Preloader
ethnic violence flares again in India’s Manipur

اہم نکات

  • بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کا دوبارہ آغاز، دو مختلف پرتشدد واقعات میں 5 افراد جان بحق۔
  • ضلع نونی میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران کوکی برادری کے 3 افراد کی ہلاکت، کوکی تنظیموں نے ناگا علیحدگی پسند گروہوں پر بلا اشتعال حملے کا الزام عائد کیا۔
  • مئی 2023 سے جاری میتی اور کوکی برادریوں کے مابین نسلی تصادم میں اب تک سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں۔
  • سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود ریاست میں امن و امان کی بحالی اور نسلی کشیدگی کا خاتمہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

واقعے کی تفصیالات اور حالیہ پرتشدد لہر

بھارت کی دور افتادہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں جاری نسلی و قوم پرستانہ تصادم ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ امفال سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ریاست کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے دو الگ الگ پرتشدد واقعات کے نتیجے میں 5 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ ضلع نونی میں ہفتے کے روز نامعلوم مسلح افراد اور مقامی برادری کے درمیان ہونے والے شدید فائرنگ کے تبادلے میں کوکی برادری سے تعلق رکھنے والے 3 افراد ہلاک ہوئے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے پیشِ نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری موقع پر روانہ کر دی گئی ہے۔

الزامات اور نسلی گروہوں کا موقف

واقعے کے فوراً بعد کوکی برادری کی نمائندہ تنظیموں نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور ناگا علیحدگی پسند گروہوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ کوکی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ حملہ مکمل طور پر بلا اشتعال تھا اور اس کا مقصد علاقے کے پرامن ماحول کو خراب کرنا اور کوکی برادری کو نشانہ بنانا تھا۔

دوسری جانب، علاقے میں ناگا اور میتی برادریوں کے عسکریت پسند گروہوں اور مقامی نمائندوں کی طرف سے اب تک مختلف بیانات اور وضاحتی مواقف سامنے آتے رہے ہیں۔ اس نوعیت کے باہمی الزامات نے خطے میں پائے جانے والے عدم اعتماد اور نسلی خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس سے آئندہ دنوں میں مزید تصادم کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

حقائق اور اعداد و شمار ایک نظر میں

منی پور کے حالیہ بحران سے متعلق بنیادی اعداد و شمار اور پیشرفت درج ذیل ہے:

  • تازہ ترین جانی نقصان: 2 مختلف واقعات میں 5 افراد ہلاک۔
  • ضلع نونی واقعہ: 3 کوکی باشندوں کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت۔
  • حملے کی نوعیت: کوکی تنظیموں کے مطابق بلا اشتعال اور ناگا عسکریت پسندوں کی جانب سے کی گئی کارروائی۔
  • مجموعی تاریخی نقصان (مئی 2023 سے اب تک): 200 سے زائد افراد ہلاک اور 60,000 سے زائد شہری گھر بار چھوڑنے پر مجبور۔
  • متاثرہ بنیادی برادریاں: میتی (اکثریتی میدانی آبادی)، کوکی (پہاڑی قبائلی آبادی)، اور ناگا برادری۔

تنازع کا تاریخی پس منظر اور بنیادی اسباب

منی پور میں جاری یہ نسلی کشیدگی مئی 2023 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب ریاست کی اکثریتی میتی برادری کو ‘مخصوص قبائلی درجے’ (شیڈولڈ ٹرائب) کی فراہمی کے قانونی اور انتظامی فیصلے کے خلاف کوکی اور دیگر پہاڑی قبائل نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ کوکی برادری کا موقف ہے کہ میتی برادری پہلے ہی سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط ہے، اور انہیں قبائلی درجہ دینے سے پہاڑی علاقوں کی زمینوں اور وسائل پر قبائل کے حقوق متاثر ہوں گے۔

اس تنازع نے رفتہ رفتہ ایک بھیانک نسلی اور مسلح تصادم کی شکل اختیار کر لی۔ وادی میں آباد میتی برادری اور پہاڑی علاقوں میں مقیم کوکی برادری کے درمیان مکمل جغرافیائی اور سماجی تقسیم پیدا ہو چکی ہے، جہاں ایک دوسرے کے علاقوں میں جانا انتہائی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

انسانی بحران، بے گھری اور اثرات

اس طویل عرصے سے جاری تشدد کے نتیجے میں ریاست منی پور ایک شدید انسانی بحران کی لپیٹ میں ہے۔ ہزاروں خاندان ریلیف کیمپوں میں بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ تعلیمی ادارے، کاروبار اور زرعی سرگرمیاں سخت متاثر ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ریاست کی معیشت بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

علاوہ ازیں، سڑکوں کی بندش اور حملوں کے خوف سے ضروری اشیائے خورونوش اور ادویات کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خواتین اور بچوں پر اس جنگ کے انتہائی منفی نفساتی اور جسمانی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ریاستی و مرکزی حکومت کا ردِعمل اور امن کی کوششیں

مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے مختلف اوقات میں فوج، پیرا ملٹری فورسز اور بین الصوبائی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی ہے۔ ریاست کے بیشتر علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے اور انٹرنیٹ سروسز کو بارہا معطل کیا گیا ہے تاکہ افواہوں کی گردش کو روکا جا سکے۔

تاہم، ناقدین اور سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف عسکری قوت اور پولیس کی موجودگی کے ذریعے پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ تمام متنازع فریقین، بشمول کوکی، میتی اور ناگا برادریوں کے نمائندوں کو ایک میز پر بٹھا کر سیاسی اور سماجی مذاکرات کا آغاز کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل اور ایڈیٹوریل تجزیہ

ضلع نونی اور دیگر حصوں میں ہونے والے یہ تازہ ترین پرتشدد واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منی پور میں چنگاری ابھی تک دبی ہوئی ہے جو ذرا سی اشتعال انگیزی پر شعلہ بن سکتی ہے۔ بھارت کی مرکزی حکومت اور ریاستی انتظامیہ کو غیر جانبدارانہ اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

جب تک دونوں جانب کے مسلح گروہوں کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اور بے گھر ہونے والے شہریوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، تب تک شمال مشرقی بھارت کی اس اہم ریاست میں امن کی بحالی ایک خواب ہی رہے گی۔ عالمی برادری اور حقوقِ انسانی کے ادارے بھی اس خطے میں انسانی حقوق کی صورتحال اور جاری کشیدگی پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔