خبر کے اہم نکات (خلاصہ) بڑا واقعہ: دنیا کے بلند ترین میدانوں میں شمار ہونے والے دیوسائی سے سکردو جانے والی مرکزی شاہراہ سدپارہ جھیل کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل بند ہو گئی ہے۔ موجودہ صورتحال: سڑک کی بندش کی وجہ سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت سینکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاح اور مقامی افراد گھنٹوں سے پھنسے ہوئے ہیں۔ سیاحوں کا مطالبہ: متاثرہ افراد نے گلگت بلتستان انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے بھاری مشینری کے ذریعے ہنگامی بنیادوں پر سڑک کھول کر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔ انتظامی موقف: مقامی انتظامیہ اور محکمہ مواصلات کے مطابق عملہ اور بھاری مشینری موقع پر پہنچا دی گئی ہے، تاہم پہاڑ سے مزید پتھر گرنے کی وجہ سے بحالی کے کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دیوسائی سکردو شاہراہ پر لینڈ سلائیڈنگ: صورتحال اور ابتدائی تفصیلات سکردو (خصوصی رپورٹ): دیوسائی نیشنل پارک سے سکردو کی جانب انے والی مرکزی شاہراہ سدپارہ کے مقام پر اچانک خوفناک لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے مکمل طور پر مسدود ہو گئی ہے۔ پہاڑی تودہ گرنے سے سڑک کا ایک بڑا حصہ ملبے کے نیچے دب گیا ہے جس کی وجہ سے شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ اس ناگہانی واقعے کے نتیجے میں دیوسائی کی سیر سے واپس لوٹنے والے اور سکردو جانے والے سینکڑوں سیاح کھلے آسمان تلے پھنس کر رہ گئے ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب پہاڑ کا ایک بڑا حصہ اچانک دھماکے سے نیچے آ گرا، جس کے نتیجے میں بڑی بڑی چٹانیں اور مٹی کا ملبہ سڑک پر پھیل گیا۔ خوش قسمتی سے لینڈ سلائیڈنگ کے وقت کوئی گاڑی ٹھیک اس کے نیچے نہیں تھی، جس سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم سڑک بلاک ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ متاثرین کی مشکلات اور موجودہ صورتحال سدپارہ کے مقام پر سڑک کی بندش کے باعث پھنس جانے والے سیاحوں میں خواتین، معمر افراد اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ علاقے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے باعث کھلے آسمان تلے محصور افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاحوں کے مطابق دیوسائی کے بلند و بالا اور سرد علاقے سے واپسی پر کھانا پینا اور پانی کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ کئی گاڑیوں میں ایندھن (فیول) بھی ختم ہونے کے قریب ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کے ہیٹر چلانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک محصور سیاح کا بیان: “ہم گزشتہ کئی گھنٹوں سے یہاں گاڑیوں میں بند پڑے ہیں۔ بچوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں اور شدید سردی کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہو رہی ہے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ کم از کم پیدل گزرنے کا راستہ یا ہنگامی امداد فراہم کرے۔” انتظامیہ کے اقدامات اور ریسکیو آپریشن واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سکردو، گلگت بلتستان ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GBDMA) اور محکمہ مواصلات وتعمیرات (PWD) کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں۔ انتظامیہ نے سڑک سے ملبہ ہٹانے کے لیے بلڈوزر اور ایکسیویٹرز کی مدد سے ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ تاہم، مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پہاڑ کے بالائی حصے سے مسلسل چھوٹے بڑے پتھر گرنے کی وجہ سے بحالی کے کام میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ مشینری کے ڈرائیوروں اور امدادی ٹیموں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط کے ساتھ کام کیا جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات اور انتظامیہ نے درج ذیل اہم ہدایات اور احکامات جاری کیے ہیں: سیاحوں کے لیے ہدایت: سکردو اور دیوسائی کی طرف سفر کرنے والے تمام مسافروں کو فی الحال سدپارہ روڈ پر سفر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ متبادل ذرائع: جہاں ممکن ہو، سیاحوں کو قریب واقع محفوظ مقامات یا ریسٹ ہاؤسز میں منتقل ہونے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ مشینری کا استعمال: سڑک کے دونوں اطراف سے ملبہ ہٹانے کے لیے بھاری لوڈرز اور بلڈوزرز کام کر رہے ہیں۔ دیوسائی اور سدپارہ شاہراہ کی جغرافیائی اہمیت اور پس منظر دیوسائی جس کا شمار دنیا کے دوسرے بلند ترین سطح مرتفع (Plateau) میں ہوتا ہے، اپنی قدرتی خوبصورتی، نایاب جنگلی حیات خصوصاً ‘براؤن بیئر’ اور دلکش میدانی مناظر کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کا مرکز ہے۔ دیوسائی جانے کا سب سے اہم اور زیادہ استعمال ہونے والا راستہ سکردو سے سدپارہ جھیل کے پاس سے گزرتا ہے۔ زمین کی ساخت اور لینڈ سلائیڈنگ کے اسباب: گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلہ جات (ہمالیہ اور قراقرم) جغرافیائی طور پر غیر مستحکم سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں سڑکوں کی بلاکنگ کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں: موسمیاتی تبدیلیاں: درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی، برف پگھلنے کے عمل اور بے وقت بارشوں کی وجہ سے پہاڑوں کی مٹی نرم ہو جاتی ہے۔ پہاڑوں کا کٹاؤ: سدپارہ اور دیوسائی کے علاقے میں پہاڑیاں چٹانی ہونے کے ساتھ ساتھ بھر بھری بھی ہیں، جہاں معمولی زلزلے کے جھٹکوں یا بارش سے لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ رہتا ہے۔ محدود راستے: دیوسائی اور سکردو کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کے لیے یہی ایک مرکزی شاہراہ ہے، جس کے بلاک ہونے پر کوئی فوری متبادل راستہ میسر نہیں ہوتا۔ سیاحت اور مقامی معیشت پر اثرات گلگت بلتستان کی معیشت کا بڑا دارومدار سیاحت پر ہے۔ سدپارہ کے مقام پر اس قسم کے واقعات سے نہ صرف سیاحوں کو شدید اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ مقامی ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹرز اور ٹور گائیڈز کا کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹ انڈسٹری: شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے درجنوں جیپیں اور سیاحتی گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے اگلے ٹورز کی بکنگز منسوخ ہو رہی ہیں۔ مقامی آبادی کا رابطہ: اس روڈ کی بندش سے صرف سیاح ہی نہیں بلکہ دیوسائی کے پاس واقع وادیوں کے مقامی باشندے بھی سکردو شہر سے کٹ کر رہ گئے ہیں، جنہیں ادویات اور اشیائے خوردونوش کی فراہمی میں دشواری ہو سکتی ہے۔ عددی جائزہ اور اہم اعداد و شمار حادثے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا ایک جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے: پہلوتفصیلاتمقامِ حادثہسدپارہ جھیل کے قریب، دیوسائی سکردو شاہراہمتاثرہ افراداندازاً 300 سے 500 ملکی و غیر ملکی سیاحٹریفک کی صورتحالدونوں اطراف تمام اقسام کی گاڑیوں کے لیے مکمل بندامدادی ادارےڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سکردو، GBDMA، اور PWDبزرگ و بچےپھنسے ہوئے افراد میں 30 فیصد سے زائد خواتین اور بچے ایڈیٹوریل نوٹ اور مستقبل کا لائحہ عمل پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ ایک قدرتی آفت ہے، تاہم قبل از وقت منصوبہ بندی اور جدید تکنیک کے استعمال سے اس کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ دیوسائی جیسے اہم سیاحتی مقام کی شاہراہوں پر مستقل بنیادوں پر ‘ایمرجنسی رسپانس یونٹس’ اور بھاری مشینری تعینات رکھے۔ مزید برآں، سیاحوں کے لیے دیوسائی کے داخلی اور خارجی راستوں پر معلوماتی ڈیسک قائم کیے جائیں جہاں انہیں موسم اور سڑک کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔ اگرچہ انتظامیہ سڑک کھولنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے، لیکن محصور سیاحوں کو فوری طور پر ایندھن، گرم کپڑے اور خوراک کی فراہمی یقینی بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سیاحوں کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں، انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور جب تک شاہراہ کو کلیئر قرار نہ دے دیا جائے، غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ Post navigation جیکب آباد: پی پی ایچ آئی مرکز میں مبینہ رشوت خوری کے خلاف احتجاج، انکوائری افسر کی عدم موجودگی پر شہری سراپا احتجاج پنجاب یونیورسٹی میں پنجابی کلچرل ڈے کی تقریب: ڈھول، ٹپے اور پھلکاری کا رنگ، منتظمین نے پرانی سوشل میڈیا ویڈیوز سے متعلق افواہوں کی وضاحت کر دی