جموں و کشمیر کے ضلع کلگام کے علاقے اکھل میں خطے کا طویل ترین آپریشن 13 اگست 2025 سے 12ویں دن میں داخل ہو چکا ہےبھارتی فوج نے 9 مجاھدین کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا جس میں شروع میں 1600 پھر 2000 اور پھر 4000 اور اب 10000 انڈین فورسز حصہ لے رہی ہے تاہم آب 12 روز گزرنے کے باوجود بھی معرکہ جاری ہےThank you for reading this post, don't forget to subscribe!بھارتی فوج نے میڈیا کوریج روکی ہوئی ہےمقامی سوشل پلیٹ فارم میں دعویٰ ہے کہ 5 تک مجاھدین شہید چکے ہیں اور بقایا 4 اب بھی ڈٹے ہوئے ہیںاس آپریشن میں انڈین فوج کی جانب سے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور الائٹ پیرا کمانڈوز شامل ہیں تاکہ گھنے جنگلات اور قدرتی غاروں میں چھپے بھاری ہتھیاروں سے لیس مجاھدین کا سراغ لگایا جا سکےاور اسی لئے مشتبہ ٹھکانوں پر فضاء سے پر بارودی مواد گرایا گیا ہےاعلیٰ فوجی و سول حکام، بشمول جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نلین پربھات اور فوج کے ناردرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پرتیک شرما، آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیںآخری اطلاعات تک وقفے وقفے سے فائرنگ جاری ہےمقامِ واقعات کے نزدیک شہری آمدورفت ختم کر دی گئی ہے انٹرنیٹ و موبائل سروس بھی بند کر دی گئی ہےیہ کارروائی حالیہ برسوں میں کشمیر کے طویل ترین معرکوں میں شمار کی جا رہی ہےجو ستمبر 2023 کے کوکرناگ کے 7 روزہ انکاؤنٹر سے بھی طویل ہو چکی ہےگزشتہ دنوں اس معرکے میں مرنے والے دو اہلکاروں کے گھر والوں نے میڈیا کو بتایا کہ فوجیوں کو کھانے کیلئے کچھ نہیں مل رہا اور ان کے مرنے والے فوجیوں نے واٹس ایپ کال پر لائیو مناظر دکھائے اور بتایا کہ ہم کئی دنوں سے بھوکے لڑ رہے ہیںAbout The Author اردو نیوزاردو نیوز اردو اے بی سی کے ایڈمن ہیں اور گزشتہ ۸ سال سے یہ فرائص سر انجام دے رہے ہیں۔ See author's posts Post navigationچیف جسٹس پاکستان کی پنشن اور مراعات میں نمایاں اضافہ پاکستان ہندکووان تحریک کے زیر اہتمام یوم آزادی کی شاندار تقریب