Preloader
Miss Universe to Google cloud engineer

اہم نکات (خلاصہ)

  • دوبارہ پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز: مس یونیورس انڈیا 2026ء کی ٹاپ 20 فائنلسٹ امنگا کماوت نے بیوٹی پیجینٹ کے بعد بنگلورو میں گوگل کے دفتر میں بطور کلاؤڈ انجینئر اپنی کارپوریٹ ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لیں۔
  • قومی مقابلے میں نمائندگی: امنگا نے ریاست مدھیہ پردیش کی نمائندگی کرتے ہوئے 52 بہترین امیدواروں میں سے ٹاپ 20 میں جگہ بنائی، جبکہ یہ مقابلہ کیرالہ کی کازیا لز میجیا نے جیتا۔
  • وائرل ڈے ان دی لائف ویڈیو: 14 ستمبر کو امنگا نے سوشل میڈیا پر ایک منٹ کی ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے گوگل کیمپس میں اپنے ورزش، کام اور کیفے ٹیریا کے معمولات کی جھلکیاں دکھائیں۔
  • روایت سے ہٹ کر انتخاب: شوبز اور ماڈلنگ کی دنیا میں مکمل شفٹ ہونے کی روایتی روش سے ہٹ کر امنگا کماوت نے کارپوریٹ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنی پیشہ ورانہ شناخت کو برقرار رکھا ہے۔

بنگلورو (ڈیجیٹل ڈیسک) خوبصورتی کے مقابلوں (بیوٹی پیجینٹس) میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اکثر امیدواروں کا اگلا قدم بالی ووڈ، فیشن انڈسٹری یا ماڈلنگ کی دنیا کی طرف ہوتا ہے۔ تاہم، مس یونیورس انڈیا 2026ء کی ممتاز فائنلسٹ امنگا کماوت نے اس روایتی ڈگر سے ہٹ کر ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ جے پور میں انعقاد پذیر ہونے والے قومی مقابلے میں شاندار کارکردگی دکھانے کے محض چند ہفتوں بعد امنگا نے بنگلورو میں گوگل کے دفتر میں بطور کلاؤڈ انجینئر اپنی ملازمت اور کارپوریٹ زندگی پر دوبارہ توجہ مرکوز کر دی ہے۔

امنگا کماوت کی یہ منفرد متوازن پیش قدمی سوشل میڈیا اور تکنیکی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہی ہے، جہاں وہ ایک ہی وقت میں گلیمر کی دنیا اور سائنسی و تکنیکی شعبے میں کامیابی کی جدید ترین مثال بن کر ابھری ہیں۔

مس یونیورس انڈیا 2026ء: مقابلے کا پس منظر

بھارتی میڈیا کے مطابق، امنگا کماوت نے قومی سطح پر منعقد ہونے والے ‘مس یونیورس انڈیا 2026ء’ کے مقابلے میں اپنی جنم بھومی ریاست مدھیہ پردیش کی نمائندگی کی تھی۔ اس مقابلے میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں امیدواروں میں سے 52 فائنلسٹس کا انتخاب کیا گیا تھا، جن میں سے امنگا اپنی ذہانت، قابلیت اور سحر انگیز شخصیت کے بل بوتے پر ٹاپ 20 امیدواروں کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہیں۔

اس مقابلے سے متعلق بنیادی معلومات درج ذیل ہیں:

  • فائنل مقابلے کا مقام و تاریخ: مس یونیورس انڈیا کا فائنل معرکہ 23 اگست کو راجستھان کے تاریخی شہر جے پور میں منعقد ہوا۔
  • مجموعی فائنلسٹس: ملک بھر کی ریاستوں سے کل 52 امیدوار میدان میں اترے۔
  • امنگا کماوت کا مقام: بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹاپ 20 امیدواروں میں شامل ہوئیں۔
  • فاتح کا نام: مقابلے کا حتمی تاج کیرالہ سے تعلق رکھنے والی کازیا لز میجیا کے سر سجایا گیا۔

گوگل کیمپس میں معمولات: ‘ڈے ان دی لائف’ ویڈیو

جمالاتی مقابلے کے تمام تر گلیمر سے فارغ ہونے کے بعد، امنگا کماوت نے 14 ستمبر کو اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک منٹ کا وی لاگ (Vlog) شیئر کیا۔ اس ویڈیو کا عنوان گوگل بنگلورو کے دفتر میں ان کا ‘معمول کا دن’ تھا، جس نے انٹرنیٹ پر ہزاروں صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔

اس ویڈیو کے ذریعے امنگا کے روزمرہ کے تکنیکی اور کارپوریٹ شیڈول کے اہم اوقات اور مراحل سامنے آئے:

  1. صبح 09:30 بجے: دن کی شروعات، مناسب اور باوقار دفتری لباس کا انتخاب اور لیپ ٹاپ، بیگ و ایئربڈز کے ساتھ گوگل کیمپس کی جانب روانگی۔
  2. صبح 10:30 بجے: کام کے آغاز سے قبل صحت اور تندرستی پر توجہ؛ گوگل کے اندرونی ویلنِس سینٹر میں ٹریڈمل، اسٹریچنگ اور ٹانگوں کی سخت ورزشی روٹین۔
  3. دوپہر 12:30 بجے: کلاؤڈ انجینئرنگ کے تکنیکی کام میں مکمل انہمام؛ لیپ ٹاپ، کوڈنگ اور دستاویزات کے ساتھ دفتری سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز۔
  4. دوپہر 02:10 بجے: گوگل کیفے ٹیریا میں لنچ بریک اور ساتھیوں کے ساتھ کھانے کا وقت، جس کے بعد دوبارہ کام کی ڈیسک پر واپسی۔
  5. شام 04:30 تا 05:30 بجے: کیمپس کے پرسکون حصے میں خاموشی سے کام اور شام کی کافی بریک کے ساتھ دفتری اوقات کا اختتام۔

ٹیکنالوجی اور گلیمر کا توازن: روایتی طرز فکر میں تبدیلی

عام طور پر بیوٹی مقابلے جیتنے یا فائنل تک پہنچنے والی خواتین شوبز، اداکاری اور کمرشل برانڈز کو اپنی بنیادی ترجیح بنا لیتی ہیں۔ تاہم امنگا کماوت کا انتخاب جدید دور کی بااختیار خواتین کی ایک نئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پروفیشنل اور ٹیکنیکل صلاحیتوں کو کسی عارضی گلیمر کے لیے ترک نہیں کیا جاتا۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ امنگا کماوت کی کہانی ان تمام نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے جو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) جیسے پیچیدہ شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور ساتھ ہی اپنے دیگر ذاتی و جمالاتی شوق بھی پورا کرنا چاہتی ہیں۔

کارپوریٹ دنیا اور نوجوان نسل پر اثرات

گوگل جیسے عالمی ٹیکنالوجی ادارے میں کلاؤڈ انجینئر کی حیثیت سے کام کرنا خود ایک بہت بڑی علمی اور تکنیکی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ امنگا نے ثابت کیا ہے کہ ایک پیشہ ور سافٹ ویئر یا کلاؤڈ انجینئر ہوتے ہوئے بھی حسن اور فیشن کی بلند ترین سطحوں پر ملک کی نمائندگی کی جا سکتی ہے۔

امنگا کماوت کا یہ فیصلہ کہ وہ اپنے کیریئر اور تعلیمی بیک گراؤنڈ پر سمجھوتہ نہیں کریں گی، کارپوریٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کے بڑھتے ہوئے کردار کو تقویت دیتا ہے۔ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ محنت، ڈسپلن اور وقت کی بہترین تقسیم سے زندگی کے دو بالکل مختلف محاذوں پر بیک وقت کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

About The Author

Hina Khan

By حنا خان

حنا خان ایک پروفیشنل جرنیلسٹ ہیں اور گزشتہ ۱۳ سال سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔