اہم نکات: پولیس بجٹ میں تاریخی اضافہ: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا پولیس بجٹ 80 ارب سے بڑھا کر 190 ارب روپے کرنے اور گزشتہ سال 35 ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کرنے کا اعلان۔ عسکری آلات اور اے پی سیز کا تاخیر سے ملنا: ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) اور این آر ٹی سی (NRTC) کو ادائیگیاں کرنے کے باوجود اے پی سیز، جیمرز اور اینٹی ڈرون آلات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار۔ پولیس کی خود مختاری پر زور: وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھا ہے، پولیس افسران کسی کے بھی غیر قانونی اور سیاسی احکامات ماننے سے انکار کریں۔ پُرامن احتجاج کا آئینی حق: آئین پاکستان میں دیے گئے ‘رائٹ ٹو اسمبلی’ کے تحت پُرامن احتجاج کے حق کا دفاع، پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت اور پولیس ایکٹ میں ترامیم کی منظوری۔ پشاور: امن و امان کے اعلیٰ سطحی اجلاس کا احوال پشاور (رپورٹ: انورزیب خان): خیبرپختونخوا میں امن و امان کی نازک صورتحال، پولیس کی فلاح و بہبود اور عسکری تیاریوں کے حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس سے اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی بحالی، پولیس کی قربانیوں، درپیش چیلنجز اور وفاقی اداروں کے رویے پر کھل کر بات کی اور صوبائی پالیسی کا خاکہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام اور پولیس گزشتہ 22 سال سے دہشت گردی کے خلاف اگلی صفوں میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہی نہ صرف صوبہ بلکہ اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصے بھی محفوظ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن کے بغیر خطے میں ترقی اور خوشحالی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پولیس بجٹ میں تاریخی اضافہ اور مالیاتی اقدامات وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پولیس فورس کو جدید تقاضوں کے مطابق لیس کرنے اور شہداء کے لواحقین کی فلاح و بہبود کے لیے اٹھائے گئے مالیاتی اقدامات کے شفاف اعداد و شمار پیش کیے: سالانہ بجٹ میں اضافہ: صوبائی پولیس کے سالانہ بجٹ کو 80 ارب روپے سے بڑھا کر تاریخی 190 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اضافی فنڈز کی فراہمی: گزشتہ سال سالانہ بجٹ کے علاوہ پولیس فورس کو 35 ارب روپے کے اضافی فنڈز جاری کیے گئے۔ شہداء پیکیج اور جدید آلات: پولیس کے شہداء کے لیے پیکیج میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے اور جدید اسلحہ و ٹیکنالوجی کی خرید کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس دہشت گردی کے خلاف محاذ پر فرنٹ فٹ پر لڑ رہی ہے، اس لیے ان کی مالی اور اخلاقی ضروریات کو پورا کرنا صوبائی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ HIT اور NRTC سے معطل شدہ عسکری آلات کا معاملہ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے دفاعی آلات کی فراہمی میں ہونے والی تاخیر پر وفاقی و عسکری اداروں سے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (NRTC) کو تمام مطلوبہ ادائیگیاں مکمل کر دی ہیں، لیکن اس کے باوجود ضروری سامان فراہم نہیں کیا جا رہا۔ وزیراعلیٰ کے اہم مطالبات اور تحفظات: اے پی سیز (APCs) کی عدم فراہمی: گزشتہ سال سے مکمل ادائیگی کے باوجود خیبرپختونخوا پولیس کو بکتر بند گاڑیاں (APCs) فراہم نہیں کی گئیں، جبکہ اسلام آباد پولیس کو جدید اے پی سیز تیار کرکے دے دی گئی ہیں۔ جیمرز اور اینٹی ڈرون سسٹمز: NRTC کو ادائیگیاں کیے جانے کے باوجود جیمرز اور اینٹی ڈرون آلات کی فراہمی التوا کا شکار ہے۔ ترجیحات کا تعین: وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام تر توجہ دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے اپوزیشن کو دبانے اور عمران خان کو جھکانے پر لگی ہوئی ہے، جو کہ ملک و قوم کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔ پولیس کی غیر سیاسی حیثیت اور ‘غلط احکامات نہ ماننے’ کا حکم وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں پولیس فورس کی پیشہ ورانہ خودمختاری اور غیر سیاسی کردار پر خاص زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حکومت سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے کبھی بھی کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کے لیے استعمال نہیں کیا، نہ ہی کسی کے خلاف غلط ایف آئی آر درج کرنے یا تبادلے و تعیناتی میں مداخلت کی ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ: “جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو کوئی غلط یا غیر قانونی حکم نہیں دیتا، تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا کوئی حق نہیں۔ کسی پولیس افسر کا یہ فرض نہیں کہ وہ کسی کا بھی غلط حکم مانے۔ اگر کسی اور کی طرف سے غیر قانونی احکامات آئیں تو پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔” انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کا بنیادی کام دہشت گردی سے نمٹنا اور عوام کا تحفظ ہے، نہ کہ سیاسی جماعتوں کے خلاف کارروائیاں کرنا۔ اگر پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا تو عوام کے تحفظ کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ آئینی حقوق، پُرامن احتجاج اور پولیس ایکٹ میں ترامیم اجلاس میں آئینی حقوق اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت یا ان کی جماعت کسی مسلح جدوجہد یا یلغار کی حامی نہیں ہے بلکہ آئین کے دائرے میں رہ کر پُرامن احتجاج ان کا بنیادی حق ہے۔ رائٹ ٹو اسمبلی (Right to Assembly): انہوں نے کہا کہ جب تک آئینِ پاکستان میں شہریوں کو اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے، پُرامن سیاسی عمل کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اگر احتجاج روکنا ہے تو پہلے آئین سے اس شق کو ختم کیا جائے۔ پولیس ایکٹ میں ترامیم: صوبائی کابینہ سے منظور شدہ ‘پولیس ایکٹ’ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وفاقی ادارہ خیبرپختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا تو صوبائی حکومت قانون سازی اور اسمبلی ترامیم کے ذریعے اس کا تدارک کرے گی۔ تاریخی پس منظر اور موجودہ سیکیورٹی چیلنجز خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا تجزیہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2018 سے 2022 کے دوران عمران خان کی حکومت کے دور میں پالیسیوں کے تسلسل کے باعث خطے میں امن قائم ہوا تھا۔ تاہم، 2022 کے رجیم چینج اور اس کے بعد کی پالیسیوں کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال دوبارہ بگڑ گئی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور عوام نے ‘امن پاسون’ اور دیگر فورمز پر ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ عسکریت پسندوں کو دوبارہ آباد کرنے کے فیصلے غلط تھے۔ آج انہی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارے سیکیورٹی اہلکار، پولیس افسران اور عام شہری روزانہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ نتیجہ اور مستقبل کا لائحہ عمل اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام تر چیلنجز، آلات کی کمی اور سیاسی دباؤ کے باوجود صوبائی حکومت اپنی پولیس فورس کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے ایچ آئی ٹی (HIT) اور این آر ٹی سی (NRTC) کو فوری طور پر تمام جیمرز، اے پی سیز اور ڈرون آلات فراہم کرنے کی اپیل کی تاکہ پولیس فورس دہشت گردوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکے اور خیبرپختونخوا کے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ Post navigation ایم ٹی آئی بنوں کی اعلیٰ قیادت کی صوبائی وزیر صحت سے اہم ملاقات: ایم آر آئی، ٹراما سنٹر اور کڈنی سنٹر کے قیام سمیت اہم ترقیاتی منصوبوں پر اتفاق نجی میڈیکل سینٹر میں مبینہ طبی غفلت سے خاتون جاں بحق، ورثاء کا شدید احتجاج اور لیڈی ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ