اہم نکات: افسوسناک واقعہ: جیکب آباد کے ایک نجی میڈیکل سینٹر میں مس کیرج کے بعد معمول کے معائنے کے لیے آئی خاتون مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے سے دم توڑ گئی۔ مقتولہ کی شناخت: جاں بحق خاتون کی شناخت سونیہ زوجہ آصف سدھایو کے نام سے ہوئی۔ ورثاء کا احتجاج: لواحقین نے نجی کلینک کے باہر احتجاج کرتے ہوئے لیڈی ڈاکٹر پر غفلت کا الزام عائد کیا اور عدم گرفتاری پر پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ پولیس کا موقف: ڈی ایس پی خدا بخش پنہور کے مطابق لاش پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جیکب آباد میں نجی میڈیکل سینٹر کے باہر سنسنی خیز صورتحال جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ): سندھ کے ضلع جیکب آباد میں نجی شعبۂ طب میں نااہلی اور مبینہ طبی غفلت کے نتیجے میں ایک اور قیمتی انسانی جان چلی گئی۔ نجی میڈیکل سینٹر میں زیرِ علاج شادی شدہ خاتون کے اچانک انتقال کے بعد اشتعال پھیل گیا اور ورثاء نے میڈیکل سینٹر کے باہر شدید احتجاج کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ پر مظاہرہ کیا۔ جاں بحق ہونے والی خاتون کے لواحقین کا الزام ہے کہ متعلقہ لیڈی ڈاکٹر کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ اندازِ علاج کی وجہ سے مریضہ کی جان گئی۔ واقعہ سامنے آتے ہی علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور بڑی تعداد میں مقامی افراد موقع پر جمع ہو گئے۔ واقعے کی تفصیلی معلومات اور ورثاء کے الزامات پولیس اور خاندانی ذرائع کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت سونیہ زوجہ آصف سدھایو کے نام سے ہوئی ہے۔ مقتولہ کے ورثاء نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کے پس منظر کے بارے میں بتایا کہ خاتون کا کچھ روز قبل مس کیرج (اسقاطِ حمل) ہوا تھا، جس کے بعد طبی معائنے اور معمول کی دیکھ بھال کے لیے انہیں مقامی نجی میڈیکل سینٹر لایا گیا تھا۔ خاتون کے خاوند اور دیگر لواحقین کے مطابق: معمول کا معائنہ: خاتون کی حالت پہلے سے تسلی بخش تھی اور وہ اپنے قدموں پر چل کر کلینک آئی تھیں۔ مبینہ غلط انجکشن: میڈیکل سینٹر میں موجود لیڈی ڈاکٹر (ڈاکٹر زیب) نے مریضہ کو ایک انجکشن لگایا۔ حالت کی خرابی: انجکشن لگتے ہی خاتون کی طبعیت اچانک بگڑ گئی، جسم میں شدید بے چینی پیدا ہوئی اور چند ہی منٹوں میں وہ دم توڑ گئیں۔ ورثاء نے الزام عائد کیا کہ لیڈی ڈاکٹر نے بغیر کسی پیشگی الرجی ٹیسٹ یا حواس باختگی میں غلط دوا تجویز کی، جس کے نتیجے میں خاتون کی فوری موت واقع ہو گئی۔ واقعہ کے فوراً بعد کلینک کا عملہ اور متعلقہ لیڈی ڈاکٹر موقع سے کھسکنے میں کامیاب ہو گئے، جس پر لواحقین نے میڈیکل سینٹر کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس کا ردِعمل اور قانونی پیش رفت واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس کی بھاری نفل موقع پر پہنچ گئی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس موقع پر ڈی ایس پی خدا بخش پنہور نے مظاہرین اور ورثاء سے مذاکرات کیے اور قانون کے مطابق مکمل انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ پولیس انتظامیہ کا باضابطہ موقف: پوسٹ مارٹم کے لیے منتقلی: جاں بحق خاتون سونیہ سدھایو کی لاش کو پولیس کی تحویل میں لے کر سول اسپتال جیکب آباد منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ تحقیقات کا آغاز: ڈی ایس پی خدا بخش پنہور کے مطابق واقعے کی تمام زاوئیوں سے باریک بینی کے ساتھ تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار: پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی حتمی کیمیائی و میڈیکل رپورٹ انویسٹی گیشن کا بنیادی حصہ ہوگی، جس کے آنے کے بعد قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔ دوسری جانب ورثاء نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پولیس پر الزامات لگائے ہیں کہ پولیس واقعہ کے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود نامزد لیڈی ڈاکٹر کو گرفتار کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے حکومتِ سندھ، محکمہ صحت اور اعلٰی پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت کے ذمہ داروں کو فوراً گرفتار کر کے کلینک کو سیل کیا جائے۔ پس منظر: چھوٹے شہروں میں نجی کلینکس اور طبی غفلت کے بڑھتے ہوئے واقعات جیکب آباد سمیت سندھ کے متعدد اندرونی اضلاع میں نجی میڈیکل سینٹرز، عطائی ڈاکٹروں اور غیر رجسٹرڈ کلینکس کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی اندرونِ سندھ کے مختلف شہروں سے مبینہ غلط انجکشن یا غلط علاج کے باعث شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کی اموات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ بنیادی اسباب اور چیلنجز: محکمہ صحت کی عدم توجہی: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن (SHCC) کی جانب سے اندرونِ سندھ نجی میڈیکل سینٹرز اور لیبارٹریوں کی باقاعدہ چیکنگ کا موثر نظام موجود نہیں ہے۔ تربیت یافتہ عملے کی کمی: بیشتر نجی کلینکس پر کوالیفائیڈ میڈیکل اسٹاف کے بجائے غیر تربیت یافتہ پیرامیڈیکل اسٹاف یا نرسنگ اسسٹنٹس ادویات اور انجکشن دینے کا کام کرتے ہیں۔ عوامی شعور کا فقدان: سرکاری اسپتالوں میں بنیادی سہولیات اور عملے کی غیر حاضری کے باعث غریب شہری مجبوراً نجی کلینکس کا رخ کرتے ہیں جہاں ان کی زندگی اور صحت سے کھیلا جاتا ہے۔ معاشرتی اثرات اور اصلاحات کی اشد ضرورت طبی غفلت سے ہونے والی اموات نہ صرف متاثرہ خاندانوں پر قیامت ڈھاتی ہیں بلکہ عام شہریوں میں بھی صحت کے نظام اور طبی معالجین کے خلاف شدید بے اعتمادی اور خوف کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ جب معالج ہی مریض کی جان کے لیے خطرہ بن جائیں تو معاشرے میں قانون کو ہاتھ میں لینے کے رجحانات کو ہوا ملتی ہے۔ ضروری اقدامات جو اٹھائے جانے چاہئیں: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کا تحرک: سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کو اس واقعے کا فوری ازخود نوٹس لے کر غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری نجی میڈیکل سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کرنا چاہیے۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری: واقعے کی تحقیقات کے لیے سینئر میڈیکل افسران اور ماہرین پر مشتمل غیر جانبدار میڈیکل بورڈ تشیکیل دیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ ڈاکٹروں کا لائسنس کیپنگ: طبی غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ملوث معالجین کا میڈیکل لائسنس منسوخ کیا جائے اور تعزیراتِ پاکستان کے تحت سخت سزائیں دی جائیں۔ جیکب آباد کی عوام اب منتظر ہے کہ کیا حکومت اور پولیس انتظامیہ مظلوم خاندان کو انصاف فراہم کر پاتی ہے یا یہ کیس بھی اندرونِ سندھ کے دیگر مقدمات کی طرح فائلوں کی دھول میں دب کر رہ جائے گا۔ Post navigation خیبرپختونخوا میں امن و امان کا اہم اجلاس: وزیراعلیٰ کا پولیس بجٹ میں تاریخی اضافے کا اعلان، وفاقی اداروں سے عسکری آلات کی جلد فراہمی کا مطالبہ