Preloader
Encroachment should done on specific sops

اہم نکات (خلاصہ)

  • مشترکہ اجلاس کا انعقاد: پشاور میں غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے اور شہری نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کی زیرِ صدارت پشاور چیمبر، سرحد چیمبر اور تاجر تنظیموں کا ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد ہوا۔
  • تاجر برادری کا موقوف: تنظیم تاجران خیبرپختونخوا کے صدر ملک مہر الٰہی اور دیگر تاجر رہنماؤں نے واضح کیا کہ تاجر برادری تجاوزات کے خاتمے کے خلاف نہیں ہے، تاہم آپریشن سے قبل تاجروں کی مشاورت سے ضوابط (ایس او پیز) طے کیے جائیں۔
  • بنیادی مسائل اور متبادل روزگار: تاجروں نے اندرونِ شہر میں ٹریفک کے ازدحام، غیر قانونی رکشہ و سوزوکی اسٹینڈز اور ریڑھی بانوں کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چھوٹے کاروباریوں اور متاثرہ افراد کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔
  • بازاروں کی خصوصیات کا احترام: تاجر برادری نے زور دیا کہ انتظامیہ ہر بازار کی جغرافیائی نوعیت، گاہکوں کی آمد و رفت اور کاروباری ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمتِ عملی ترتیب دے۔

مقدمہ: پشاور میں شہری نظم و ضبط اور تاجروں کے تحفظات

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں شہری خوبصورتی کو برقرار رکھنے، ٹریفک کے بہاؤ کو رواں دواں بنانے اور عمومی شاہراہوں کو کشادہ کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور تاجر برادری کے درمیان پیش رفت کا آغاز ہوا ہے۔ پشاور کا شمار ایشیا کے قدیم ترین اور مصروف ترین تجارتی مراکز میں ہوتا ہے، جہاں روزانہ صوبے بھر سے لاکھوں افراد خرید و فروخت کے لیے آتے ہیں۔ اس گہما گہمی کے باعث اندرونِ شہر اور تجارتی بازاروں میں تجاوزات ایک دیرینہ چیلنج بن چکی ہیں۔

اسی صورتحال کے تناظر میں ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر کی زیرِ صدارت ضلعی انتظامیہ، پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز، سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور مختلف بازاروں کے تاجر نمائندوں کا ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس کا بنیادی مقصد باہمی رضامندی اور مشاورت سے تجاوزات سے پاک پشاور کے خواب کو شرمندۂ تعبیر بنانا ہے۔

پس منظر: پشاور کے تجارتی مراکز اور تجاوزات کی پیچیدگیاں

پشاور کے تاریخی بازار جیسے قصہ خوانی، نمک منڈی، خیبر بازار، چوک یادگار اور باڑا بازار اپنی تاریخی اور تجارتی حیثیت کی وجہ سے بے پناہ معاشی اہمیت کے حامل ہیں۔ تاہم گزشتہ چند دہائیوں کے دوران شہر کی آبادی میں اضافے اور روزگار کی تلاش میں آنے والے افراد کی وجہ سے سڑکوں، پیادہ راستوں اور دکانوں کے سامنے غیر قانونی قبضے ایک عام معمول بن چکے ہیں۔

ان تجاوزات کی وجہ سے پیدا ہونے والے بنیادی مسائل درج ذیل ہیں:

  1. ٹریفک کا شدید دباؤ: سڑکوں کی چوڑائی کم ہونے کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہنا معمول بن چکا ہے، جس سے ایمبولینسوں اور ہنگامی گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔
  2. گاہکوں کی مشکلات: پیادہ راستوں (فٹ پاتھوں) پر ریڑھیوں اور عارضی دکانوں کے قائم ہونے سے پیدل چلنے والے گاہکوں بالخصوص خواتین اور بزرگوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
  3. کاروبار پر منفی اثرات: باقاعدہ ٹیکس اور کرایہ ادا کرنے والے دکانداروں کے سامان کی نمائش اور گاہکوں کا ان کی دکانوں تک پہنچنا دشوار ہو جاتا ہے۔

ان حالات میں انتظامیہ کی جانب سے بلا تاخیر آپریشنز اکثر تاجروں اور انتظامیہ کے درمیان کشیدگی کا سبب بنتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے اس بار باہمی مشاورت کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔

مشترکہ اجلاس: شرکت کنندگان اور تاجروں کا مؤقف

ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقدہ اس اجلاس میں انتظامی افسران کے ساتھ ساتھ تاجر برادری کے صفِ اول کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تنظیم تاجران خیبرپختونخوا کے صدر ملک مہر الٰہی، سینئر نائب صدر حاجی وحید، ترجمان شہزاد احمد صدیقی، پشاور چیمبر کے سینئر نائب صدر حاجی امجد خان اور شہر کے مختلف بازاروں کی یونینز کے صدور موجود تھے۔

اجلاس کے دوران تاجر رہنماؤں نے کھلے دل کے ساتھ اپنے تحفظات اور تجاویز انتظامیہ کے سامنے رکھیں۔ صدر تنظیم تاجران خیبرپختونخوا ملک مہر الٰہی نے تاجروں کے اجتماعی مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ:

“تاجر برادری شہر کو خوبصورت اور تجاوزات سے پاک دیکھنے کی خواہش مند ہے اور ہم انتظامیہ کی کسی بھی مثبت کاوش کی مخالفت نہیں کرتے۔ تاہم، کسی بھی قسم کا یکطرفہ آپریشن تاجروں کی معاشی حالت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس لیے تمام فیصلے تاجر قائدین کی مشاورت سے باضابطہ ضوابط (ایس او پیز) طے کر کے کیے جائیں۔”

تاجر برادری کے اہم مطالبات اور تجاویز

اجلاس میں تاجر رہنماؤں نے اندرونِ شہر اور بیرونی بازاروں کی حدود میں تجاوزات کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے درج ذیل بنیادی نکات اور مطالبات پیش کیے:

1. غیر قانونی اسٹینڈز اور ریڑھی بانوں کا تدارک

تاجر برادری کے مطابق تجاوزات کا اصل سبب صرف دکانداروں کا سامان نہیں ہے، بلکہ سڑکوں کے وسط اور چوراہوں پر قائم غیر قانونی سوزوکی اسٹینڈز، رکشہ اسٹینڈز اور رینڈم ریڑھیاں ہیں۔ جب تک ان پر مستقل بنیادوں پر پابندی نہیں لگائی جاتی، تجاوزات کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔

2. متبادل روزگار کی فراہمی

تاجر رہنماؤں نے انسانی اور اخلاقی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ روزگار کمانے والے چھوٹے محنت کشوں اور ریڑھی بانوں کو دم گوڑنے یا یکلخت بے روزگار کرنے کے بجائے انہیں شہر کے مناسب علاقوں میں “وینڈنگ زونز” (تجارت کے مخصوص مقامات) بنا کر متبادل جگہیں اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔

3. بازاروں کی نوعیت کے مطابق پالیسی

تاجروں نے اس بات پر زور دیا کہ پشاور کے ہر بازار کا ڈھانچہ اور گاہکوں کی نوعیت مختلف ہے۔ صرافہ بازار، کپڑا مارکیٹ، اور سبزی منڈی کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہو سکتیں۔ اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ہر بازار کے صدور کے ساتھ مل کر وہاں کے حالات کے مطابق الگ ضوابط تیار کرے۔

اعداد و شمار: پشاور میں تجارتی سرگرمیاں اور شہری چیلنجز

پشاور کی تجارتی حدود اور انتظامی اقدامات کے تناظر میں درج ذیل پہلو انتہائی اہم ہیں:

  • اہم تجارتی مراکز: اندرونِ پشاور میں 50 سے زائد چھوٹے اور بڑے رواں بازار موجود ہیں جہاں روزانہ معاشی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔
  • روزمرہ کا تاثر: اوسطاً ہزاروں غیر قانونی عارضی ریڑھیاں اور تجاوزات سڑکوں کا تقریباً 30 سے 40 فیصد حصہ گھیر لیتی ہیں۔
  • مشترکہ کمیٹیوں کی ضرورت: اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ انتظامیہ اور تاجروں کی مشترکہ نظارتی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو باقاعدگی سے بازاروں کا دورہ کریں۔

انتظامیہ کا ردِعمل اور آئندہ کی حکمتِ عملی

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے تاجر رہنماؤں کے تحفظات کو غور سے سنا اور ان کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کا مقصد تاجروں کا معاشی استحصال کرنا یا ان کے کاروبار کو نقصان پہنچانا ہرگز نہیں ہے، بلکہ مقصد صرف اور صرف قانون کی عملداری اور عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے تاجروں کو یقین دہانی کرائی گئی کہ:

  1. مشاورتی عمل کا تسلسل: تجاوزات کے خلاف کسی بھی بڑے آپریشن سے قبل بازاروں کے نمائندوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
  2. سنجیدہ ضوابط کا قیام: تاجروں کی تجاویز کی روشنی میں ایک جامع اور قابلِ عمل لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
  3. بلا امتیاز یکسانیت: تمام علاقوں میں ضوابط پر یکساں طور پر عمل درآمد کروایا جائے گا تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔

ایڈیٹوریل تبصرہ اور اختتامیہ

کسی بھی قائم شدہ اور گنجان شہر میں تجاوزات کا مسلہ صرف طاقت کے استعمال سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ جب بھی انتظامیہ نے بغیر متبادل منصوبہ بندی اور مشاورت کے آپریشنز کیے، وہ اقدامات عارضی ثابت ہوئے اور انتظامیہ کے جاتے ہی تجاوزات دوبارہ قائم ہو گئیں۔

ڈپٹی کمشنر پشاور اور تاجر قائدین کے درمیان ہونے والا یہ مشترکہ اجلاس ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ اگر انتظامیہ تاجروں کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرتے ہوئے رکشہ اسٹینڈز کی نظم و ضبط، ریڑھی بانوں کے لیے متبادل وینڈنگ زونز اور واضح ایس او پیز کی تشکیل کو یقینی بناتی ہے، تو یہ نہ صرف پشاور کے تاجروں کے تحفظات دور کرے گا بلکہ شہر کو ایک پائیدار، خوبصورت اور تجاوزات سے پاک لک بھی فراہم کرے گا۔