Preloader
Jacobabad hospital in bad conditions

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • شہریوں کا احتجاج: جیکب آباد کے سول ہسپتال میں بنیادی طبی سہولیات، ادویات اور ڈاکٹروں کی عدم دستیابی پر مقامی شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
  • سرکاری ہسپتالوں کی زبوں حالی: غریب اور مستحق مریضوں کے لیے واحد سہارا سمجھے جانے والے سرکاری ہسپتال کی بدانتظامی کے باعث مریضوں کو نجی لیبارٹریز اور مہنگی ادویات کے لیے خوار ہونا پڑ رہا ہے۔
  • اعلیٰ حکام سے مطالبات: شہریوں اور سماجی حلقوں نے سیکرٹری صحت سندھ اور ضلاعی انتظامیہ سے ہسپتال کے فوراً ہنگامی معائنے، فنڈز کی شفافیت اور عملے کی موجودگی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • عوامی چیلنجز: گرمی کی شدت، موسمی بیماریوں اور ہسپتال میں ناکافی انتظامات کے باعث جیکب آباد کے عوام کو صحت کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

جیکب آباد (خصوصی رپورٹ):

سندھ کے ضلع جیکب آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال، سول ہسپتال کی ابتر صورتحال اور بنیادی طبی سہولیات کے فقدان پر مقامی شہریوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ ہسپتال میں ادویات کی شدید قلت، ڈاکٹروں اور عملے کی غیر حاضری اور نفاذِ صفائی کے ناقص انتظامات پر شہری انتظامیہ اور محکمہ صحت کے خلاف پھٹ پڑے۔ نادار مریضوں کے لیے واحد امید کا مرکز سمجھا جانے والا یہ ہسپتال خود علاج کا محتاج نظر آتا ہے، جس پر شہریوں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی آبادی کے مطابق، جیکب آباد اور اس کے گرد و نواح کی لاکھوں کی آبادی کا انحصار اسی سرکاری ہسپتال پر ہے۔ تاہم، انتظامی غفلت اور عدم توجہی کے باعث غریب مریضوں کو شدید تکالیف کا سامنا ہے۔ ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو نہ تو مفت ادویات فراہم کی جا رہی ہیں اور نہ ہی ہنگامی بنیادوں پر تمام طبی ٹیسٹس کی سہولت میسر ہے، جس کی وجہ سے غریب عوام کو مجبوری میں نجی کلینکس اور پرائیویٹ لیبارٹریز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

صورتحال کی سنگینی: سول ہسپتال کی موجودہ زبوں حالی کا منظرنامہ

جیکب آباد کا سول ہسپتال جو ماضی میں خطے کا ایک نمایاں طبی مرکز تصور کیا جاتا تھا، آج مختلف مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ ہسپتال کے مختلف شعبہ جات میں مریضوں اور ان کے لواحقین کو جن بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سے چند نمایاں درج ذیل ہیں:

1. ادویات کی عدم دستیابی اور نجی اسٹورز کا بوجھ

سرکاری سطح پر ادویات کی فراہمی کے لیے سالانہ لاکھوں اور کروڑوں روپے کے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں، لیکن ہسپتال کی فارمیسی پر اکثر ضروری ادویات دستیاب نہیں ہوتیں۔ مریضوں کو سمیپل سرنج سے لے کر جان بچانے والی ادویات (Life-Saving Drugs) تک باہر کے پرائیویٹ میڈیکل اسٹورز سے خریدنی پڑتی ہیں، جو غریب خاندانوں کی جیب پر بھاری بوجھ ہے۔

2. طبی عملے اور ماہر ڈاکٹروں کی عدم حاضری

ہسپتال میں کئی اہم شعبوں بشمول شعبہ حادثات (Emergency)، زنانہ وارڈ اور بچوں کے وارڈ میں ماہر ڈاکٹروں کی کمی اور حاضری کا فقدان دیکھا گیا ہے۔ ڈیوٹی پر موجود عملے کے رویے اور غیر حاضری کے باعث دور دراز دیہات سے آنے والے مریض گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔

3. ٹیسٹنگ سہولیات کی نجی شعبے میں منتقلی

سول ہسپتال کی لیبارٹریز اور ایکس رے/الٹرا ساؤنڈ کی مشینیں اکثر غیر فعال یا خراب رہتی ہیں۔ ہسپتال کے اندر ٹیسٹ نہ ہونے کے باعث مریضوں کو باہر کی نجی لیبارٹریز بھیجا جاتا ہے، جہاں ان سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔

جیکب آباد کا جغرافیائی پس منظر اور صحتی اثرات

جیکب آباد پاکستان کے ان علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں درجہ حرارت اکثر 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ شدید ترین گرمی، لو (Heatwave) اور آلودہ پانی کی وجہ سے اس خطے میں مختلف بیماریاں جیسے کہ ہیضہ، معدے کی بیماریاں، ڈائریا، ملیریا اور سن اسٹروک (Heatstroke) عام ہیں۔

اس شدید موسمی صورتحال میں ایک فعال اور تمام سہولیات سے آراستہ ہسپتال کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں۔ لیکن جب سول ہسپتال جیسے مرکزی ادارے میں ایئر کنڈیشننگ، ٹھنڈے پانی اور ہنگامی ادویات کا انتظام نہ ہو تو عام شہریوں کے لیے صحت کا بحران دوگنا ہو جاتا ہے۔

مسئلہ / چیلنجاثرات اور موجودہ صورتحال
ادویات کی فراہمیسرکاری فارمیسی میں ناپید؛ مریض نجی اسٹورز سے خریدنے پر مجبور
ڈاکٹرز و عملہایمرجنسی اور او پی ڈی میں غیر حاضری؛ مریضوں کو طویل انتظار کا سامنا
طبی آلات و ٹیسٹسایکس رے، الٹراساؤنڈ اور لیب مشینیں اکثر خراب؛ نجی لیبز پر انحصار
صفائی و انفرادی دیکھ بھالوارڈز میں صفائی کے ناقص انتظامات؛ پینے کے صاف پانی کی قلت

شہریوں کا ردِعمل اور مطالبات

سول ہسپتال کے باہر میڈیا اور میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی شہریوں اور سماجی رہنماؤں نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ہم ٹیکس دیتے ہیں لیکن جب ہمارے بچے یا بزرگ بیمار ہوتے ہیں تو انہیں سرکاری ہسپتالوں میں انسانوں جیسی سہولیات بھی نصیب نہیں ہوتیں۔

شہریوں نے متعلقہ حکام اور بالخصوص وزیر اعلیٰ سندھ، سیکرٹری صحت، اور ڈپٹی کمشنر جیکب آباد سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے:

  1. ہنگامی دورہ اور جائزہ: ہسپتال کا فوراً غیر اعلانیہ معائنہ (Surprise Visit) کیا جائے تاکہ حقیقی صورتحال اور غفلت برتنے والے عملے کا پتہ چل سکے۔
  2. ادویات کے فنڈز کا آڈٹ: ہسپتال کے لیے منظور شدہ ادویات کی فراہمی اور ان کی تقسیم کے عمل کا شفاف مالیاتی آڈٹ (Financial Audit) کروایا جائے۔
  3. عملے کی بائیومیٹرک حاضری: ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر پیرامیڈیکل اسٹورز کی وقت پر موجودگی یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک سسٹم کو بحال اور مضبوط کیا جائے۔
  4. بنیادی مشینری کی مرمت: ڈائگناسٹک آلات، ایکس رے اور ای آر سی رومز کو فوری طور پر فعال بنایا جائے۔

ممکنہ عوامی ردِعمل اور مستقبل کے خدشات

خبردار کرتے ہوئے مقامی شہریوں نے واضح کیا کہ اگر ہسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے ان سنگین مسائل کا فوری ازالہ نہ کیا تو عوام سڑکوں پر نکلنے اور پرامن احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی زبوں حالی نہ صرف ایک انتظامی ناکامی ہے بلکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ اگر بروقت اصلاحاتی اقدامات نہ کیے گئے تو جیکب آباد اور اس کے گرد ونواح کے غریب اور نادار طبقات میں ناامیدی اور اضطراب مزید بڑھے گا، جو خطے میں مزید معاشی و سماجی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔