Preloader
Good governance drive in lakki marwat

اہم نکات (خلاصہ)

  • انتظامی تحرک: ڈپٹی کمشنر لکی مروت شاہد رفیق گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر سرائے نورنگ محبوب الرحمٰن نے علاقے میں گڈ گورننس کے قیام اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے تفصیلی دورہ کیا۔
  • تعمیراتی معیار کی جانچ: گنڈی چوک میں زیرِ تعمیر یادگار (مونومنٹ) کے معائنے کے دوران تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کے عملے کو دو روز کے اندر معیار کے مطابق کام مکمل کرنے کی سخت ہدایت جاری کی گئی۔
  • تجاوزات کے خلاف سخت مؤقف: منجی والا چوک کے معائنے کے دوران تاجروں اور دکانداروں کو سڑکوں پر موجود غیر قانونی تجاوزات دو دن میں رضاکارانہ طور پر ہٹانے کا الٹی میٹم دیا گیا، بصورتِ دیگر بلا امتیاز قانونی کارروائی کا انتباہ دیا گیا۔
  • عوامی ردِعمل اور مقاصد: اس اقدام کا بنیادی مقصد شہری نظام میں بہتری، ٹریفک کے بہاؤ کی روانی اور عوام الناس کو درپیش یومیہ مشکلات کا مستقل تدارک کرنا ہے۔

مقدمہ: ضلعی انتظامیہ کی گڈ گورننس حکمتِ عملی

خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، شہری خوبصورتی اور انتظامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے عملی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ صوبائی حکومت کی گڈ گورننس پالیسی کے تحت ڈپٹی کمشنر لکی مروت شاہد رفیق گنڈاپور کی خصوصی ہدایات پر تحصیل سرائے نورنگ میں عوامی اہمیت کے منصوبوں کی نگرانی اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر سرائے نورنگ محبوب الرحمٰن نے تحصیل کے مختلف اہم چوکوں اور تجارتی مراکز کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے حکومتی فنڈز سے جاری تعمیراتی کاموں کے معیار کا جائزہ لیا اور سڑکوں پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے لیے تاجر برادری کو واضح اور حتمی ہدایات جاری کیں۔

پس منظر: سرائے نورنگ اور لکی مروت میں شہری چیلنجز

ضلع لکی مروت کا تحصیل سرائے نورنگ ایک اہم تجارتی اور نقل و حمل کا مرکز ہے جو جنوبی اضلاع کو پشاور اور دیگر علاقوں سے جوڑتا ہے۔ گنڈی چوک اور منجی والا چوک علاقے کے اہم ترین شاہراہوں کے ملن کے نقاط ہیں جہاں روزانہ ہزاروں گاڑیاں اور شہری گزرتے ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصے سے ان اہم چوکوں پر دو بنیادی مسائل شدت اختیار کر چکے تھے:

  1. شہری زیبائش اور تعمیراتی تاخیر: عمومی چوکوں پر یادگاروں کی تعمیری سستی کے باعث نہ صرف منظر بدنما دکھائی دیتا تھا بلکہ عوامی فنڈز کی بروقت شفافیت پر بھی سوالات اٹھتے تھے۔
  2. تجاوزات کا اضافہ: تاجروں اور ریڑھی بانوں کی جانب سے سڑکوں اور پیادہ راستوں پر غیر قانونی قبضے کی وجہ سے پیدل چلنے والوں اور گاڑیوں کے لیے راستہ انتہائی تنگ ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں حادثات اور ٹریفک کے سنگین مسائل جنم لے رہے تھے۔

ان حالات میں ضلعی انتظامیہ کا میدان میں اترنا اور براہِ راست معائنہ کرنا مقامی آبادی کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

گنڈی چوک میں یادگار کا معائنہ: تعمیری معیار اور وقت کی پابندی

دورے کے پہلے مرحلے میں اسسٹنٹ کمشنر محبوب الرحمٰن نے گنڈی چوک کا دورہ کیا، جہاں حکومت کی جانب سے چوک کی خوبصورتی کے لیے ایک یادگار (مونومنٹ) زیرِ تعمیر ہے۔ معائنے کے دوران انہوں نے استعمال ہونے والے تعمیراتی مواد کی پائیداری، نقشے کی مطابقت اور کام کی رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

موقع پر موجود تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن (ٹی ایم اے) کے افسران اور عملے کو ہدایت دیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ:

  • دو روز کی حتمی مہلت: زیرِ تعمیر یادگار کا باقی ماندہ کام اگلے دو دنوں کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔
  • معیار پر عدم سمجھوتہ: تعمیراتی کام میں اعلیٰ معیار کے مواد کا استعمال یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر معیاری کام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
  • شفافیت کی پاسداری: عمومی فنڈز کا صحیح اور بروقت استعمال ہی انتظامیہ کی ترجیح ہے تاکہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ درست سمت میں خرچ ہو۔

منجی والا چوک: غیر قانونی تجاوزات کے خلاف سخت الٹی میٹم

دورے کے دوسرے مرحلے میں اسسٹنٹ کمشنر نے عملے کے ساتھ منجی والا چوک کا رخ کیا جو کہ مقامی سطح پر تجارتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز ہے۔ یہاں انہوں نے دیکھا کہ متعدد دکانداروں نے اپنے سامان اور عارضی شیڈز سڑک کی حدود میں پھیلا رکھے ہیں جس سے پیدل چلنے والوں کی گزرگاہیں مسدود ہو چکی ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر نے تمام دکانداروں، تاجروں اور پتھارے داروں سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کا موقف واضح کیا:

انتظامی ہدایات کی تفصیلات:

  • رضاکارانہ خاتمہ: تمام دکانداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ آئندہ دو روز کے اندر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کی گئی تمام غیر قانونی تجاوزات خود سے ختم کر لیں۔
  • قانونی کارروائی کا انتباہ: مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد انتظامیہ بھاری مشینری کے ساتھ خود تجاوزات ہٹائے گی، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور ان کا سامان ضبط کر لیا جائے گا۔
  • مساوی تطبیق: تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز آپریشن کیا جائے گا اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

انتظامی عمل کے متوقع نتائج اور اثرات

انتظامیہ کے اس تحرک اور سخت احکامات سے علاقے پر دور رس مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

1. ٹریفک کی روانی اور حادثات میں کمی

منجی والا چوک اور گنڈی چوک سے تجاوزات کے خاتمے کے بعد سڑکیں کشادہ ہو جائیں گی جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاروں سے نجات ملے گی اور روزمرہ کے حادثات کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

2. تجارتی مراکز میں خوبصورتی

گنٹی چوک پر یادگار کی تکمیل سے علاقے کا تعارفی چہرہ دلکش بنے گا اور شہر میں زیبائش و آرائش کا نیا معیار قائم ہوگا۔

3. تاجر برادری میں قانون کی پاسداری

رضاکارانہ طور پر تجاوزات ختم کرنے کے موقع سے تاجروں اور انتظامیہ کے درمیان تصادم کا راستہ بچے گا اور قانون کی بالادستی کا احساس بیدار ہوگا۔

عوامی ردِعمل اور پریس نوٹس

مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ قطب الدین بیٹنی کی رپورٹ کے مطابق، عام شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر تجاوزات کی وجہ سے خاص طور پر سکول جانے والے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے دو دن کی مہلت اور عملی معائنے سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت واقعی گڈ گورننس کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔

مقامی تاجروں نے بھی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے مقررہ وقت کے اندر اپنے طور پر تجاوزات ہٹانے میں تعاون کریں گے تاکہ شہر کا ماحول خوشگوار بنایا جا سکے۔

ایڈیٹوریل تبصرہ اور اختتامیہ

گڈ گورننس کا اصل امتحان صرف احکامات جاری کرنا نہیں بلکہ ان احکامات کی زمینی سطح پر عملداری اور تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ لکی مروت میں ڈپٹی کمشنر شاہد رفیق گنڈاپور اور اسسٹنٹ کمشنر محبوب الرحمٰن کی جانب سے اٹھائے گئے یہ اقدامات قابلِ تحسین ہیں، تاہم یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ دو روز کی مہلت ختم ہونے کے بعد ان فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔

اگر ضلعی انتظامیہ اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن مل کر ان اقدامات کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو لکی مروت اور سرائے نورنگ دیگر اضلاع کے لیے بھی ایک ماڈل تحصیل کی شکل اختیار کر سکتے ہیں جہاں قانون کی حاکمیت، شہری خوبصورتی اور عوامی سہولت کو اولین ترجیح حاصل ہے۔