Preloader
JUI session held at Mubarak pur

خبر کا خلاصہ (اہم نکات)

  • صدارت و مقام: یو سی مبارک پور (جیکب آباد) کی مجلسِ شوریٰ و عاملہ کا اہم اجلاس امیرِ جمعیت مولانا مفتی عبدالسلام بھٹو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔
  • عالمِ امن کانفرنس و بیانیہ: عالمِ امن کانفرنس کی تیاریوں کو تیز کرنے، تحفظِ حرمین شریفین اور قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
  • تنظیمی اعتما د: تحصیل ٹھل اور ضلع جیکب آباد کی قيادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے پر زور دیا گیا۔
  • سماجی مسائل کا تدارک: مبارک پور میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں پر تشویش کا اظہار اور مقامي انتظامیہ سے فوری و مؤثر کارروائی کا مطالبات شامل ہیں۔

جیکب آباد: تنظیمی اور سماجی محاذ پر جمعیت علماء اسلام کا تحرک

جیکب آباد (خاص رپورٹ: اے جی بلوچ) تحصیل ٹھل کی یونین کونسل مبارک پور میں مذہبی اور سیاسی معرکہ آرائی و تنظیمی سرگرمیوں کو ایک نیا تحرک ملا ہے۔ جمعیت علماء اسلام یونین کونسل مبارک پور کی مجلسِ شوریٰ اور مجلسِ عاملہ کا ایک انتہائی اہم، باقاعدہ اور جامع اجلاس منعقد ہوا، جس میں دینی، تنظیمی، ملي اور مقامی سماجی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ یہ اجلاس یونین کونسل کے امیر حضرت مولانا مفتی عبدالسلام بھٹو کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں علاقے بھر کے سرکردہ علماء کرام، مشائخ اور تنظیمی ذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس کے دوران موجودہ ملکي سیاسی صورتِ حال، بالخصوص قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے مؤقف، حرمین شریفین کی پاسبانی، آئندہ منعقد ہونے والی عالمِ امن کانفرنس کے انتظامات اور مبارک پور شہر کے مقامی مسائل کو زیرِ بحث لایا گیا۔ تمام ممبران نے تنظیمی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے اور عوام و علماء کے درمیان رابطے کو تیز تر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اجلاس کے اہم فیصلوں اور شرکاء کا ایک نظر میں جائزہ

درج ذیل نکات میں اجلاس میں کیے گئے بنیادی فیصلوں اور شرکت کرنے والی اہم شخصیات کی تفصیل فراہم کی گئی ہے:

شمارشعبہ / موضوعکی جانے والی پیشرفت و فیصلے
1صدارتحضرت مولانا مفتی عبدالسلام بھٹو (امیر جمعیت علماء اسلام یوسی مبارک پور)
2عالمِ امن کانفرنسکانفرنس کے لیے دعوتی مہم، عوامی رابطوں اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کا عزم
3نظریاتی و ملی عزمحرمین شریفین کے تحفظ اور قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کا دفاع
4تنظیمی ڈھانچہتحصیل ٹھل اور ضلع جیکب آباد کی قيادت پر مکمل اعتماد کا اظہار
5سماجی اصلاحاتمبارک پور میں جرائم اور برائیوں کے خاتمے کے لیے مقامی انتظامیہ کو تحریری متوجہ کرنا
6نمایندہ شرکاءمولانا رشید احمد بھٹو، مولانا عبدالواحد مستوئی، کرم اللہ مہر، مولوی ارشاد احمد مہر، مولانا کرم اللہ بھٹو، مولانا کفایت اللہ بھٹو، حافظ قائم بھٹو اور دیگر

عالمِ امن کانفرنس کی تیاریاں اور بین الاقوامی و ملی تناظر

اجلاس کے دوران سب سے نمایاں پہلو آئندہ منعقد ہونے والی “عالمِ امن کانفرنس” کے انتظامات اور تیاریوں کا جائزہ تھا۔ اراکینِ شوریٰ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر درپیش چیلنجز کے مقابلے کے لیے امن، اخوت اور دینی یکجہتی کا پیغام عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

“جمعیت علماء اسلام ہمیشہ سے ملک و ملت کے پاسبان کے طور پر ابھری ہے۔ عالمِ امن کانفرنس صرف ایک رواجی پروگرام نہیں بلکہ یہ امتِ مسلمہ کو درپیش خطرات، امنِ عالم کے قیام اور دینی و مذہبی اقدار کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط آواز ثابت ہوگی۔”

اس سلسلے میں یونین کونسل مبارک پور کی سطح پر تمام ولیج کونسلوں اور گوٹھوں (دیہاتوں) میں عوامی رابطہ مہم شروع کرنے اور عوام الناس کو اس کانفرنس کے مقاصد سے آگاہ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا۔

تحفظِ حرمین شریفین اور قائدِ جمعیت کے بیانیے کی حمایت

اجلاس میں دنیا بھر میں مسلم امت کے اہم مقدس مقامات، بالخصوص حرمین شریفین کے تحفظ اور حرمت کا تفصیلی ذکر کیا گیا۔ اراکینِ شوریٰ نے یک زبان ہو کر اس عزم کو دہرایا کہ حرمین شریفین کے تحفظ و سلامتی کے لیے ہر ممکن اور ہر سطح کی قربانی دی جائے گی۔

اس کے ساتھ ساتھ، اجلاس نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے پر مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کیا۔ اجلاس کا واضح مؤقف تھا کہ:

  • یکسوئی اور ہم آہنگی: قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن کا بیانیہ ہی دراصل ہر عام اور خاص کارکن کا بیانیہ ہے۔
  • نظریاتی پاسداری: قائدین کے فیصلے اور حکمتِ عملی ملک کے جمہور، آئین کی بالادستی اور دینی تشخص کی ضمانت فراہم کرتے ہیں۔
  • پختہ عزم: جماعت ہر سیاسی اور نظریاتی میدان میں مرکزی و صوبائی قيادت کے فیصلوں پر لبیک کہے گی اور مخالفانہ پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے گی۔

ضلعی و تحصیلی قيادت پر اعتماد اور تنظیمی استحکام

کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت کی طاقت اس کے نچلے درجے کی تنظیم اور کارکنان کے باہمی اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ اس اجلاس میں بالخصوص تحصیل ٹھل اور ضلع جیکب آباد کی مقامی قيادت کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

اراکینِ مجلسِ شوریٰ و عاملہ نے تحصیل اور ضلعی قیادت کی کاوشوں پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی قیادت میں کامل اعتماد کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ یونین کونسل مبارک پور کے تمام بنیادی یونٹوں کو ازسرِ نو فعال کیا جائے گا۔ مساجد، مدارس اور عوامی سطح پر تربیتی نشستیں منعقد کی جائیں گی تاکہ کارکنان کی فکری اور تنظیمی تربیت کو یقینی بنایا جا سکے اور تنظیم کی جڑیں عوام میں مزید گہری ہوں۔

مبارک پور کے سماجی و اخلاقی مسائل پر تشویش اور انتظامیہ سے مطالبات

اجلاس کا ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع مبارک پور اور اس کے گرد و نواح میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیاں، جرائم اور اخلاقی تنزلی تھی۔ اراکین نے مبارک پور میں روز بروز بڑھتے ہوئے منفی رجحانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

علمائے کرام نے نشاندہی کی کہ علاقے میں امن و امان کا قیام اور اخلاقی ماحول کی بہتری مذہبی قائدین کے ساتھ ساتھ حکومتی و انتظامی اداروں کی بھی بنیادی ذمہ داری ہے۔ شرکاء نے انتظامیہ سے درج ذیل مطالبات کیے:

  1. جرائم کا خاتمہ: مبارک پور اور ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں اور سماجی برائیوں کے اڈوں کا فوراً خاتمہ کیا جائے۔
  2. امن و امان کی بحالی: شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور دیگر انتظامی اداروں کا گشت بڑھایا جائے۔
  3. صحت مند معاشرہ: نوجوان نسل کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے مثبت، تعلیمی اور اخلاقی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

شرکاء نے انتباہ کیا کہ اگر انتظامیہ نے بروقت ان سماجی مسائل پر توجہ نہ دی تو دینی قیادت عوام کو ساتھ ملا کر پرامن اور آئینی طریقے سے آواز بلند کرنے پر مجبور ہوگی۔

اختتامی دعا اور مستقبل کا لائحہ عمل

اجلاس کے اختتامی سیشن میں قائدین نے تمام اراکین کو متفقہ طور پر تنظیمی نظم و ضبط قائم رکھنے اور پارٹی پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک کی سلامتی، تنظیمی اتحاد، حرمین شریفین کی حفاظت، غلبہ اسلام اور خطے کے عوام کی خیر و فلاح کے لیے خصوصی رقت آمیز دعا کی گئی۔

مجموعی طور پر یو سی مبارک پور کا یہ اجلاس مقامی سیاسی و دینی افق پر دور رس نتائج کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف تنظیمی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ مقامی سطح پر درپیش مسائل کے حل کی طرف بھی مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔