Preloader
Government cut taxes for local vehciles
  • سیلز ٹیکس میں رعایت: وفاقی وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق مقامی طور پر تیار شدہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (HEVs) پر سیلز ٹیکس میں 7 فیصد کی بڑی کمی کر دی گئی ہے۔
  • قیمتوں پر اثرات: اس ٹیکس ریلیف کے بعد ملک میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں بالواسطہ اور نمایاں کمی کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔
  • ماحولیاتی و معاشی فائدے: اس اقدام کا مقصد ایندھن کی بچت، ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا اور ملکی سطح پر آٹو انڈسٹری میں مقامی پیداوار کو تقویت دینا ہے۔
  • صارفین اور صنعت کا ردِعمل: گاڑیوں کے خریداروں اور آٹوموبائل انڈسٹری کی جانب سے اس فیصلے کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    حکومتی فیصلہ اور نوٹیفکیشن کی تفصیلات
    وفاقی حکومت نے ملکی آٹو موبائل انڈسٹری اور بالخصوص ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مقامی طور پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں (Hybrid Electric Vehicles) پر سیلز ٹیکس کی شرح میں 7 فیصد کی رعایت دینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ رسمی نوٹیفکیشن کے مطابق، سیلز ٹیکس کی شرح میں اس رعایت کا اطلاق صرف انہی گاڑیوں پر ہوگا جو پاکستان کے اندر مقامی سطح پر اسمبل یا تیار کی جا رہی ہیں۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ملکی صنعتی پیداوار کی سرپرستی کرنا اور عام صارفین کو ایندھن کی بچت کرنے والی جدید گاڑیوں کی طرف راغب کرنا ہے۔
    صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی شرح میں 7 فیصد کی یہ کمی گاڑی کی کل مالیت پر ایک بڑا ریلیف فراہم کرتی ہے، جس سے مارکیٹ میں گاڑیوں کی حتمی قیمتوں میں لاکھوں روپے کا فرق پڑ سکتا ہے۔
    اعداد و شمار اور ٹیکس ساخت کا جائزہ
    پاکستان میں آٹو موبائل سیکٹر کی ٹیکس ساخت اور ہائبرڈ گاڑیوں پر دیے گئے نئے ریلیف کا اعداد و شمار کے مطابق جائزہ درج ذیل ہے:
  • ٹیکس میں کمی: ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں 7 فیصدی پوائنٹس کا فوری ریلیف دیا گیا ہے۔
  • بچت کا تخمینہ: گاڑی کی انجن کیپیسٹی اور مالیت کے حساب سے خریداروں کو فی گاڑی لاکھوں روپے کی بچت ہو سکے گی۔
  • مقامی اسمبلنگ پر تمرکز: یہ سہولت مکمل سی بی یو (CBU) یعنی باہر سے برآمد شدہ گاڑیوں پر نافذ نہیں ہوگی، بلکہ صرف مقامی طور پر اسمبل شدہ (CKD) ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مخصوص ہے۔
  • این ایل پی اور پالیسی رابطہ: یہ قدم پاکستان کی نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی (EV Policy) کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے جس کا ہدف ایندھن کی برآمدی لاگت میں کمی لانا ہے۔
    پس منظر: پاکستان میں ہائبرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ
    پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں گزشتہ چند سالوں کے دوران روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام صارف ایسی گاڑیوں کی تلاش میں ہے جو ایندھن کی کم سے کم کھپت میں زیادہ سے زیادہ مسافت طے کر سکیں۔
    تاہم، ہائبرڈ گاڑیوں میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی، بیٹری پیک اور خصوصی ڈرائیو ٹرینز کے باعث ان کی ابتدائی قیمت روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ اسی فرق کو ختم کرنے اور عام خریدار کی پہنچ کو ممکن بنانے کے لیے حکومت سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ مقامی سطح پر ہائبرڈ گاڑیاں اسمبل کرنے والے کارخانوں کو ٹیکس مراعات دی جائیں تاکہ ملکی سطح پر ان کی قیمتیں عام سطح پر آسکیں۔
    قومی معیشت اور ماحول پر اثرات
    وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ محض گاڑیوں کی قیمتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ملکی معیشت اور ماحولیات پر بھی مثبت انداز میں مرتب ہوں گے:
    1۔ زرمبادلہ کی بچت:
    پاکستان کا ایک بڑا تجارتی خسارہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات سے متعلق ہے۔ اگر ملک میں ہائبرڈ گاڑیوں کا استعمال بڑھتا ہے تو اس سے ایندھن کی مجموعی کھپت میں واضح کمی آئے گی، جس کا براہ راست فائدہ قومی زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑے گا۔
    2۔ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ میں کمی:
    پاکستان بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا کے شہری علاقوں میں ہر سال شدید سموگ اور فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ روایتی انجن والی گاڑیاں کاربن کے اخراج کی بڑی وجہ ہیں۔ ہائبرڈ گاڑیاں کم کاربن خارج کرتی ہیں، جس سے شہری فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
    3۔ مقامی صنعت اور روزگار کی فراہمی:
    ٹیکس میں رعایت صرف مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں تک محدود رکھ کر حکومت نے غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں اسمبلنگ پلانٹس قائم کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس سے ملکی سطح پر نہ صرف سرمایہ کاری آئے گی بلکہ تکنیکی مہارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
    صنعتی حلقوں اور گاڑیوں کے خریداروں کا ردِعمل
    آٹوموبائل کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور مقامی مینوفیکچررز نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان میں پہلے سے ہائبرڈ گاڑیاں اسمبل کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس ریلیف سے ان کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی، جس کا براہِ راست فائدہ وہ حتمی صارف کو منتقل کریں گے۔
    دوسری جانب، نئی گاڑی خریدنے کی خواہش مند عوام نے بھی اس اقدام کو سراہا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ خود کار ساز کمپنیاں ٹیکس ریلیف کا پورا فائدہ صارفین تک منتقل کریں اور اضافی منافع خوری کے ذریعے قیمتوں کو مصنوعی طور پر برقرار نہ رکھا جائے۔
    مستقبل کا منظرنامہ
    وزارتِ خزانہ کے اس نوٹیفکیشن کے بعد اب تمام نظریں ملکی آٹو مینوفیکچررز پر ٹکی ہیں کہ وہ اپنے مختلف ہائبرڈ ماڈلز کی نئی قیمتوں کا باقاعدہ اعلان کب کرتے ہیں۔ متوقع طور پر آئندہ چند دنوں میں مختلف کار ساز کمپنیاں اپنی گاڑیوں کے ریٹ لسٹ میں ترمیم کریں گی جس سے خریداروں کو حقیقی ریلیف دیکھنے کو ملے گا۔
    ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے پالیسیوں کا یہ تسلسل برقرار رکھا تو پاکستان انے والے دنوں میں ماحول دوست اور جدید آٹو موبائل ٹیکنالوجی کے خطے کے اہم مراکزمیں سے ایک بن کر ابھر سکتا ہے۔

About The Author