبی عملے کا غیر ذمہ دارانہ رویہ معمول بن چکا ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، اسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی جانب سے ڈیوٹی اوقات کی سنگین خلاف ورزی کی جا رہی ہے، جس نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سرکاری احکامات اور زمینی حقائق کا تقابل سرکاری نوٹیفکیشن اور قوانین کے مطابق سول اسپتال میں ڈیوٹی کا نظام انتہائی واضح اور دوٹوک ہے۔ قواعد کے نفاذ کے تحت: مقررہ وقت: صبح کی ڈیوٹی کا باضابطہ آغاز صبح 8 بجے ہوتا ہے۔ او پی ڈی کا آغاز: ڈاکٹروں کو صبح 8 بجے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں موجود ہو کر مریضوں کا معائنہ شروع کرنا چاہیے۔ حاضری کی آخری حد: ضابطے کے تحت صبح 8:30 بجے تک تمام متعلقہ عملے کی حاضری ہر صورت یقینی بنانا لازم قرار دی گئی ہے۔ اس کے برعکس، زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ متعدد ڈاکٹر اور طبی عملہ مقررہ وقت یعنی صبح 8 یا ساڑھے 8 بجے کے بجائے دن کے 10 بجے اسپتال پہنچتا ہے۔ دو گھنٹے کی یہ طویل تاخیر نہ صرف سرکاری اوقاتِ کار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ یہ اپنے فرائض سے دانستہ غفلت کے زمرے میں بھی آتی ہے۔ قانون کی اس کھلی پامالی کی وجہ سے پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ مریضوں کی مشکلات اور اذیت ناک صورتحال صبح سویرے دور دراز کے دیہات سے آنے والے مریض، جن میں بزرگ، خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں، سورج طلوع ہوتے ہی اسپتال کے باہر قطاروں میں لگ جاتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ گرمی اور بیماری کی تکلیف کے باوجود وقت پر ڈاکٹر کو دکھا کر ادویات حاصل کر سکیں اور دن ڈھلنے سے پہلے اپنے گھر واپس پہنچ سکیں۔ لیکن ان کی یہ تمام امیدیں اس وقت دم توڑ جاتی ہیں جب وہ گھنٹوں انتظار کے باوجود او پی ڈی کے باہر ڈاکٹروں کے منتظر رہتے ہیں۔ ڈاکٹروں کی غیر حاضری کے باعث: اسپتال کے تمام کوریڈورز اور ویٹنگ رومز مریضوں کے ہجوم سے بھر جاتے ہیں۔ مریضوں میں بے چینی اور غصہ پھیل جاتا ہے، جس سے اکثر معمولی باتوں پر تلخ کلامی کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ ایمرجنسی کے علاوہ عام امراض کے مریضوں کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامی غفلت اور نگرانی کے نظام کی کمزوری کسی بھی ادارے کی کامیابی اس کے موثر انتظامی ڈھانچے اور کڑی مانیٹرنگ پر منحصر ہوتی ہے۔ جیکب آباد سول اسپتال میں تاخیر سے آنے کا رجحان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کا اپنے ماتحت عملے پر کوئی موثر کنٹرول نہیں رہا۔ اگر باقاعدگی سے حاضری کے رجسٹرز چیک کیے جائیں، بائیو میٹرک نظام کو فعال بنایا جائے اور تاخیر سے آنے والے عملے کے خلاف فوری تضبطی کارروائی عمل میں لائی جائے تو اس رجحان پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، احتساب کا فقدان اور مبینہ طور پر اندرونی چشم پوشی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ غفلت کے مرتکب افراد بلا خوف و خطر اپنے فرائض سے روگردانی کرتے رہتے ہیں۔ معاشی اور سماجی اثرات سرکاری اسپتالوں میں اس قسم کی بدنظمی کا سب سے بڑا خمیازہ غریب طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جب سرکاری اسپتالوں میں بروقت ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے تو مجبوراً مریضوں کو پرائیویٹ کلینکس کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ پرائیویٹ ڈاکٹروں کی بھاری فیسیں اور مہنگے نسخے غریب خاندانوں کی مالی کمر توڑ دیتے ہیں۔ جو خاندان بمشکل دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر سکتے ہیں، وہ مہنگا علاج کرانے سے قاصر ہوتے ہیں، اور یوں تاخیر سے آنے والے ڈاکٹر بالواسطہ طور پر غریب مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کا سبب بنتے ہیں۔ شہریوں کا ردعمل اور مطالبات جیکب آباد کے باشعور شہریوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سماجی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ انسانی جانوں سے وابستہ اس حساس محکمے میں لاپرواہی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ عوامی سطح پر درج ذیل مطالبات زور و شور سے کیے جا رہے ہیں: سختی سے عمل درآمد: ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام فوری نوٹس لے کر سرکاری نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کرائیں۔ بائیو میٹرک حاضری: اسپتال میں تمام ڈاکٹروں اور عملے کے لیے بائیو میٹرک حاضری کو لازمی اور ناقابلِ تردید بنایا جائے۔ موثر معائنہ ٹیمیں: محکمہ صحت کی طرف سے اچانک دورے کرنے والی مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو صبح کے اوقات میں اسپتال کا دورہ کر کے غیر حاضر عملے کی نشاندہی کریں۔ تضبطی کارروائی: فرائض سے غفلت برتنے اور تاخیر سے پہنچنے والے ڈاکٹروں کے خلاف ضابطے کے تحت سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ نتیجہ جیکب آباد سول اسپتال کا یہ مسئلہ محض ایک عمارت یا چند افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت جیسی بنیادی سہولت کو پٹری پر لانے کے لیے انتظامی عزم، قانون کی بالادستی اور ضابطہ اخلاق کی پابندی ناگزیر ہے۔ اگر وقت پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی حلقوں میں پایا جانے والا یہ غصہ مزید بڑھ سکتا ہے، جو نہ صرف محکمہ صحت کے لیے بلکہ متعلقہ حکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔ حکومت اور ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی انکوائری کریں اور ڈاکٹروں کے اوقاتِ کار کو یقینی بنا کر غریب عوام کا حق بحال کریں۔ Post navigation ضلع ہری پور، خانپور اور غازی میں تجاوزات کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن: سرکاری اراضی اور عوامی راستے واگزار