Preloader
Unannounced load shading in sakardu

خبر کے اہم نکات (خلاصہ)

  • شدید بجلی بحران: گمبہ سکردو اور اس کے ملحقہ علاقوں میں طویل اور غیر اعلانیہ بجلی کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
  • روزمرہ زندگی پر اثرات: بجلی کی بندش سے پینے کے پانی کی فراہمی، بچوں کی تعلیم، خانگی معمولات اور مقامی کاروبار شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
  • عوامی ردِعمل: مقامی شہریوں اور تاجر برادری نے متعلقہ اداروں بالخصوص محکمہ واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان سے فوری نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔
  • پائیدار حل کا تقاضا: عوامی حلقوں نے پاور ہاؤسز کی فنی خرابیوں کو دور کرنے اور تقسیم کے نظام میں بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات پر زور دیا ہے۔

سکردو (خاص رپورٹ):

گلگت بلتستان کے اہم علاقے گمبہ سکردو میں بجلی کی مسلسل بندش اور طویل غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ شدید سردی اور موسمی تغیرات کے دور میں بجلی کی غائبانہ صورتحال نے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقے اور طالب علموں کو بھی گہرے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ متاثرہ عوام کا کہنا ہے کہ دن کے بیشتر حصے میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث انہیں بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے اور محکمہ واٹر اینڈ پاور کے حکام مسئلے کا مستقل حل نکالنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

گمبہ سکردو کے رہائشیوں نے مقامی انتظامیہ اور گلگت بلتستان حکومت کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر بجلی کی بحالی کا شیڈول جاری کرنے اور لوڈشیڈنگ کی مدت میں کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

صورتحال کی سنگینی: بجلی کی بندش اور مقامی زندگی پر اس کے بدترین اثرات

گمبہ سکردو اور اس کے آس پاس کے وادیوں میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کوئی نیا مسئلہ نہیں، لیکن حالیہ دنوں میں اس کی شدت میں کئی گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ علاقے کے متعدد محلو ں میں روزانہ 14 سے 18 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ جاری ہے، جس نے عام زندگی کی رفتار کو بالکل دھیما کر دیا ہے۔

1. پینے کے پانی کا بحران

سکردو کے بیشتر علاقوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام الیکٹرک واٹر پمپس اور بورنگ سسٹمز پر منحصر ہے۔ بجلی کی مسلسل عدم دستیابی کی وجہ سے واٹر سپلائی سسٹمز غیر فعال ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی حاصل کرنے کے لیے دور دراز کے چشموں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے یا مہنگے داموں ٹینکرز منگوانے پر مجبور ہیں۔

2. بچوں کی تعلیم اور آن لائن تدریس کو پہنچنے والا نقصان

موجودہ دور میں جہاں تعلیمی نظام کا بڑا حصہ ڈیجیٹل وسائل اور انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکا ہے، وہاں بجلی کی غیر یقینی صورتحال نے بچوں اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لیے پڑھائی جاری رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔ لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز چارج نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ اپنے تعلیمی ہوم ورک اور ریسرچ کے کام سے محروم ہو رہے ہیں۔

3. مقامی معیشت اور تاجر برادری کا استحصال

سکردو اور خصوصاً گمبہ کے کاروباری مراکز میں درزی، ویلڈنگ شاپس، فوٹو کاپی سینٹرز، کمپیوٹر لیبز اور جنرل اسٹورز چلانے والے افراد کا روزگار بجلی پر ہی منحصر ہے۔ بجلی کی طویل بندش کے باعث ان محنت کشوں کی روزانہ کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے اور کئی چھوٹے کاروبار بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

پس منظر: گلگت بلتستان میں توانائی کا دائمی بحران

گلگت بلتستان قدرتی پانی اور گلیشیئرز کی وافر مقدار سے مالا مال خطہ ہونے کے باوجود طویل عرصے سے شدید توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ اگرچہ خطے میں ہائیڈرو پاور (پانی سے بجلی بنانے) کے بہترین مواقع موجود ہیں، لیکن بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی اور پرانے پاور ہاؤسز کے باعث مانگ اور رسد میں ایک بڑا فرق برقرار ہے۔

بحران کے بنیادی اسباب ایک نظر میں

بحران کی وجہتفصیل اور اثرات
موسمی اثرات اور پانی کا بہاؤسردیوں کے موسم میں گلیشیئرز کا پگھلاؤ سست ہونے کی وجہ سے ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ کم ہو جاتا ہے، جس سے ہائیڈرو پاور ہاؤسز کی پیداوری صلاحیت 60 سے 70 فیصد تک گر جاتی ہے۔
ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کی خامیگمبہ سکردو میں بجلی پہنچانے والے پرانے ٹرانسفارمرز اور ترسیلی تاریں اضافی بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہیں، جس کی وجہ سے اکثر تکنیکی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔
تکنیکی دیکھ بھال میں تاخیرپاور جنریٹنگ یونٹس کی بروقت اور باقاعدہ دیکھ بھال (Maintenance) نہ ہونا اور اسپیئر پارٹس کی عدم دستیابی بحران کو مزید گہرا کرتی ہے۔
منصوبہ بندی کا فقدانآبادی اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافے کے مقابلے میں نئے بجلی گھروں کی تعمیر کی رفتار انتہائی سست ہے۔

عوامی ردِعمل اور حکام سے فوری مطالبات

گمبہ سکردو کے مقامی صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے مطابق، عوام میں بجلی کے اس بحران پر گہری بے چینی پائی جاتی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے شہری سوشل میڈیا پر “گمبہ سکردو کو بجلی دو” کے نام سے مہمات چلا رہے ہیں اور مقامی پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہروں کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔

مقامی معززین اور شہریوں نے متعلقہ حکام اور محکمہ واٹر اینڈ پاور کے اعلیٰ عہدیداروں سے درج ذیل فوری اور ناگزیر مطالبات پیش کیے ہیں:

  1. اعلانیہ اور متوازن شیڈول: ہنگامی بنیادوں پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم کیا جائے اور اگر لوڈشیڈنگ ضروری ہے تو اس کا ایک واضح، باقاعدہ اور متوازن ٹائم ٹیبل جاری کیا جائے۔
  2. متبادل ذرائع کا استعمال: ہنگامی حالت میں ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور پانی کے نظام کو بحال رکھنے کے لیے متبادل بجلی (سولر سسٹمز یا ڈیزل جنریٹرز) کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
  3. تکنیکی ٹیموں کی تشکیل: گمبہ سکردو کے تمام فیڈرز اور ٹرانسفارمرز کا سائنسی اور تکنیکی جائزہ لینے کے لیے ایک مخصوص انجینئرنگ ٹیم بھیجی جائے تاکہ لائن لاسز اور فالٹس کو فوری طور پر درست کیا جا سکے۔
  4. طویل المدتی منصوبوں کی منظوری: گمبہ کے قریب موجود ندی نالوں پر چھوٹے سائز کے مائیکرو ہائیڈل پاور پروجیکٹس کا فوری آغاز کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

صحافتی نقطہ نظر: مسئلے کا پائیدار حل ہی واحد راستہ ہے

ایک صحافتی اور ایڈیٹوریل زاویے سے دیکھا جائے تو بجلی کا یہ بحران صرف ایک مقامی انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ علاقے کے سماجی اور معاشی مستقبل سے جڑا ایک ہنگامی معاملہ ہے۔ سکردو جو کہ گلگت بلتستان کا ایک اہم سیاحتی اور تجارتی مرکز ہے، وہاں بنیادی سہولیات کا اس طرح ناپید ہونا تشویش ناک ہے۔

اگرچہ جغرافیائی اور موسمی حالات کے باعث سردیوں میں پانی کا بہاؤ کم ہونا ایک فطری چیلنج ہے، تاہم اس کے پیش نظر بروقت حکمتِ عملی اور متبادل ذرائع مثلاً سولر اور تھرمل انرجی کا استعمال کر کے اس بحران کی شدت کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا تھا۔

حکومتِ گلگت بلتستان اور محکمہ واٹر اینڈ پاور کے حکام پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گمبہ سکردو کے شہریوں کی پکار سنیں اور محض کاغذی کارروائیوں اور روایتی دلاسوں کی بجائے زمین پر فوری اور عملی اقدامات کریں۔ بجلی کی فوری بحالی ہی اس وقت خطے میں عوامی تشویش کو دور کرنے اور معمولاتِ زندگی کو بحال کرنے کا واحد حل ہے۔