اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کو ایک جدید اور محفوظ “اسمارٹ سٹی” میں تبدیل کرنے کے وژن کے تحت اسلام آباد میں پہلی جدید “پیلیکن کراسنگ” (Pelican Crossing) نصب کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سڑک پار کرنے والے پیدل چلنے والوں کو تحفظ فراہم کرنا اور شہر کے ٹریفک نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہے۔Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!پیلیکن کراسنگ کیا ہے؟پیلیکن کراسنگ ایک ایسا جدید سگنل سسٹم ہے جو پیدل چلنے والوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ بٹن دبا کر ٹریفک کو روک سکیں اور بحفاظت سڑک پار کر سکیں۔خودکار نظام: جب کوئی پیدل چلنے والا بٹن دباتا ہے، تو ٹریفک سگنل سرخ ہو جاتا ہے، جس سے گاڑیاں رک جاتی ہیں اور شہری محفوظ طریقے سے دوسری طرف جا سکتے ہیں۔صوتی اشارے: یہ نظام بصارت سے محروم افراد کے لیے صوتی اشارے (بیپ) بھی فراہم کرتا ہے تاکہ وہ آواز سن کر جان سکیں کہ سڑک پار کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔افتتاح اور مقاماسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے (CDA) کے حکام نے اس پہلے منصوبے کا افتتاح شہر کی ایک مصروف ترین شاہراہ پر کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجرباتی بنیادوں پر لگایا گیا ہے اور جلد ہی شہر کے دیگر اہم مقامات، بالخصوص اسکولوں، ہسپتالوں اور شاپنگ مالز کے قریب ایسی مزید کراسنگز نصب کی جائیں گی۔اسمارٹ سٹی وژن کا حصہیہ منصوبہ اسلام آباد کو “اسمارٹ سٹی” بنانے کے وسیع تر پروگرام کا ایک اہم حصہ ہے:پیدل چلنے والوں کا تحفظ: شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات، جن میں پیدل چلنے والے نشانہ بنتے ہیں، ان میں کمی لانے کے لیے یہ ٹیکنالوجی ناگزیر تھی۔ٹریفک کی روانی: اس نظام سے ٹریفک کے بہاؤ میں خلل پڑے بغیر شہریوں کو راستہ ملے گا، کیونکہ سگنل صرف ضرورت پڑنے پر ہی سرخ ہوگا۔ٹیکنالوجی کا استعمال: سی ڈی اے اب شہر کی نگرانی اور انتظام کے لیے جدید سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال پر توجہ دے رہا ہے۔انتظامیہ کا موقفچیئرمین سی ڈی اے نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اسلام آباد کو ایک ایسا شہر بنانا چاہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا کرے۔ پیلیکن کراسنگ کی تنصیب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ سڑکوں پر پیدل چلنے والوں کو وہی اہمیت ملے جو گاڑی سواروں کو حاصل ہے۔”شہریوں کا ردِ عملاسلام آباد کے شہریوں نے اس جدید سہولت کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تیز رفتار شاہراہوں پر سڑک پار کرنا ہمیشہ ایک مشکل اور خطرناک مرحلہ ہوتا تھا، لیکن اس سسٹم سے اب بوڑھوں، بچوں اور معذور افراد کو خاص طور پر بہت سہولت ملے گی۔مستقبل کے منصوبےانتظامیہ کے مطابق، اسمارٹ سٹی وژن کے تحت اگلے مرحلے میں:پورے شہر کے سگنلز کو ایک مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کیا جائے گا۔ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر خودکار چالان (E-Challan) کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔پیدل چلنے والوں کے لیے الگ سے ‘سائیکل ٹریکس’ اور وسیع فٹ پاتھ تعمیر کیے جائیں گے۔اختتامی کلماتاسلام آباد میں پہلی پیلیکن کراسنگ کی تنصیب محض ایک سگنل کی تنصیب نہیں بلکہ یہ اس سوچ کی تبدیلی ہے جو شہروں کو مشینوں کے بجائے انسانوں کے لیے بہتر بنانے پر زور دیتی ہے۔ امید ہے کہ یہ جدید نظام دارالحکومت کی سڑکوں کو مزید محفوظ اور سفر کو خوشگوار بنائے گا۔About The Author حنا خانحنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ See author's posts Post navigationکمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان نئی جھڑپیں: کشیدگی ختم کرنے کے لیے پہلے دور کے مذاکرات بے سود جدید ‘آکاش این جی’ میزائل سسٹم کا کامیاب تجربہ