ضلعی انتظامیہ کی کارروائی: پشاور انتظامیہ نے دلہ زاک روڈ پر چھاپہ مار کر جانوروں کی باقیات اور مضرِ صحت کیمیکلز سے قیمہ تیار کرنے والے 4 افراد کو گرفتار کر لیا۔ڈپٹی کمشنر کے احکامات: ڈی سی پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان نے شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رکھنے کا حکم دیا۔مالِ مسروقہ ضبط: کارروائی کے دوران سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری گوشت، قیمہ اور آلات قبضے میں لے کر تلف کر دیے گئے۔عوامی اپیل: ضلعی انتظامیہ نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر معیاری خوراک کی فروخت کی نشاندہی کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں۔پشاور (خصوصی رپورٹ) — صوبائی دارالحکومت پشاور میں شہریوں کو مضرِ صحت اور زہریلی خوراک کی فراہمی میں ملوث عناصر کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے اپنے گھیراؤ کو مزید تنگ کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کی خصوص ہدایت پر کارروائی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے شہر کے گنجان آباد علاقے دلہ زاک روڈ پر ایک بڑی اور کامیاب چھاپہ مار کارروائی انجام دی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں جانوروں کی آلائشوں، باقیات اور کیمیکلز کا استعمال کر کے قیمہ تیار کرنے والے خطرناک گروہ کے 4 ملزمان کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ بھاری مقدار میں غیر معیاری گوشت اور قیمہ قبضے میں لے لیا گیا۔انتظامیہ کے مطابق یہ گروہ عرصے سے شہریوں کو دھوکہ دے کر بیماریوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہا تھا۔ اس کارروائی کے بعد شہر بھر کے قصابوں اور گوشت مارکیٹوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے اور انتظامیہ نے تمام بازاروں کی کڑی نگرانی کا آغاز کر دیا ہے۔دلہ زاک روڈ پر کارروائی اور ملزمان کی گرفتاریتفصیلات کے مطابق، ضلعی انتظامیہ کو خفیہ ذرائع سے اطلاع موصول ہوئی تھی کہ دلہ زاک روڈ پر ایک خفیہ ٹھکانے پر نجس، غیر معیاری اور بیمار جانوروں کی باقیات پر کیمیکل لگا کر ان سے قیمہ تیار کیا جا رہا ہے جسے شہر کے مختلف ہوٹلوں، فاسٹ فوڈ سینٹرز اور کھلے بازاروں میں سستے داموں فراہم کیا جاتا تھا۔اطلاع ملتے ہی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر (فقیر آباد) نے پولیس اور فوڈ سیفٹی ٹیم کے ہمراہ موقع پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران گودام میں انتہائی تعفن پھیلا ہوا تھا اور انسانی صحت کے لیے شدید نجس اور معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والا مواد موجود تھا۔ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے موقع سے 4 افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا جو کیمیکل ملا قیمہ تیار کرنے میں مصروف تھے۔گرفتار افراد کے خلاف قانونی پرچہ درج کر کے ان کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ برآمد شدہ تمام مضرِ صحت گوشت کو موقع پر ہی ضابطے کے مطابق تلف کر دیا گیا تاکہ وہ مارکیٹ میں نہ پہنچ سکے۔ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کے اہم اعداد و شمارپشاور میں اشیائے خورونوش کی معیار کی بہتری کے لیے جاری مہم کے تحت کی جانے والی اس کارروائی سے متعلق اہم تفصیلات درجہ ذیل ہیں:گرفتار ملزمان: 04 افراد (مضرِ صحت قیمہ کی تیاری اور فراہمی میں ملوث)کارروائی کا علاقہ: دلہ زاک روڈ، فقیر آباد سب ڈویژن، پشاوربند کیے گئے کاروباری مرکز: 01 خفیہ پروسیسنگ یونٹ فوراً سیل کر دیا گیابرآمد شدہ مواد: سینکڑوں کلو گرام زہریلا گوشت، آلائشیں، قیمہ بنانے والی مشینیں اور کیمیکلزقانونی اقدام: فوڈ سیفٹی ایکٹ اور تعزیراتِ پاکستان کی متعدد دفعات کے تحت مقدمات درجڈپٹی کمشنر پشاور کا سخت موقف اور نئی ہدایاتاس اہم کارروائی کے فوراً بعد ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان نے ضلعی انتظامیہ کے تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہنگامی احکامات جاری کر دیے ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی ہے کہ پشاور کے تمام علاقوں بالخصوص صدر، اندرونِ شہر، یونیورسٹی روڈ، اور جی ٹی روڈ سے ملحقہ تمام چھوٹے بڑے گوشت کے بازاروں کی روزانہ کی بنیاد پر پڑتال کی جائے۔ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان کا کہنا تھا:“شہریوں کی صحت اور زندگی کے ساتھ کھیلنے والے عناصر کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے یہ منافع خور معاشرے کا ناسور ہیں۔ ہم پشاور کو مضرِ صحت اشیاء سے پاک کرنے کے لیے کسی بھی بااثر شخص یا گروہ کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں یقینی بنائیں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کا بنیادی مقصد عوام تک معیاری اور صاف ستھری اشیائے خورونوش کی رسائی ہے، اور اس مقصد کے لیے رات دن کریک ڈاؤن بلاامتیاز جاری رہے گا۔خبر کا پس منظر: کیمیکل ملے گوشت اور ملاوٹ کے اثراتپشاور جیسے بڑے شہروں میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران مضرِ صحت، باسی اور غیر قانونی طور پر ذبح کیے گئے جانوروں کے گوشت کا فروخت ہونا ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اکثر منافع خور عناصر زیادہ منافع کمانے کے چکر میں جانوروں کی فضول باقیات اور نجس حصوں کو لال رنگ اور کیمیکلز لگا کر قیمے کی شکل دے دیتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق، کیمیکل اور آلائشوں سے تیار کردہ قیمہ اور گوشت کا استعمال انسانی جسم پر انتہائ تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہرینِ امراضِ معدہ و جگر کے مطابق:معدے اور انتڑیوں کی بیماریاں: زہریلا اور کیمیکل ملا گوشت کھانے سے انسان فوری طور پر فوڈ پوائزننگ، شدید پیچش اور معدے کے السر کا شکار ہو سکتا ہے۔گردوں کا ناکارہ ہونا: گوشت کو تازہ دکھانے کے لیے استعمال کیے جانے والے صنعتی کیمیکلز سے انسان کے گردے معطل (Kidney Failure) ہو سکتے ہیں۔سرطان (کینسر) کے خطرات: لمبے عرصے تک کیمیکل سے آلودہ اشیائے خورونوش استعمال کرنے سے پیٹ اور آنتوں کے کینسر کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔انہی خطرناک طبی اثرات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے اب ایسی کارروائیوں کا دائرہ کار صرف رسمی جرمانوں تک محدود رکھنے کے بجائے ملزمان کی گرفتاریوں اور جیل بھیجنے تک بڑھا دیا ہے۔شہریوں سے اپیل اور عوامی آگاہیضلعی انتظامیہ پشاور نے اس کارروائی کے بعد عام شہریوں سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش پر نظر رکھیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پشاور اتنا بڑا شہر ہے کہ محض سرکاری اہلکاروں کی بدولت ہر گلی اور محلے میں نظر رکھنا ممکن نہیں ہوتا، لہٰذا عوام اس جنگ میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔ڈپٹی کمشنر پشاور نے شہریوں سے درخواست کی کہ اگر وہ کسی بھی علاقے میں نامعلوم گوداموں میں گوشت کی پروسیسنگ، کیمیکلز کا استعمال، غیر قانونی ذبح خانے یا غیر معیاری قیمے اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء کی فروخت دیکھیں تو فوراً ضلعی انتظامیہ کے ہیلپ لائن، کنٹرول روم یا سوشل میڈیا سیل پر اطلاع دیں۔ انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اطلاع دینے والے شہری کا نام مکمل طور پر راز میں رکھا جائے گا اور ملزمان کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationپنجاب کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے ساتھ کچن گارڈننگ لازمی قرار: ہر اسکول میں سبزیوں کی کاشت اور دیکھ بھال کے لیے فوکل پرسن مقرر کرنے کا حکم ‘کاشیز برائیڈل فیسٹیو 2026’ کی شاندار تقریب: ‘داستانِ عشق’ کے تھیم پر عروسی فیشن اور روایات کا دلفریب امتزاج