پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ، امریکہ: امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں واقع مشہور براؤن یونیورسٹی میں جمعہ کی شام “فعال شوٹر” (Active Shooter) کی صورتحال کی اطلاع ملی، جس کے بعد کیمپس میں فوری طور پر خوف و ہراس پھیل گیا اور یونیورسٹی انتظامیہ نے مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، مقامی وقت کے مطابق شام گئے یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء اور عملے کو ہنگامی الرٹ جاری کیا، جس میں انہیں فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ جانے کی ہدایت کی گئی اور کیمپس کو سیل کر دیا گیا۔ یہ الرٹ پولیس اور یونیورسٹی کی سیکیورٹی فورسز کی ابتدائی رپورٹس کی بنیاد پر جاری کیا گیا۔واقعے کی تفصیلات اور لاک ڈاؤنالرٹ کا اجراء: یونیورسٹی نے ابتدائی طور پر ایک ای میل اور ٹیکسٹ الرٹ جاری کیا جس میں براؤن یونیورسٹی کے پروویڈنس کیمپس میں فعال فائرنگ کی موجودگی کی اطلاع دی گئی، اور تمام افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ “رن، ہائیڈ، فائٹ” (Run, Hide, Fight) پروٹوکول پر عمل کریں۔پولیس کی فوری کارروائی: پروویڈنس پولیس ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی کی سیکیورٹی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور کیمپس کے مختلف حصوں کو گھیرے میں لے لیا۔ تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے۔تلاشی کا عمل: سیکیورٹی فورسز نے کیمپس کی عمارتوں، بشمول ڈارمیٹریز اور اکیڈمک بلاکس، میں حملہ آور کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔صورتحال کا حتمی اعلانکئی گھنٹے کی سخت تلاشی اور چھان بین کے بعد، حکام نے رات گئے یہ اعلان کیا کہ صورتحال “محفوظ” ہے۔ ابتدائی طور پر فعال فائرنگ کی اطلاع دینے والے ذرائع کی تصدیق نہیں ہو سکی، اور بظاہر کسی بھی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی تصدیق شدہ رپورٹ سامنے نہیں آئی۔پولیس حکام نے میڈیا کو بتایا کہ بظاہر یہ ایک “غلط الارم” یا “مبینہ خطرہ” ہو سکتا ہے، لیکن چونکہ ایک فعال فائرنگ کے خطرے کی فوری اطلاع موصول ہوئی تھی، اس لیے سخت حفاظتی اقدامات ناگزیر تھے۔امریکی کیمپس میں تناؤیہ واقعہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی تناؤ اور بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات کے خوف کو اجاگر کرتا ہے۔ براؤن یونیورسٹی جو کہ ملک کے انتہائی معزز تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے، میں اس طرح کی اطلاع نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ نے طلباء اور عملے کی فوری ردعمل اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کو سراہا، اور زور دیا کہ کیمپس کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔ تمام طلباء اور عملے کو معمول کے مطابق کلاسز اور سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے سے قبل مزید اپ ڈیٹس کے لیے الرٹس کو چیک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationکوہاٹ کے نشپا بلاک میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر دریافت: ملکی توانائی کے ذخائر میں نمایاں اضافہ آسڑیلیا میں فائرنگ کا واقع متعدد افراد ہلاک