اہم نکات (خلاصہ) بین الاقوامی شراکت داری: آئی جی جیل خانہ جات خیبر پختونخوا ریحان گل خٹک کی زیرِ صدارت اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے وفد کے ساتھ اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ پروگرام کا دوسرا مرحلہ (Phase-II): یورپی یونین کی مالی و فنی معاونت سے جاری جیل اصلاحاتی پروگرام کے فیز ٹو کے جلد از جلد عملی آغاز اور ترجیحات کا تعین کیا گیا۔ جدید ٹیکنالوجی اور PMIS: قیدیوں اور جیل انتظامیہ کے ڈیٹا کی شفافیت کے لیے پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (PMIS) کو مزید جامع اور جدید بنانے کا فیصلہ۔ اصلاح و انسانی حقوق: قیدیوں کی منشیات سے چھٹکارے، فنی تعلیم، عملے کی تربیت اور جیلوں کے نظام کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معائیر سے ہم آہنگ بنانے پر زور۔ پشاور (خصوصی رپورٹ): خیبر پختونخوا میں جیل اصلاحات، قیدیوں کی اصلاح و بحالی اور جیلوں کی انتظامی بہتری کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات خیبر پختونخوا جناب ریحان گل خٹک کی زیرِ صدارت آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر پشاور میں اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (UNODC) کے ایک اعلا سطحی وفد کے ساتھ اہم اور فیصلہ کن اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اہم اجلاس یورپی یونین (EU) کے تعاون و مالی معاونت سے جاری اصلاحاتی پروگرام کے دوسرے مرحلے (Phase-II) کو بلا تاخیر شروع کرنے، آئندہ کی ترجیحات کا تعین کرنے اور جامع حکمتِ عملی کی تشکیل کے حوالے سے طلب کیا گیا تھا۔ اجلاس کے شرکاء اور بین الاقوامی وفد اجلاس میں محکمہ جیل خانہ جات خیبر پختونخوا کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ساتھ UNODC کے ذمہ داران نے شرکت کی، تاکہ اصلاحاتی منصوبے کے تمام تکنیکی، مالی اور انتظامی پہلوؤں پر تفصیلی اور جامع مشاورت کی جا سکے۔ محکمہ جیل خانہ جات کے شرکاء: جناب ریحان گل خٹک — انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات خیبر پختونخوا (صدرِ اجلاس) محترمہ نیلم سلطانہ خٹک — ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز جناب امین شعیب — ڈی آئی جی جوڈیشل اینڈ سیکیورٹی جناب حشمت اللہ — ڈی آئی جی فائنانس اینڈ پلاننگ جناب بیت اللہ خان — ڈی آئی جی پشاور ریجن جناب عمیر خان — سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل پشاور اقوامِ متحدہ (UNODC) کا وفد: جناب ارسلان ملک — پروگرام کوآرڈینیٹر جناب سید وقاص شاہ ترمذی — ایسوسی ایٹ پروگرام آفیسر اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے اہم امور اور فیصلے اجلاس کے دوران صوبے کی جیلوں کی صورتحال، قیدیوں کے حقوق اور انتظامی سدھار پر نقطہ وار گفتگو کی گئی، جس میں درج ذیل بنیادی امور کو آئندہ کی لائحہ عمل کا حصہ بنانے پر اتفاق ہوا: 1. یورپی یونین فیز II کا فوری آغاز یورپی یونین کے تعاوُن سے خیبر پختونخوا میں قانون کی بالادستی اور عدالتی نظام میں بہتری کے پروگرام جاری ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فیز ون کی کامیابیوں کے بعد اب فیز ٹو کا فوری اور باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ اس مرحلے کے تحت ترجیحات کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ وسائل اور بین الاقوامی تکنیکی امداد کو صحیح جگہ استعمال کیا جا سکے۔ 2. پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (PMIS) کی وسعت جدید دور کی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے قیدیوں کی آمد و رفت، ان کی سزا کی مدت، طبی ہسٹری، اور قانونی معلومات کو ڈیجیٹل کرنے کا نظام پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (PMIS) قائم کیا گیا ہے۔ اجلاس میں اس ڈیجیٹل سسٹم کو مزید مربوط، جامع اور جدید بنانے پر غور کیا گیا تاکہ کاغذات کی دفتری کارروائی سے ہٹ کر تمام ڈیٹا ایک کلک پر شفاف انداز میں دستیاب ہو۔ 3. قیدیوں کی فنی تربیت اور منشیات سے بحالی جیل کو صرف سزا کا گھر بنانے کے بجائے “اصلاح گاہ” بنانے کے عمل پر خاص توجہ دی گئی۔ اجلاس میں طے پایا کہ: قیدیوں کو پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم دی جائے گی تاکہ وہ رہا ہونے کے بعد معاشرے کے مفید اور خود کفیل شہری بن سکیں۔ منشیات کے عادی قیدیوں کی علاج معالجے اور نفسیاتی بحالی (Rehabilitation) کے لیے خاص مراکز اور پروگرامز تشکیل دیے جائیں گے۔ 4. جیل عملے کی صلاحیتوں میں اضافہ (Capacity Building) صرف اصلاحاتی اقدامات کا اعلان کافی نہیں، بلکہ ان پر عمل درآمد کرنے والے جیل عملے کی پیشہ ورانہ تربیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں جیل افسران اور اہلکاروں کے لیے جدید سیکیورٹی تدابیر، انسانی حقوق کی پاسداری اور پریزن مینجمنٹ پر مبنی تربیتی سیشنز اور کورسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ 5. نظامِ انصاف کے اداروں کے درمیان مربوط رابطہ کاری جیلوں میں قیدیوں کے رش کو کم کرنے اور بلا تاخیر انصاف کی فراہمی کے لیے عدلیہ، پولیس، اور دیگر قانونی اداروں کے ساتھ محکمہ جیل خانہ جات کی باہمی رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ آئی جی جیل خانہ جات کا موقف اور وژن اجلاس کے دوران آئی جی جیل خانہ جات خیبر پختونخوا جناب ریحان گل خٹک نے UNODC اور یورپی یونین کی جانب سے خیبر پختونخوا میں جیل اصلاحات کے لیے دی جانے والی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “محکمہ جیل خانہ جات کا بنیادی مقصد صوبے کے جیل کے نظام کو جدید، شفاف، مؤثر اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے مکمل ہم آہنگ بنانا ہے۔ ہم قیدیوں کو سزاؤں کی حد تک محدوُد نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ ان کی اخلاقی اور فنی اصلاح ہمارا مقصد ہے۔ اس سفر میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔” اجلاس کا اختتام اس مشترکہ عزم پر ہوا کہ یورپی یونین فیز ٹو کے تحت تمام تر تیاریاں جلد مکمل کی جائیں گی اور جاری منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ پس منظر اور صحافتی جائزہ: خیبر پختونخوا میں جیل اصلاحات کی ضرورت پاکستان میں خصوصاً خیبر پختونخوا کے جیلوں کا نظام طویل عرصے سے مختلف چیلنجز کا شکار رہا ہے۔ صوبے بھر کی مختلف جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کی موجودگی، وسائل کی کمی اور منشیات کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد جیسے مسائل درپیش رہے ہیں۔ ماضی میں جیلوں کو محض قید خانے تصور کیا جاتا تھا، لیکن حالیہ سالوں میں بین الاقوامی امدادی اداروں جیسے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (UNODC) اور یورپی یونین کی بدولت خیبر پختونخوا میں جیل اصلاحات کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ اصلاحات کا متوقع اثر (Impact Analysis) انسانی حقوق کی پاسداری: UNODC کے ساتھ اشتراک سے پاکستان میں بین الاقوامی قوانین (Nelson Mandela Rules) کے مطابق قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے گا۔ جرم کے اعادے میں کمی: فنی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے سے جیل سے رہائی کے بعد قیدی دوبارہ جرائم کی دنیا میں قدم رکھنے کے بجائے روزگار کمانے کے قابل ہوں گے، جس سے معاشرے میں شرحِ جرم میں واضح کمی آئے گی۔ ڈیجیٹل شفافیت: پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (PMIS) کی مکمل بحالی سے جعلی ضمانتوں، قیدیوں کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری اور غیر قانونی تاخیر جیسے سقم ختم ہو جائیں گے۔ محکمہ جیل خانہ جات اور اقوامِ متحدہ کا یہ باہمی اقدام نہ صرف صوبے میں انصاف کی فراہمی کو بہتر بنائے گا بلکہ خیبر پختونخوا کے پریزن سسٹم کو دیگر صوبوں کے لیے ایک ماڈل کے طور پر سامنے لائے گا۔ Post navigation وفاقی وزیر اطلاعات کا دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا اہم دورہ: امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے عزم کا اعادہ آئی جی پی خیبر پختونخوا کی شہید ایس پی اکبر شنواری کے گھر آمد: اہلخانہ سے تعزیت، شہداء کے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال اور دہشت گردی کے خاتمے کا اعادہ