اہم نکات (خلاصہ) بڑھتے ہوئے مہلک حادثات: ایم 9 موٹروے (کراچی-حیدرآباد) پر تیز رفتاری، لاپرواہی اور نامعلوم گاڑیوں کی ٹکر سے قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور معذوری روز کا معمول بن چکی ہے۔ تازو ترین واقعہ: الذوالفقار ہوٹل کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ایک ناچھاننا (نامعلوم) شخص ہلاک ہو گیا، جس کی لاش کو لمس ہسپتال جامشورو منتقل کیا گیا۔ تحقیقاتی اور انتظامی خلا: ہٹ اینڈ رن (Hit and Run) کے واقعات میں ملوث گاڑیوں کا سراغ نہ ملنا اور ہلاک شدگان کی شناخت نہ ہونا انتظامی حکمتِ عملی کی خامیاں ظاہر کرتا ہے۔ عوامی مطالبات: موٹروے پولیس، ضلع انتظامیہ اور نیشنلہائی وے اتھارٹی (NHA) سے رفتار کی حد پر سخت عمل درآمد، روڈ سیفٹی اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فوری مطالبہ۔ جامشورو (خاص رپورٹ: محمد نصیر ساگر) ایم 9 موٹروے (کراچی تا حیدرآباد) جو صوبہ سندھ کی سب سے اہم اور مصروف ترین تجارتی و مسافر شاہراہ ہے، اس وقت مسافروں اور مقامی رہائشیوں کے لیے ایک خوفناک شاہراہ کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ آئے روز رونما ہونے والے المناک ٹریفک حادثات میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ درجنوں افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان حادثات کی ایک بڑی اور تشویشناک وجہ نامعلوم گاڑیوں کی جانب سے پیدا ہونے والے ہٹ اینڈ رن کے واقعات اور تیز رفتاری ہے، جس پر قابو پانے میں موٹروے پولیس اور مقامی ضلعی انتظامیہ اب تک کوئی جامع و مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ الذوالفقار ہوٹل کے قریب تازہ ترین حادثہ اور موجودہ صورتحال حال ہی میں ایم 9 موٹروے پر الذوالفقار ہوٹل کے قریب ایک بار پھر افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک نامعلوم تیز رفتار گاڑی نے سڑک عبور کرنے والے یا شاہراہ کے قریب موجود شخص کو شدید ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں شخص موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیموں نے لاش کو تحویل میں لے کر لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) ہسپتال جامشورو منتقل کر دیا۔ ہلاک ہونے والے شخص کے پاس سے کوئی شناختی دستاویز نہ ملنے کے باعث اس کی شناخت ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ واقعہ اس سلسلے کی محض ایک کڑی ہے؛ آئے روز متعدد نامعلوم افراد اسی طرح تیز رفتار اور نامعلوم گاڑیوں کی زیڈ میں آ کر اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں اور ان کے لواحقین تا عمر ان کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ حادثات کے بنیادی اسباب: تکنیکی و انتظامی تجزیہ ایم 9 موٹروے پر حادثات کی شرح میں مسلسل اضافے کے پس منظر میں متعدد ایسے عوامل شامل ہیں جن پر اگر وقت رہتے توجہ دی جاتی تو ان المناک واقعات سے بچا جا سکتا تھا: تیز رفتاری اور اوور ٹیکنگ: موٹروے پر مقررہ رفتار کی حدود (Speed Limits) کی خلاف ورزی عام ہے۔ خاص طور پر بھاری ٹریفک اور تیز رفتار نجی گاڑیاں قوانین کو پسِ پشت ڈال کر اوور ٹیکنگ کرتی ہیں۔ غیر قانونی راستے اور پیدل آمدورفت: موٹروے کے اطراف میں مناسب باڑ (Fencing) کی عدم موجودگی یا اس کا ٹوٹا ہوا ہونا مقامی آبادی کو سڑک عبور کرنے پر مجبور کرتا ہے، جو تیز رفتار گاڑیوں کے سامنے اچانک آنے سے حادثے کا سبب بنتے ہیں۔ نائٹ ویژن و کیمروں کی کمی: شاہراہ کے متعدد حصوں پر رات کے وقت روشنی کا مناسب انتظام نہیں ہے اور نہ ہی ہر سائیڈ پر جدید سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب ہیں، جس کی وجہ سے حادثہ کر کے فرار ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ڈرائیوروں کی تھکن اور لاپرواہی: لمبی مسافت طے کرنے والے ڈرائیوروں کی نیند کی کمی اور لاپرواہی کے باعث گاڑیاں بے قابو ہو جاتی ہیں۔ حادثات کا معاشرتی اور معاشی اثر ٹریفک حادثات صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے پورے خاندان کی تباہی چھپی ہوتی ہے۔ جب کوئی گھرانہ اپنے واحد کفیل سے محروم ہو جاتا ہے یا خاندان کا کوئی فرد معذور ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات نسلوں تک رہتے ہیں۔ معذوری کا شکار ہونے والے افراد کے لیے طبی سہولیات کی فراہمی، بحالی کے مراکزی کا فقدان اور معاشی ناہمواری مزید مسائل پیدا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، شناخت نہ ہونے والے افراد کی لاشوں کی لاوارث تدفین ایک الگ معروضی اور اخلاقی المیہ ہے جس پر معاشرتی سطح پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ انتظامیہ اور موٹروے پولیس کی کارکردگی پر سوالات عوام اور تعلیمی و سماجی حلقوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ جامشورو اور موٹروے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موٹروے پولیس کی موجودگی کے باوجود قوانین کی پاسداری کو یقینی نہیں بنایا جا رہا۔ چالان کاٹنے اور جرمانے عائد کرنے کا روایتی طریقہ کار حادثات کی روک تھام میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ جب تک نامعلوم گاڑیوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی اور انکوائری کا ٹھوس نظام قائم نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک ڈرائیوروں میں قانون کا خوف پیدا نہیں ہو سکتا۔ سفارشات اور حل کے لیے ضروری اقدامات ایم 9 موٹروے کو محفوظ بنانے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے درج ذیل فوری اور لائحہ عمل پر مبنی اقدامات کی اشد ضرورت ہے: سپیڈ کیمروں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ میں اضافہ: موٹروے کے تمام حساس حصوں بالخصوص جامشورو اور اس کے گردونواح میں خودکار اسپیڈ کیمرے اور نائٹ ویژن ڈیوائسز نصب کی جائیں۔ ہٹ اینڈ رن کے خلاف سخت قوانین: حادثہ کر کے فرار ہونے والی گاڑیوں کا سراغ لگانے کے لیے ٹول پلازوں اور اینٹری/ایگزٹ پوائنٹس کے ڈیٹا کو فوری طور پر سی سی ٹی وی نیٹ ورک سے جوڑا جائے۔ فینسنگ (حفاظتی باڑ) کی مرمت: موٹروے کے دونوں اطراف میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار باڑ کی فوری مرمت کی جائے تاکہ سڑک پر پیدل افراد یا مویشیوں کے اچانک آنے کا راستہ بند ہو سکے۔ پیٹرولنگ میں اضافہ: موٹروے پولیس کی پیٹرولنگ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور الذوالفقار ہوٹل جیسے حادثاتی پوائنٹس پر مستقل چیک پوسٹ یا مانیٹرنگ کی جائے۔ آگاہی مہم اور ڈرائیورز کی سکریننگ: بھاری ٹرینر اور بس ڈرائیوروں کے لیے وقتاً فوقتاً طبی و ذہنی معائنے کی مہم چلائی جائے اور روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے۔ ایڈیٹوریل نوٹ یہ رپورٹ علاقے میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات، مقامی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات اور روڈ سیفٹی کے معروضی حقائق کا احاطہ کرتی ہے۔ خبر کا مقصد کسی ادارے کی دل شکنی کے بجائے نشاندہی کے ذریعے عوامی حفاظت کو یقینی بنانا اور انتظامیہ کو متوجہ کرنا ہے۔ Post navigation لیاقت یونیورسٹی جامشورو میں جدید پیپر لیس امتحانی نظام کا باضابطہ آغاز: طبی تعلیم میں شفافیت اور ڈیجیٹل اصلاحات کا نیا دور حیدرآباد جیم خانہ میں محکمہ لائیو اسٹاک کی پروقار تقریب: نمایاں کارکردگی پر افسران و عملے میں ایوارڈز تقسیم، سابق ڈائریکٹر کو الوداعی خراجِ تحسین